اخراج یہود میں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی موافقت - دفاعِ…

اخراج یہود میں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی موافقت

  حضرت مولانا علامہ ضیاء الرحمٰن فاروقی شہیدؒ

صفحہ 3 از 3

(رحماء بینہم جلد 3)

بعض شیعوں کی مضحکہ خیز افسوس ناک تاویلات:

مندرجہ بالا روایات کُتبِ اہلِ سنّت سے نہیں بلکہ شیعوں کی مشہور و معروف کتابوں میں موجود ہیں جن میں نکاح کا اقرار کیا گیا ہے مگر افسوس ان چند شیعی مجتہدوں پر جنہوں نے روایات کی موجودگی کے باوجود! نکاح شادی اور اولاد کے اعتراف کے باوجود! اس نکاح کے بارے میں من گھڑت تاویلات کیں اس کی وجہ کیوں پیش آئی؟۔

جواب ظاہر ہے کہ اگر یہ نکاح تسلیم کر لیا جائے تو سیدنا عمرؓ کے مرتبہ و عظمت کا اقرار کرنا پڑتا ہے اس لیے انہوں نے گرگٹ کی طرح ہزاروں رنگ بدلے اور ہر مرتبہ نکاح کو ماننے کے باوجود اپنے سابق مجتہدوں کی مختلف تاویلات سے غیر مطمئن ہو کر نئی تاویلات کا سہارا لیا مگر افسوس کہ بات جہاں تھی وہیں رہی تفصیل میں جائے بغیر ان کی مضحکہ خیز افسوس ناک تاویلات نمبروار ملاحظہ فرمائیے:

1۔ ایسا واقعہ کبھی رونما ہوا تھا نہ ہی کبھی اس قسم کی باتیں ہوئیں۔

2۔ نکاح تو ہوا تھا مگر سیدہ ام کلثومؓ بنتِ علیؓ کے ساتھ نہیں بلکہ بنتِ ابی بکرؓ کے ساتھ۔

3۔ نکاح تو سیدہ ام کلثومؓ بنتِ علیؓ کے ساتھ ہوا مگر ان سے متمع نہ ہو سکا۔

4۔ نکاح ضرور ہوا مگر سیدنا علی المرتضیٰؓ نے اپنے زورِ کرامت سے سیدہ ام کلثومؓ کے بجائے ایک جنسیہ کو بھیج دیا۔

5۔ سیدنا علی المرتضیٰؓ اس نکاح پر ہرگز راضی نہ تھے مگر سیدنا عمرؓ نے ڈرا دھمکا کر یہ نکاح کر لیا۔

6۔ اس نکاح پر بہت جھگڑا ہوا تھا آخرش مجبور ہو کر سیدنا علی المرتضیٰؓ کو زیر ہونا پڑا۔ 

7۔ چونکہ سیدنا عمرؓ ظاہری طور پر کلمہ پڑھتے تھے اس لیے سیدنا علی المرتضیٰؓ نے نکاح کر دیا۔

8۔ سیدنا علی المرتضیٰؓ نے نکاح کر دیا اس میں ان کی پالیسی یہ تھی کہ سیدنا عمرؓ کی اصلاح کی جائے۔

9۔ اس نکاح کا انکار نہیں مگر اصل جواب یہ ہے کہ بطورِ تقیہ اور لاچاری کے کیا گیا ہے۔

10۔ اہلِ بیتؓ کی یہ پہلی شرمگاہ تھی جو ہم سے سیدنا عمرؓ نے چھینی ہے۔ (استغفراللّٰه معاذاللّٰه)۔

مندرجہ بالا تاویلات آپ کے سامنے ہیں اگر ان تاویلات کو تھوڑی دیر کے لیے بھی تسلیم کر لیا جائے تو بتلائیے سیدنا علی المرتضیٰؓ کی ذات عفتِ ماب پر کتنا بڑا حملہ ہوگا؟ شیعوں کی ساری روایات بالکل جھوٹ کا پلندہ بن جائیں گی۔

(رحماءُ بینہم جلد 2)

سو شیعہ مصنفوں پر لازم ہے کہ خواہ مخواہ تاویلات کا سہارا لینے کے بجائے اس نکاح کا اعتراف کر لیں اور سیدنا عمرؓ کی عزت و عظمت کا اعتراف کریں اس لیے کہ وہ سیدنا علی المرتضیٰؓ کے داماد تھے۔ 

سیدنا عمرؓ کے بارے میں سیدنا علیؓ کی نصحیت

جب صالحین کا ذکر ہو تو سیدنا عمرؓ کو بھول نہ جانا۔

(صواعقِ محرقہ صفحہ، 98 بحوالہ رحماءُ بینہم جلد 2)

خمینی صاحب نے اپنی کتاب "کشف اسرار" میں سیدنا عمرؓ کو کافر لکھ ڈالا آہ کہ انہیں کم از کم سیدنا علیؓ ہی کی اس نصحیت کا خیال ہوتا۔

سیدنا عمرؓ کی طرف سے ہدایا کی تقسیم:

اس سلسلے میں بھی ہم پاکستان کے مشہور محقق اور نامور صاحب قلم حضرت مولانا محمد نافع صاحب کی کتاب "رحماءُ بینہم" جلد دوم سے چند اقتباس نقل کرتے ہیں: 

سیدنا عمر فاروقؓ اور سیدنا حسنؓ سیدنا حسینؓ

1۔ سیدنا عمرؓ نے اپنے دور خلافت میں سیدنا حسنؓ اور سیدنا حسینؓ سے 50۔50 ہزار درہم ان کے والد اور بدری صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے برابر مقرر کیا۔ 

(شرح معانی الاثار صفحہ، 181 جلد 2)

2۔ سیدنا عمرؓ نے فتوحاتِ مدائن میں شہنشاءِ ایران کی ایک لڑکی شاہ جہاں جو بعد میں شہربانو کہلائی سیدنا حسنؓ کو عطیہ میں دی اور ان سے بعد میں سیدنا زین العابدینؒ پیدا ہوئے۔

3۔ اسلامی فتوحات میں ایک مرتبہ کپڑا آیا تو اس میں سیدنا حسینؓ کے موافق کوئی پوشاک نہ ملی تو آپؓ نے خصوصی طور پر علاقہ یمن کی طرف دو آدمی روانہ فرمائے وہاں سے مناسب لباس آیا سیدنا حسینؓ نے اسے زیب تن کیا تو سیدنا عمرؓ نے فرمایا اب میری طبیعت خوش ہوئی ہے۔ 

(کنز العمال صفحہ ،610 جلد، 7)


صفحہ 3 از 3