اخراج یہود میں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی موافقت - دفاعِ…

اخراج یہود میں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی موافقت

  حضرت مولانا علامہ ضیاء الرحمٰن فاروقی شہیدؒ

صفحہ 2 از 3

غور کیجئے! اگر ان حضرات کے درمیان ذرہ بھر نفرت ہوتی تو سیدنا حسینؓ کو شادی کے لیے جو خاتون عطیہ میں ملی کیا وہ حاصل کرتے؟ کیا مال غنیمت قبول کرتے؟ 

سیدنا علیؓ اور سیدنا فاروقِ اعظمؓ کی باہمی رشتہ داری

سیدنا حضرت علیؓ سیدنا عمرؓ کے خسر تھے

پھر اس حقیقت سے بھی ہر کوئی آگاہ ہے کہ سیدنا ابوبکر صدیقؓ اور سیدنا عمرؓ رسول اللہﷺ کے خسر تھے اور سیدنا عثمانؓ رسول پاکﷺ کے داماد۔

اسی طرح یہ بھی حقیقت ہے کہ جب سیدنا ابوبکرؓ کی وفات ہو گئی تو آپؓ کی زوجہ محترمہ سیدہ اسماء بنت عمیسؓ سے سیدنا علیؓ نے نکاح فرما لیا سیدنا محمد بن ابی بکر(جو سیدنا صدیق اکبرؓ کے فرزند تھے) کی کفالت سیدنا علی المرتضیٰؓ کے ہاں ہی ہوئی۔

نکاح ام کلثومؓ پر اہلِ سنّت اور کتبِ شیعہ کے دلائل

1۔ اس طرح یہ حقیقت بھی اپنی جگہ مسلم ہے کہ سیدنا علی المرتضیٰؓ نے اپنی ایک دختر جو سیدہ فاطمہؓ کے بطنِ مبارک سے تھیں کا نکاح سیدنا عمرؓ کے ساتھ فرما دیا تھا کُتبِ اہلِ سنّت سے قطع نظر شیعوں کے مشہور و معروف عالم قاضی نور اللہ شوستری (1019ھ) لکھتے ہیں: 

نبی دختر عثمانؓ داد 

وعلیؓ دختر بہ عمرؓ فرستاد۔

(مجالس المومنین صفحہ 89 طبع ایران)

نبیﷺ نے اپنی بیٹی سیدنا عثمانؓ کو دی اور سیدنا علیؓ نے اپنی بیٹی سیدنا عمرؓ کو دی:

(الف) شیعہ جماعت کا جو عقیدہ و نظریہ یہ ہے کہ رسول اللہﷺ کی صرف اور صرف ایک ہی بیٹی تھیں جس کا نام سیدہ فاطمہؓ تھا اس کے علاوہ کوئی بیٹی نہ تھی یہ عقیدہ باطل ہو جاتا ہے اس عبارت نے یہ بات کھول کر رکھ دی ہے کہ آپﷺ کی سیدہ فاطمہؓ کے سواء بھی بیٹیاں تھیں جو سیدنا عثمانؓ کے نکاح میں بھی آئی تھی آج کل کے شیعی مجتہدوں کا غوغا کرنا اور قولِ مقبول فی اثبات وحدۃ بنتِ رسولﷺ'' نامی کتاب لکھ کر شائع کرنا نہ صرف حقائق کا منہ چڑانا ہے بلکہ قاضی نور اللہ اور اس جیسے کئی شیعی مجتہدوں پر ایک زنانے دار طمانچہ بھی رسید کرنا ہے مذہبی خود کشی کی اس سے زیادہ عبرت ناک مثال اور کیا ہو گی؟ فاعتبرو یا اولی الابصار۔

(ب) دوسری حقیقت یہ واضح ہو جاتی ہے کہ سیدنا علی المرتضیٰؓ نے اپنی ایک دخترِ نیک اختر سیدہ ام کلثومؓ کا نکاح سیدنا عمرؓ بن الخطاب سے فرمایا تھا اگر آپ مسلمان ہی نہ تھے (بقولِ خمینی) یا آپ ہامان کی طرح تھے (بقول ملا باقر مجلسی حقُ الیقین) تو سیدنا علی المرتضیٰؓ اپنی لختِ جگر کا ان کے ساتھ نکاح فرماتے؟ ع اس گھر کو آگ لگ گی گھر کے چراغ سے۔

2۔ شیعہ کی مشہور معتبر و مستند مجموعہ حدیث ''فروع کافی'' از علامہ محمد بن یعقوب کلینی (329ھ) نے تو اس موضوع پر ایک مستقل باب باندھا ہے عنوان یہ ہے: ''باب فی ترویج ام کلثومؓ'' (یہ باب سیدہ أمِ کلثومؓ کے نکاح کے بیان میں ہے) اس باب کے تحت ملا کلینی نے سیدنا جعفر صادقؒ سے دو روایتیں نقل کی ہیں جن سے ثابت ہوتا ہے کہ آپ کا نکاح سیدنا عمرؓ سے ہوا تھا۔ (دیکھئے فروع کافی جلد 2 صفحہ 141 لکھنؤ)

ان دونوں روایتوں کے بارے میں شیعہ حضرات کا کہنا ہے کہ یہ دونوں روایتیں حسن ہیں یعنی ضعیف نہیں۔ (دیکھئے مراۃ العقول صفحہ 448)

علاوہ ازیں اسی فروع کافی میں صفحہ 311 کے تحت بھی دو روایتیں درج ہیں جن سے بھی اس امر کا اثبات ہو جاتا ہے۔

3۔ شیعہ کی مشہور کتاب ''الاستبصار'' مصنفہ شیخ ابو جعفر محمد بن حسن الطوسی (460ھ) کے جزء ثالث صفحہ 185۔186 ''ابواب العدۃ'' میں بھی دو روایت سے اقرار ہے۔ 

4۔ شیعہ گروہ کی مشہور کتاب ''تہذیبُ الاحکام'' مصنفہ شیخ طوسی (460) طبع ایران کے صحفہ 238 کتاب اطلاق باب عدۃ النساء اور صحفہ 380 کتابُ المیراث میں بھی اس کا اقرار ہے۔ 

5۔ شیعوں کے مشہور مجتہد سید مرتضیٰ علم الہدی (406ھ) نے بھی کتاب الشافی صحفہ 116 طبع ایران اور کتاب تنزیہ الانبياء صفحہ 138۔141 طبع ایران میں اس کا اقرار موجود ہے۔ 

6۔ شارح نہج البلاغہ ابنِ ابی الحدید معتزلی شبعی (456ھ) نے بھی شرح جلد 4 صحفہ 876 طبع بیروت میں ایک واقعہ کے ذریعہ اس کا اثبات کیا ہے۔ 

7۔ شیعہ کے مشہور محقق الحلی (676ھ) نے بھی اپنی کتاب ''شرح السلام'' میں ایک مسئلہ بیان کیا کہ آیا ہاشمی عورت کا غیر ہاشمی مرد کے ساتھ نکاح جائز ہے یا نہیں؟ اس عبارت میں گو انہوں نے کھل جاتا ہے بہر حال اس کتاب کی شیعوں کے دوسرے بزرگ زین العابدین احمد العاملی المعروف الشہید (964ھ) نے شرح لکھی جس میں اس عبارت کے تحت موصوف نے شرح کی ہے جس سے اصل عبارت کا مقصد متعین ہو جاتا ہے انہوں نے کھل کر اس کا اقرار کیا کہ نکاح ہوا تھا۔ 

(مسالک الافہام شرح شرائع الاسلام کتاب النکاح باب لواحق العقد جلد1 طبع ایران)

8۔ قاضی نور اللہ شوستری کا ایک حوالہ پیچھے گزر چکا ہے علاوہ ازیں اس نے اسی کتاب میں کئی مقامات پر اس کا اقرار کیا ہے دیکھئے صحفہ 76 تذکرہ سیدنا عباسؓ بن عبدالمطلب صفحہ 85 تذکرہ مقداد بن اسود موصوف کی دوسری کتاب مصائب النواصب ہے اس کا ترجمہ فارسی میں ہوا ہے اس کے صفحہ 165 پر بھی اس کا اقرار موجود ہے۔

9۔ تیرہویں صدی کے مشہور شیعہ مورخ مرزا عباس علی قمی خان نے اپنی تصنیف تاریخ طراز مذہب میں ایک مستقل باب (حکایت ترویج سیدی ام کلثومؓ با عمرؓ بن الخطاب) تحریر کیا ہے۔ 

10۔ چودھویں صدی کے مشہور شیعہ مجتہد شیخ عباس قمی (1359ھ) نے بھی اپنی تصنیف منتہی الامال کی جلد اول فضل ششم صفحہ 186 در ذکر اولادِ امیر المومنینؓ میں اس کا ذکر کیا ہے اور صاف صاف لکھا ہے کہ:

یعنی سیدہ ام کلثومؓ کا سیدنا عمرؓ کے ساتھ نکاح ہماری کتابوں میں لکھا ہے۔

ان روایات کی روشنی میں یہ بات پایہ ثبوت کو پہنچ جاتی ہے کہ سیدنا علی المرتضیٰؓ نے اپنی دخترِ نک اختر کا نکاح سیدنا عمرؓ سے فرمایا تھا اور آپ کی اولاد بھی ہوئی تھی یہ اس وقت ہو سکتا ہے جب سیدنا علی المرتضیٰؓ سیدنا عمرؓ کو اعلیٰ درجے کا مسلمان نیک متقی اور بہتر سمجھتے ہوں کیا شیر خدا اسد الله الغالب کے بارے میں یہ عقیدہ رکھا جا سکتا ہے کہ معاذ اللہ ان کی اخلاقی حالت اس قدر گر چکی تھی یا وہ اس قدر بزدل بن گئے تھے کہ اپنی بیٹی کو کافر و ظالم (معاذ اللہ) کو دے دی اور ان کی آنکھوں میں غیرت کی جھلک کوئی دکھائی نہ دی!انا للہ وانا الیہ راجعون۔

صفحہ 2 از 3