خلفائے راشدین رضی اللہ عنہم کی خاندان نبوت صلی اللہ علیہ…

خلفائے راشدین رضی اللہ عنہم کی خاندان نبوت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے رشتہ داریاں باہمی محبت کے اہم مظاہر

  حضرت مولانا علامہ ضیاء الرحمٰن فاروقی شہیدؒ

صفحہ 3 از 3

سیدنا علیؓ سیدنا فاروقِ اعظمؓ کے مشیر کی حیثیت سے سیدنا عمرؓ کی اقتداء

نبی کریمﷺ کی رحلت سے قبل سیدنا صدیقِ اکبرؓ نے نماز کی امامت کرائی تھی ظاہر ہے کہ سیدنا علی المرتضیٰؓ ان نمازوں میں برابر نماز ادا کرتے رہے اسی طرح سیدنا عمرؓ نے اور سیدنا علیؓ کے دورِ خلافت میں بھی آپؓ انہی اکابر اور دوستوں کی اقتداء کرتے رہے آپؓ نے کبھی ناراضگی کا اظہار کیا نہ کوئی احتجاج کیا نہ نمازوں کا اعادہ ضروری سمجھا شیعہ گروہ کے مشہور شاعر مرزا بازل ایرانی نے بھی اس کو تسلیم کیا ہے۔

(دیکھئے حملہ حیدری جلد 2 صفحہ 256)۔

 مگر شیعہ مجتھدوں نے اس بارے میں بھی یہ ہی فتویٰ دیا کہ آپ یہ سارے کام از راہ تقیہ کرتے تھے اور اپنی نمازوں میں (خدا کی طرف متوجہ ہو کر) ان پر لعنت کیا کرتے تھے (نعوذ باللہ من ذالک)

سیدنا عمرؓ کی نیابت

سیدنا عمر فاروقؓ نے جب کبھی کسی ضرورت کی بناء پر مدینہ منورہ سے باہر تشریف لے جاتے تو سیدنا علی المرتضیٰؓ کو مسندِ خلافت پر بٹھا کر جایا کرتے تھے مثلاً:

1۔ یکم محرم 14ھ میں جب سیدنا عمرؓ نے مدینہ سے باہر پانی کے چشمہ حراء پر تشریف لائے اور تمام احباب کو لے کر بہ نفس نفیس غزوہ عراق کی طرف جانے کا عزم کیا تو اپنا نائب اور قائم مقام سیدنا على المرتضیٰؓ کو مقرر کرنے کا فیصلہ فرمایا۔

(البدایہ جلد 7 صفحہ 30 تاریخ طبری جلد 2 صفحہ 83)۔

2۔ 15ھ میں فتح بیتُ المقدس کے لیے جب تشریف لے گئے تو مدینہ طیبہ میں سیدنا علی المرتضیٰؓ کو اپنا نائب مقرر فرمادیا۔

(البدایہ جلد7 صفحہ 55)۔

3۔ 17ھ میں جب سیدنا عمرؓ سفر پر تشریف لے گئے تو اس وقت سیدنا علی المرتضیٰؓ کو اپنا نائب مقرر فرمایا۔

(البدایہ جلد7 صفحہ 55)۔

غور فرمائیے اگر سیدنا علی المرتضیٰؓ سیدنا عمرؓ کی خلافت کو برحق نہ سمجھتے اور ظلم و غضب سے بھر پور حکومت نہ خیال کرتے تو کیا آپ کی نیابت اختیار کرتے جس سے معلوم ہوا کہ آپ کے نزدیک سیدنا عمرؓ کی خلافت برحق تھی اور آپ کی تائید و حمایت ان کے شامل حال رہتی تھی۔

سیدنا عمرؓ کی سفارت

سیدنا عمرؓ نے جب سیدنا علیؓ کو نجران کا والی اور حاکم بنا کر بھیجا تو ساتھ ہی یہ خط بھی تحریر فرما دیا کہ:

میں سیدنا علی ابنِ ابی طالبؓ کو آپ لوگوں کی طرف خاص وصیت کرتا ہوں (اور حکم دیتا ہوں کہ) جو شخص تم میں سے اسلام لائے اس کے ساتھ بہتر و خوش تر معاملہ کیا جائے الخ"۔

(کنز العمال جلد 2 صفحہ 313)۔

اس سے معلوم ہوتا ہے کہ سیدنا علی المرتضیٰؓ سیدنا عمرؓ کی خلافت کو برحق سمجھتے تھے اور آپ کی طرف سے مختلف مقامات پر بھی تشریف لے جاتے تھے غور کیجئے دنیا میں اگر کوئی کسی حکومت کو تسلیم نہیں کرتا تو نہ اس کی مدد و نصرت کرتا ہے نہ اس کی طرف سے والی اور حاکم کا عہدہ قبول کرتا ہے اس لیے کہ وہ اس حکومت کو ہی برحق نہیں سمجھتا جب ایک عام شخص کا یہ حال ہے تو کیا شیرِ خدا اسد اللہ الجبار کے بارے میں یہ عقیدہ رکھا جا سکتا ہے کہ انہوں نے غصب کی ہوئی خلافت کو ہی برحق سمجھ لیا تھا؟ جب یہ نہیں ہو سکتا تو اس کا لازمی نتیجہ یہ ہی ہو گا کہ آپ کے نزدیک سیدنا عمرؓ خلیفہ برحق عادل اور آپ کی خلافتِ راشدہ اور علی منہاج النبوۃ تھی اس لیے تو آپ نے نجران کا والی اور حاکم بنا قبول کیا تھا۔


صفحہ 3 از 3