خلفائے راشدین رضی اللہ عنہم کی خاندان نبوت صلی اللہ علیہ…

خلفائے راشدین رضی اللہ عنہم کی خاندان نبوت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے رشتہ داریاں باہمی محبت کے اہم مظاہر

  حضرت مولانا علامہ ضیاء الرحمٰن فاروقی شہیدؒ

صفحہ 2 از 3

تاریخی حقائق اور احادیثِ رسول کا ذخیرہ نہایت واشگاف انداز میں مسلمانوں کے اجماعی نقطہ نظر کی تائید کر رہا ہے یہاں شیعہ افکار کو کوئی اختیار نہیں یہ جھوٹ اور بے بنیاد نظریہ اسلام کی جڑیں کاٹنے کے لیے وضع کیا گیا ہے 1400 سال سے امت مسلمہ کے تمام گروہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین اور خاندان نبوت کی باہمی محبت و الفت و پیار کا عقیدہ رکھتے ہیں اس میں مسلمانوں کے کسی فرقہ یا جماعت کا کوئی اختلاف نہیں شیعہ چونکہ اسلام کے متوازی ایک الگ جماعت ہے اس لیے اس کے نظریات کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں محمد بن یعقوب کلینی ملا باقر مجلسی اور خمینی کی طرف سے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین اور خاندانِ نبوت کے درمیان باہمی دشمنی اور بغض ثابت کرنے کے لیے جو ایڑی چوٹی کا زور لگایا گیا ہے وہ ہٹ دھرمی اور ضد پر مبنی ہے کوئی صاحبِ انصاف ان حقائق کے بعد شیعہ نقطہ نظر کی تائید نہیں کر سکتا بلکہ ان نظریات کو ائمہ اصلیت کی تعلیمات سے یکسر جدا قرار دے کر مسترد کر دے گا۔

سیدنا علیؓ کی طرف سے سیدنا ابوبکر صدیقؓ کے القاب

رجل مبارک بابرکت شخص۔

( تاریخ طبری جلد 5 صفحہ 156)۔

 نجیب امت شریف مخلص۔

 (مسند احمد جلد 1 صفحہ 132 ترندی صفحہ 541)۔

فاروق حق و باطل میں فرق کرنے والے۔

 (ریاض التفره جلد 1 صفحہ 246)۔

خلیل و صدیق سچے اور پیارے دوست۔

 (ابنِ ابی شیبہ جلد 2 صفحہ 179)۔

القوى الامين زبردست امانت دار۔

(تاریخ طبری جلد5 صفحہ 18)۔

امام ہدایت و راشد صحیح الرائے۔

(تاریخ کبیر جلد 2 صفحہ 180)۔

(بحوالہ رحماءُ بینہم، جلد 2 صفحہ 23)۔

سیدنا عمرؓ اور خاندانِ نبوت

سیدنا عمرؓ کی ہجرت پر سیدنا علیؓ کا ارشاد:

(آنحضرتﷺ کے ہمراہ مکہ سے مدینہ کی طرف سفر)

سیدنا علیؓ فرماتے ہیں: "ہر شخص نے خفیہ طور پر ہجرت کی لیکن سیدنا عمرؓ نے ہجرت کا قصد کیا تو ایک ہاتھ میں تلوار لی اور دوسرے میں تیر اور پشت پر کمان کو لگا کر خانہ کعبہ میں تشریف لائے سات مرتبہ طواف کیا دو رکعتیں مقامِ ابراہیم پر کھڑے ہو کر ادا کیں پھر سردارانِ قریش کے حلقہ میں تشریف لائے اور ایک ایک سے کہا جو شخص اپنی اولاد کو یتیم بیوی کو بیوہ کرانا چاہتا ہے وہ پہاڑ کے اس پار آکر میرا راستہ روک کر دکھائے لیکن کسی میں جرات نہ ہوئی۔

(از تاریخِ اسلام اکبر نجیب آبادی)

دوستانہ ذمہ داری

ادب و احترام کے ساتھ ساتھ سیدنا علی المرتضیٰؓ سیدنا عمرؓ کی ہمیشہ بھلائی چاہتے تھے آپ کی دنیوی اور آخروی زندگی کو بہتر اور اچھی دیکھنے کے آرزو مند رہتے تھے حضرت امام ابویوسفؒ (126ھ) حضرت امام ابوحنیفهؒ (150ھ) سے نقل فرماتے ہیں کہ:

جب سیدنا عمرؓ خلیفہ بنائے گئے تو اس وقت سیدنا علیؓ نے از راهِ ترغیب و تلقین سیدنا عمرؓ سے کہا کہ اگر آپ اپنے سابق خلفاء کے ساتھ ملنا چاہتے ہیں تو اپنی قمیص کو پیوند لگائیے اپنے جوتے و موزے کو پیوند لگائیے دنیاوی امیدیں کم کر دیجئے اور سیر ہو کر نہ کھائیے۔

(کنز العمال جلد 8 صفحہ 219 کتاب الخراج صفحہ 15 مصر)۔

یہ ایک دوستانہ احساس تھا آپ اس امر کو اپنی ذمہ داری سمجھتے تھے کہ اپنے دوستوں کی آخرت کو بہتر اور عمدہ بنانے کے لیے جو تجاویز ہوں وہ پیش کر دی جائیں اگر دوستوں کی بھلائی نہ چاہے تو گویا اس نے حقِ دوستی ہی ادا نہ کیا اس لیے آپ نے ہمیشہ اس کا اہتمام کیا تھا تاریخِ یعقوبی کا مصنف احمد بن ابی يعقوب بن جعفر الكاتب العباسی شیعی (206ھ) بھی اسی قسم کا ایک واقعہ لکھتا ہے کہ:

 "سیدنا علیؓ نے فرمایا کہ یہ تین چیزیں اگر آپ محفوظ کر لیں اور ان پر عمل درآمد کرلیں تو یہ آپ کے لیے دیگر اشیاء سے کفایت کریں گی اور چیزوں کی حاجت نہ رہے گی اور اگر آپ آپ ان کو ترک کر دیں گے تو ان کے سوا آپ کو کوئی چیز نفع نہ دے گی اس وقت سیدنا عمر بن الخطابؓ نے فرمایا بیان کیجئے:

سیدنا علی المرتضیٰؓ نے فرمایا کہ ایک تو قریب و بعید سب لوگوں پر اللہ کے حدود و قوانین جاری کیجئے دوسرا یہ کہ کتابُ اللہ کے موافق رضا مندی اور ناراضگی دونوں حالتوں میں یکساں حکم لگائیے تیسرا یہ کہ وہ سیاہ و سفید ہر قسم کے آدمیوں میں حق و انصاف کے ساتھ تقسیم کیجئے یہ کلام سننے کے بعد سیدنا عمرؓ نے فرمایا کہ مجھے اپنی زندگی کی قسم ہے کہ آپ نے مختصر کلام کیا مگر ابلاغِ تبلیغ کا حق ادا کر دیا ہے۔

(تاریخِ یعقوبی شیعی جلد 2 صفحہ 208 رحماءُ بینہم حصہ دوم صفحہ 126)۔

 اس سے معلوم ہوتا ہے کہ سیدنا عمر فاروقؓ اور سیدنا علی المرتضیٰؓ کے مابین بے پناہ محبت و مودت تھی اور ایک دوسرے کی آخرت کو اچھی دیکھنے کے خواہش مند رہتے تھے ایک دوسرے کو نصیحت کیا کرتے تھے اگر خدانخواستہ ان کے درمیان وہ بات ہوتی جو شیعہ مصنفوں نے پھیلا رکھی ہیں تو بتلائیے کہ سیدنا علیؓ کبھی ایسے کلمات ارشاد فرماتے سیدنا علیؓ کی طرف سے نصیحت کرنا اور بھلائی چاہنا اس امر کا شاہد ہے کہ دونوں ایک دوسرے سے گہری محبت کرتے تھے۔

بے تکلفانہ روابط

دوستی کا لازمی نتیجہ یہ ہے کہ ایک دوسرے سے کندھا ملا کر چلیں ایک دوسرے کا ہاتھ تھامیں ایک دوسرے کو محبت کی نظر سے دیکھیں ایک دوسرے کی بھلائی چاہیں ایک دوسرے کی خوشی میں غمی میں شامل ہوں سیدنا عمرؓ اور سیدنا علیؓ کے بے تکلفانہ روابط کی ایک روایت ملاحظہ فرمائیے:

ایک مرتبہ سیدنا قیس بن عبادہؓ حصول علم و اخلاق کے لیے مدینہ منورہ پہنچے ایک شخص کو دیکھا کہ دو چادروں میں ملبوس ہے سر پر زلفیں ہیں (دوستوں کی طرح) سیدنا عمرؓ کے کندھا مبارک پر ہاتھ رکھے ہوئے ہے لوگوں سے دریافت کیا کہ یہ کون صاحب ہیں؟ انہوں نے بتلایا کہ سیدنا علیؓ بن ابی طالب ہیں۔

(بحوالہ رحماء بينہم تذکرة الحفاظ للذ ہبی جلد 1 صفحہ 21)۔

اگر شیعہ مصنفوں کی اس روایت سے کہ وہ ایک دوسرے کے پکے دشمن اور ان کے درمیان گہری عداوت تھی (معاذ اللہ) سے اتفاق کر لیا جائے تو بتلائیے کہ یہ محبانہ ادائیں ہوتیں؟ ان اداؤں کا ہونا اس امر کا واضح قرینہ ہے کہ وہ ایک دوسرے کے گہرے دوست تھے۔

اور یہ حضرات ان تمام باتوں سے قطعاً بری ہیں جو شیعہ مجتھدوں نے ان کی جانب منسوب کر رکھی ہیں شیعہ کی نئی نسل کو اس تفاوت پر خصوصی طور پر غور کرنا چاہیے۔

صفحہ 2 از 3