سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہ مختصر سوانح و فضائل - دفاعِ…

سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہ مختصر سوانح و فضائل

  حضرت مولانا علامہ ضیاء الرحمٰن فاروقی شہیدؒ

صفحہ 5 از 5

 سیدنا حسنؓ جس خانوادے میں پلے بڑھے وہ علم و فضل کا سرچشمہ تھا اس لیے فضل و کمال کے لحاظ سے وہ بھی نہایت بلند مقام پر فائز ہوگئے ان کا شمار مدینہ منورہ کے ان اصحاب میں ہوتا تھا جو علم و افتاء کے منصب پر فائز تھے۔ ان کے چند فتاویٰ بھی کتابوں میں موجود ہیں سیدنا حسنؓ عہد نبویﷺ میں کمسن تھے تاہم روایت حدیث سے ان کا دامن خالی نہیں رہا ان سے تیرہ احادیث مروی ہیں دینی علوم کے علاوہ وہ اس زمانہ کے مروجہ فنون میں بھی دسترس رکھتے تھے مختلف روایتوں سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ اونچے درجے کے خطیب تھے اور شعر و شاعری میں بھی درک رکھتے تھے شکل و شمائل میں سیدنا حسنؓ رسول اکرمﷺ سے مشابہ تھے سیرت بھی نہایت پاکیزہ تھی ان کے گلشن اخلاق میں زہد و استغناء حلم و تحمل جود و سخا خوش خلقی امن پسندی صلح جوئی نرم خوئی اور خیر خواہی امت نہایت خوش رنگ پھول ہیں۔

سیدنا حسنؓ کے تاریخیِ اقوال

دوسرے فضائل اخلاق کے ساتھ نہایت عاقل و دانا بھی تھے اہلِ سیر نے ان کے بہت سے حکیمانہ اقوال نقل کی ہیں جن میں سے کچھ یہ ہیں۔

 مکارم اخلاق 10 ہیں:

  1. زبان کی سچائی۔
  2. حسنِ خلق۔
  3. صلہ رحمی۔
  4. مہمان نوازی۔
  5. حق دار کی حق شناسی۔ 
  6. جنگ کے وقت حملہ کی شدت۔ 
  7. سائل کو دینا۔
  8.  احسان کا بدلہ دینا۔
  9. پڑوسی کی حفاظت و حمایت۔ 
  10.  شرم و حیا۔


  1.  سب سے اچھی زندگی وہ بسر کرتا ہے جو اپنی زندگی میں دوسروں کو بھی شریک کرے اور سب سے بری زندگی اس کی ہے جس کے ساتھ کوئی دوسرا زندگی نہ بسر کر سکے۔
  2.  ضرورت کا پورا نہ ہونا اس سے کہیں بہتر ہے کہ اس کے لیے کسی نااہل کی طرف رجوع کیا جائے۔
  3. ایک شخص نے کہا مجھ کو موت سے بہت ڈر معلوم ہوتا ہے فرمایا اس لیے کہ تم نے اپنا مال پیچھے چھوڑ دیا اگر اس کو آگے بھیج دیا ہوتا تو اس تک پہنچنے کے لیے خوفزدہ ہونے کی بجائے مسرور ہوتے۔
  4.  مروت یہ ہے کہ انسان اپنے مذہب کی اصلاح کرے اپنے مال کی دیکھ بھال نگرانی کرے اسے بر محل صرف کرے سلام زیادہ کرے لوگوں میں محبوبیت حاصل کرے کرم یہ ہے کہ مانگنے سے پہلے دے احسان و سلوک کرے بر محل کھلائے پلائے بہادری یہ ہے کہ پڑوسی کی طرف سے مدافعت کرے آڑے وقتوں میں اس کی حمایت و امداد کرے اور مصیبت کے وقت صبر کرے۔
  5.  ایک مرتبہ سیدنا امیرِ معاویہؓ نے ان سے پوچھا کہ حکومت میں ہم پر کیا فرائض ہیں فرمایا جو سلیمانؑ بن داؤدؑ نے بتائے ہیں سیدنا امیرِ معاویہؓ نے کہا انہوں نے کیا بتایا ہے؟ فرمایا انہوں نے اپنے ظاہر و باطن دونوں میں اللہ کا خوف کرے غصہ اور خوشی دونوں میں عدل و انصاف کرے فقر اور تمول میں درمیانی چال رکھے زبردستی کسی کا مال نا غضب کرے اور نہ اس کو بے جا صرف کرے جب تک وہ ان باتوں پر عمل کرتا رہے گا اس وقت تک اس کو دنیا میں کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتا۔

(از کتاب علی المرتضیٰ)


صفحہ 5 از 5