سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہ مختصر سوانح و فضائل - دفاعِ…

سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہ مختصر سوانح و فضائل

  حضرت مولانا علامہ ضیاء الرحمٰن فاروقی شہیدؒ

صفحہ 4 از 5

 ابوحنیفہ دیوریؒ نے " الاخبار اللوان" میں لکھا ہے کہ سیدنا حسنؓ ان شرائط پر سیدنا امیرِ معاویہؓ کے حق میں خلافت سے دستبردار ہوئے:

  1.  سب لوگوں کو بلااستثنا امان دی جائے گی اور کوئی عراقی محض بعض و کینہ کی بنا پر نہ پکڑا جائے گا۔ 
  2. صوبہ اہواز کاکل خراج سیدنا حسنؓ کے لیے مخصوص ہوگا اور سیدنا حسینؓ کو دو لاکھ درہم سالانہ الگ دیے جائیں گے۔ 
  3. صلات اور عطیات میں بنوہاشم کو بنوامیہ پر ترجیح دی جائے گی۔

سیدنا حسنؓ نے یہ شرطیں لکھ کر سیدنا عبداللہؓ بن عامر کو دیں انہوں نے سیدنا امیرِ معاویہؓ کے پاس بھیج دیں سیدنا امیرِ معاویہؓ نے تمام شرطوں کی منظوری کا خط لکھ کر اپنی مہر لگائی اور معززین و عمائد کی شہادتیں لکھوا کر کاغذ سیدنا حسنؓ کے پاس واپس بھیج دیا اس طرح ملتِ اسلامیہ کے سر سے ایک بہت بڑا خطرہ ٹل گیا اور تمام مسلمان ایک دوسرے کا گلا کاٹنے کے بجائے سیدنا امیرِ معاویہؓ کی خلافت پر متفق ہوگئے۔ 

ابنِ اثیرؒ کا بیان ہے کہ سیدنا حسنؓ نے کوفہ کی جامع مسجد میں مجمع عام کے سامنے اپنی دست برداری کا اعلان ان الفاظ میں کیا:

لوگو اللہ تعالیٰ نے ہمارے اگلوں کے ذریعے سے تم کو ہدایت دی اور پچھلوں کے ذریعے تمہاری خونریزی بند کرائی دانائیوں میں بہترین دانائی تقویٰ اور عجز میں سب سے بڑا عجز فجور (بداعمالی) ہے اور یہ امر (خلافت) جو ہمارے اور سیدنا امیرِ معاویہؓ کے درمیان متنازعہ فیہ ہے یا تو وہ اس کے مجھ سے زیادہ حقدار ہیں یا یہ میرا حق ہے جس میں اللہ عزوجل کی خوشنودی امتِ محمدیہ کی اصلاح اور تم لوگوں کو خونریزی سے بچانے کی خاطر دستبردار ہوتا ہوں آنحضرتﷺ کی پیشین گوئی پوری ہو گئی: اس کے بعد سیدنا حسنؓ اپنے اہل و عیال کو لے کر مدینہ منورہ چلے گئے اس طرح سرور عالمﷺ کی یہ پیشین گوئی پوری ہوگئی "میرا یہ بیٹا سید ہے اللہ تعالیٰ اس کے ذریعہ سے مسلمانوں کے دو بڑے گروہوں کے درمیان صلح کرائے گا"۔ 

سید نا حسنؓ کی خلافت کے بارے میں روایتوں میں اختلاف ہے بعض روایتوں میں 4 ماہ اور بعض میں 8 ماہ سے کچھ اوپر بتائی گئی ہے دائرہ معارفِ اسلامیہ کے مطابق صحیح یہ ہے کہ ان کا زمانہ خلافت 20 رمضان 40 ھجری سے 15 جمادی الاولیٰ 41 ھجری تک ہے گویا وہ 7 ماہ 26 دن تک مسند نشین خلافت رہے۔

سیدنا حسنؓ سیدنا امیرِ معاویہؓ کی اطاعت پر تاحیات قائم رہے

 دستبرداری کے بعد سیدنا حسنؓ نے اپنی وفات تک کسی سیاسی سرگرمی میں حصہ نہیں لیا اور نہایت خاموشی سے اپنے نانا کے جوار میں زندگی گزاری ان کے وقت کا بیشتر حصہ عبادت الہٰی میں گزرتا تھا ایک دفعہ سیدنا امیرِ معاویہؓ نے مدینہ منورہ کے کسی شخص سے سیدنا حسنؓ کے حالات دریافت کیے تو اس نے کہا فجر کی نماز سے طلوعِ آفتاب تک مصلیٰ پر رہتے ہیں پھر ٹیک لگا کر بیٹھ جاتے ہیں اور ملاقات کے لیے آنے والوں سے ملتے ہیں دن چڑھے چاشت کی نماز ادا کرکے امہات المومنینؓ کی خدمت میں سلام کے لیے حاضر ہوتے ہیں۔

(ابنِ عساکر)۔

مکہ معظمہ میں ہوتے تو عصر کی نماز بالالتزام حرم پاک میں ادا کرتے اور پھر طواف میں مشغول ہو جاتے۔ 

فکرِ معاش کی طرف سے بے نیاز تھے کیونکہ اہواز کا سالانہ خراج آپؓ کے لیے مخصوص تھا امام شعبیؒ کا بیان ہے کہ اس خراج کی رقم 10 لاکھ سالانہ تھی اس کثیر آمدنی کو وہ بے دریغ راہ خدا میں لٹاتے رہتے تھے ابنِ اثیرؒ کا بیان تھا کہ انہوں نے دو مرتبہ اپنا تمام مال اسباب اور تین مرتبہ کل مال اسباب کا نصف راہ خدا میں بانٹ دیا یہ ممکن ہی نہ تھا کہ کوئی سائل ان کے در سے خالی ہاتھ چلا جائے حاجت مندوں کی حاجتیں پوری کرنا ان کے نزدیک عبادت کا درجہ رکھتا تھا ایک مرتبہ طواف میں مشغول تھے کہ کسی شخص نے اپنی ضرورت کے لیے ساتھ لے جانا چاہا طواف چھوڑ کر اس کے ساتھ ہوگئے اور واپس جا کر طواف پورا کیا ایک مرتبہ اعتکاف میں تھے کہ کوئی سائل آگیا اس کے ساتھ ہوگئے انہوں نے اعتکاف کے دائرے سے نکل کر اس کی ضرورت پوری کی اور پھر اعتکاف میں بیٹھ گئے۔

سیدنا حسنؓ کی وفات

سیدنا حسنؓ نے باختلاف روایت 49 ھ یا 50 ھ میں وفات پائی اور جنتُ البقیع میں اپنی والدہ ماجدہ سیدہ فاطمہؓ کے پہلو میں دفن ہوئے اکثر اربابِ سیر نے لکھا ہے کہ سیدنا حسنؓ کی وفات زہر سے ہوئی جو ان کی ایک بیوی جعدہ بنتِ اشعث نے کسی وجہ سے دیا حافظ ابنِ عبدالبرؒ اور المسعودی کا بیان ہے کہ سیدنا حسنؓ کو کئی بار زہر دیا گیا لیکن جو زہر آخری بار دیا گیا وہی فیصلہ کُن ثابت ہوا بعض روایتوں کے مطابق زہر کھانے کے تیسرے دن اور بعض کے مطابق 40 دن علیل رہنے کے بعد وفات پائی حافظ ابنِ حجرؒ اور ابوحنیفہ دیوریؒ نے یہ خیال ظاہر کیا ہے کہ سیدنا حسنؓ کی موت زہر سے نہیں بلکہ کسی اور علالت سے ہوئی۔

(الاصابه الاخبار الطوال)

سیدنا حسنؓ کی رحلت کی خبر پھیلی تو ہر طرف کہرام برپا ہوگیا مدینہ منورہ کے بازار بند ہوگئے اور ہر شخص فرطِ غم سے نڈھال ہوگیا سیدنا ابوہریرہؓ مسجد نبویﷺ میں رو کر کہتے تھے کہ لوگو آج خوب رو لو کہ رسول اللہﷺ کا محبوب دنیا سے اٹھ گیا جنازہ میں اس قدر ہجوم تھا کہ اس سے پہلے مدینہ منورہ میں بہت کم دیکھنے میں آیا تھا ایک روایت کے مطابق جنازہ میں لوگوں کی کثرت کا یہ عالم تھا کہ اگر سوئی بھی پھینکی جاتی تو زمین پر نہ گرتی سیدنا حسنؓ نے اپنی زندگی میں بہت سے نکاح کیے مختلف بیویوں سے آٹھ لڑکے پیدا ہوئے جن کے نام یہ ہیں سیدنا الحسن سیدنا زید سیدنا عمر سیدنا قاسم سیدنا ابوبکر سیدنا عبدالرحمٰن سیدنا طلحہ سیدنا عبیداللہ۔ 

سیدنا حسنؓ کے صفات و کمالات

صفحہ 4 از 5