سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہ مختصر سوانح و فضائل - دفاعِ…

سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہ مختصر سوانح و فضائل

  حضرت مولانا علامہ ضیاء الرحمٰن فاروقی شہیدؒ

صفحہ 3 از 5

سیدنا علیؓ کو شہادت کی خبر ہوئی تو انہوں نے جوش و غضب میں سیدنا حسنؓ کو تھپڑ مارا کہ تم نے کیسی حفاظت کی کہ باغیوں نے اندر گھس کر سیدنا عثمانؓ کو شہید کر ڈالا جب انہوں نے صورتِ حال کی وضاحت کی اور اپنے زخم دکھائے تو سیدنا علیؓ کا غصہ ٹھنڈا ہوا سیدنا عثمانؓ کی شہادت کے بعد مسلمانوں کے ایک بڑے طبقے نے سیدنا علیؓ سے قبولِ خلافت کے لیے اصرار کیا اس موقع پر سیدنا حسنؓ نے والد بزرگوار کو مشورہ دیا کہ جب تک تمام ممالک اسلامیہ کے لوگ آپ سے مسندِ نشین خلافت ہونے کی درخواست نہ کریں آپ کسی امرِ خلافت پر بیعت نہ لیجئے لیکن سیدنا علیؓ نے فرمایا کہ خلیفہ کا انتخاب مہاجرین اور انصار کا حق ہے جب وہ کسی کو خلیفہ تسلیم کر لیں تو دوسرے تمام مسلمانوں پر اس کی اطاعت واجب ہو جاتی ہے بیعت کے لیے تمام دنیا کے مسلمانوں کے مشورہ کی شرط نہیں چنانچہ انہوں نے خلافت قبول کرلی سیدنا علیؓ کے مسندِ نشینِ خلافت ہونے کے بعد ام المومنین سیدہ عائشہ صدیقہؓ نے اصلاح کا عٙلم بلند کیا اور سیدنا عثمانؓ کے قاتلوں سے بدلہ لینے کا مطالبہ کیا اسی سلسلے میں جنگِ جمل پیش آئی جنگ سے پہلے سیدنا حسنؓ اور سیدنا عمار بن یاسرؓ کوفہ گئے اور وہاں کے لوگوں کو اپنی حمایت پر اُبھارا ان کی مساعی کے نتیجہ میں تقریباً 10 ہزار اہلِ کوفہ سیدنا علیؓ کے لشکر میں شامل ہوئے جمل کے بعد 37 ھجری میں جنگِ صفین پیش آئی اس میں بھی سیدنا حسنؓ اپنے والد بزرگوار کے ساتھ تھے التوائے جنگ کے لیے سیدنا امیر معاویہؓ اور سیدنا علیؓ کے درمیان جو معاہدہ ہوا سیدنا حسنؓ نے ایک گواہ کی حیثیت سے اس پر دستخط کیے۔

سیدنا علیؓ کی شہادت کے بعد

رمضان 40 ہجری میں ایک خارجی ابنِ ملجم نے سیدنا علیؓ پر قاتلانہ حملہ کیا زخمی ہونے کے بعد وہ 3 دن زندہ رہے اس اثناء میں ان سے سیدنا حسنؓ کی جانشینی کے بارے میں استفسار کیا گیا تو انہوں نے فرمایا: 

نہ میں حکم دیتا ہوں نہ روکتا ہوں۔ 

تیسرے دن سیدنا علیؓ واصلِ بحق ہوگئے ان کی تجہیز و تکفین سے فراغت کے بعد کوفے کی مسجدِ جامع میں سیدنا حسنؓ کے لیے بیعت خلافت ہوئی بعض روایتوں کے مطابق بیس ہزار سے زیادہ لوگوں نے ان کے ہاتھ پر بیعت کی سیدنا امیرِ معاویہؓ والی شام نے ان کی خلافت کو تسلیم نہ کیا اور عراق کی طرف فوجی پیش قدمی شروع کر دی ان کے مقدمتہ الجیش کے افسر سیدنا عبداللهؓ بن عامر انبار سے ہوتے ہوئے مدائن کی طرف بڑھے سیدنا حسنؓ اس وقت کوفہ میں تھے انہیں سیدنا عبداللہؓ بن عامر کی پیش قدمی کی اطلاع ملی تو وہ بھی اہلِ عراق کو ساتھ لے کر مقابلہ کے لیے مدائن کی طرف روانہ ہوئے ساباط پہنچ کر انہوں نے اپنی فوج میں کمزوری اور جنگ سے پہلو تہی کے آثار دیکھے تو اس کے سامنے ایک خطبہ دیا جس میں فرمایا:

 سیدنا حسنؓ کا خطبہ

 لوگو میں کسی مسلمان کے خلاف اپنے دل میں کینہ نہیں رکھتا اور تمہارے لیے بھی وہی پسند کرتا ہوں جو اپنے لیے پسند کرتا ہوں تمہارے سامنے ایک رائے پیش کرتا ہوں امید ہے تم اسے رد نہ کرو گے جس اتحاد و یگانگت کو تم ناپسند کرتے ہو وہ اس تشتت و افتراق سے بہتر ہے جو تم کو پسند ہے میں دیکھ رہا ہوں کہ تم میں سے اکثر لوگ جنگ سے گریز کرنا چاہتے ہیں تم لوگوں کو تمہاری مرضی کے خلاف لڑنے پر مجبور نہیں کرنا چاہتا سیدنا حسنؓ کی تقریر سن کر وہ لوگ جو سیدنا امیرِ معاویہؓ کے شدید مخالف تھے اور ان سے لڑنا فرض عین سمجھتے تھے برہم ہوگئے انہوں نے سیدنا حسنؓ کی تحقیر کی اور انہیں گھیر لیا ربیعہ اور ہمدان کے قبیلوں نے ان لوگوں کو پیچھے ہٹایا اور سیدنا حسنؓ گھوڑے پر سوار ہوکر مدائن کی طرف روانہ ہوئے راستے میں ایک خارجی جراح بن قبیصہ نے گھات لگا کر ان پر حملہ کیا اور زانوئے مبارک زخمی کر دیا عبداللہ بن خطل اور عبداللہ بن فیان نے جراح بن قبیصہ کو پکڑ کر قتل کر ڈالا اور سیدنا حسنؓ نے مدائن پہنچ کر قصر ابیص میں قیام کیا جب زخم مندمل ہوگیا تو وہ پھر سیدنا عبداللہ بن عامرؓ کے مقابلہ کے لیے مدائن سے نکلے اس اثناء میں سیدنا امیر معاویہؓ بھی ایک فوج گراں کے ساتھ انبار پہنچ گئے۔

سیدنا معاویہؓ کے ساتھ صلح کے لیے سیدنا حسنؓ کا طرز عمل

سیدنا عبداللہ بن عامرؓ نے سیدنا حسنؓ کو پیغام بھیجا جس میں ان کو قسم دے کر جنگ ملتوی کرنے کے لیے کہا سیدنا حسنؓ کے ساتھیوں نے بھی انہیں میں مشورہ دیا اس پر سیدنا حسنؓ پھر مدائن لوٹ گئے سیدنا عبداللہؓ بن عامر نے فوراً مدائن کے گرد اپنی فوج پھیلا دی سیدنا حسنؓ پہلے ہی اپنے ساتھیوں کی کمزوری اور بزدلی سے دل برداشتہ تھے انہوں نے جنگ کا خیال ترک کر دیا اور چند شرائط پر سیدنا امیرِ معاویہؓ کے حق میں خلافت سے دست برداری کا فیصلہ کیا یہ شرائط انہوں نے سیدنا عبداللہؓ بن عامر کی وساطت سے سیدنا امیرِ معاویہؓ کو بھجوا دیں۔

(الاخبارُ الطوال ابوحنیفہ دیوری)

حافظ ابنِ حجر عسقلانیؒ نے ابنِ سعدؒ کے حوالے سے "الاصابہ" میں بیان کیا ہے کہ سیدنا حسنؓ نے عمرو بن سلمتہ الارجی کو صلح کی غرض سے سیدنا امیرِ معاویہؓ کے پاس بھیجا سیدنا امیرِ معاویہؓ نے سیدنا عبداللہؓ بن عامر اور سیدنا عبدالرحمٰن بن سمرہؓ کو سیدنا حسنؓ کے پاس بھیجا ان دونوں نے سیدنا حسنؓ کی شرائط مان لیں اس طرح فریقین میں صلح ہوگئی پھر سیدنا امیرِ معاویہؓ اور سیدنا حسنؓ ساتھ ساتھ کوفے میں داخل ہوئے۔ 

صحیح بخاری میں یہ واقعہ کسی قدر مختلف انداز میں بیان کیا گیا ہےاس کا خلاصہ یہ ہے:

سیدنا حسنؓ کی فوج پہاڑوں کے مانند امیر معاویہؓ کے لشکر کی طرف بڑھی تو سیدنا عمرو بن العاصؓ نے سیدنا امیرِ معاویہؓ سے کہا میں دیکھ رہا ہوں کہ یہ ایسا لشکر ہے جو اس وقت تک پیٹھ نہ پھیرے گا جب تک اپنے اقران کو قتل نہ کرے گا سیدنا امیرِ معاویہؓ نے کہا اگر یہ لوگ انہیں اور وہ انہیں قتل کر دیں تو میری طرف سے لوگوں کے معاملات کا نیز ان کی عورتوں اور بچوں کا ذمہ دار کون ہوگا؟۔

اس وقت انہوں نے سیدنا عبداللهؓ بن عامر اور سیدنا عبدالرحمٰن بن سمرہؓ کو سیدنا حسنؓ سے گفت و شنید کے لیے بھیجا۔ 

صلح کی شرائط

صفحہ 3 از 5