سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہ مختصر سوانح و فضائل - دفاعِ…

سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہ مختصر سوانح و فضائل

  حضرت مولانا علامہ ضیاء الرحمٰن فاروقی شہیدؒ

صفحہ 2 از 5

 سیدنا نعیمؓ کہتے ہیں کہ: مجھ سے سیدنا ابو ہریرہؓ نے کہا کہ جب سیدنا حسنؓ کو دیکھتا ہوں تو آنکھوں میں آنسو بھر آتے ہیں اس لیے کہ میں نے دیکھا کہ ایک روز دوڑتے ہوئے آئے اور آکر رسول اللہﷺ کی گود میں بیٹھ گئے (سیدنا ابو ہریرہؓ اپنے ہاتھ اپنی داڑھی پکڑ کر دکھایا کہ یہ) اس طرح ریش مبارک ہاتھ سے پکڑنے لگے اور رسول اللہﷺ اپنا دہن مبارک کھول کر ان کے منہ میں ڈالنے لگے اور فرماتے جارہے تھے

اللهم انی احبه فاحبه اے اللہ میں اس سے محبت کرتا ہوں تو بھی اس سے محبت فرما یہ بات آپﷺ نے تین بار فرمائی۔

سخاوت کا اہم واقعہ

 ابنِ عساکر نے کہا:

سیدنا حسنؓ کا واقعہ ہے کہ وہ ایک بار مدینہ منورہ کے کسی (چار دیواری سے گھرے ہوئے باغ کی طرف سے گزر رہے تھے تو ایک نو عمر حبشی غلام کو دیکھا کہ وہ بیٹھا ہے اس کے ہاتھ میں ایک روٹی تھی اور اس کے سامنے کتا بیٹھا تھا وہ لڑکا ایک لقمہ خود کھاتا اور ایک لقمہ کتے کو کھلاتا اس طرح پوری روٹی تقسیم کر کے اس کو کھلا دی سیدنا حسنؓ نے پوچھا تم نے کیوں اپنی روٹی میں آدھے کا شریک کتے کو بنا لیا اور خود زیادہ حصہ نہیں لیا؟ کہنے لگا میری آنکھیں اس کی (یعنی کتے کی) آنکھیں دیکھ کر شرم محسوس کرتی تھیں کہ میں زیادہ کھا جاؤں سیدنا حسنؓ نے پوچھا تم کس کے غلام ہو؟ کہا میں ابان بن عثمان کا غلام ہوں فرمایا اور یہ احاطہ کس کا ہے؟ کہا ابان کا سیدنا حسنؓ نے فرمایا میں تم کو قسم دیتا ہوں کہ جب تک واپس نہ آجاؤں تم یہیں بیٹھے رہنا چنانچہ آپؓ گئے اور اس غلام کو خرید لیا اور احاطہ بھی خرید لیا اور غلام کے پاس آکر فرمایا میں نے تم کو خرید لیا اس نے اٹھ کر کہا اللہ اور اس کے رسولﷺ اور ان کے بعد میں آپ کے احکام سننے والا اور فرمانبردار ہوں پھر سیدنا حسنؓ نے فرمایا تو میری طرف سے آزاد ہے اور یہ احاطہ تجھے ہبہ کر دیا۔

عہدِ سیدنا صدیقِ اکبرؓ

 آنحضرتﷺ کی وفات کے بعد سیدنا ابوبکر صدیقؓ خلیفہ بنے تو قرابتِ رسولﷺ کی وجہ سے آپ بھی سیدنا حسنؓ سے بے انتہا محبت کرتے تے۔

 صحیح بخاری میں ہے:

 ایک مرتبہ نمازِ عصر کے بعد سیدنا ابوبکرؓ اور سیدنا علیؓ دونوں مسجد نبویﷺ سے اکٹھے باہر نکلے راستہ میں سیدنا حسنؓ کھیل رہے تھے سیدنا ابوبکر صدیقؓ نے بڑی محبت اور شفقت کے ساتھ ان کو اٹھا کر کندھے پر بٹھا لیا اور فرمایا:

والله هذا شبها لنبی وليس بعلی

 ترجمہ: خدا کی قسم یہ نبیﷺ کے مشابہ ہیں اور سیدنا علیؓ کے مشابہ نہیں۔ 

یہ سن کر سیدنا علیؓ مسکرانے لگے سیدنا ابوبکرؓ کے سٙوا دو سالہ دورِ حکومت نے خاندانِ نبوت کے ساتھ آپؓ کے تعلقات نہایت مشفقانہ رہے۔  

6 ماہ بعد سیدہ فاطمہؓ بیمار ہوئیں تو سیدنا ابوبکر صدیقؓ کی بیوی سیدہ اسماء بنتِ عمیسؓ کئی روز تک تیمارداری کے فرائض سرانجام دیتی رہیں سیدہ فاطمہؓ کی وفات کے بعد غسل اور تجہیز و تکفین بھی سیدہ اسماءؓ نے سر انجام دیے (از رحماء بینھم)

سیدہ فاطمہؓ کا جنازہ بھی صحیح روایت کے مطابق سیدنا ابوبکر صدیقؓ ہی نے پڑھایا ان مختصر واقعات سے یہ بات ثابت ہوگئی کہ سیدنا حسنؓ و سیدنا حسینؓ تو کیا پورے خاندانِ نبوت سے سیدنا ابوبکرؓ کے تعلقات نہایت خوشگوار رہے بعض لوگوں نے خاندانِ نبوت اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے درمیان تعلقات کی کشیدگی کے بارے میں جو مٙن گھڑت باتیں تحریر کی ہیں ان کی کوئی حقیقت نہیں۔

عہدِ سیدنا فاروقِ اعظمؓ

سیدنا عمر فاروقؓ مسندِ نشین خلافت ہوئے تو انہوں نے بھی سیدنا حسنؓ اور سیدنا حسینؓ کے ساتھ ایسا ہی محبت آمیز برتاؤ رکھا انہوں نے بیتُ المال قائم کیا اور مسلمانوں کے اعلیٰ قدر مراتب سالانہ وظائف مقرر کیے تو سیدنا حسنؓ اور سیدنا حسینؓ کے وظیفے اصحابِ بدر کے وظیفوں کے برابر مقرر کیے

(5 ہزار درہم سالانہ) خود امیر المومنینؓ اور سیدنا علیؓ کا بھی اتنا ہی وظیفہ تھا اس سے اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ سیدنا فاروقِ اعظمؓ کے نزدیک سیدنا حسینؓ کی کیا قدر و منزلت تھی۔

عہدِ سیدنا عثمان ذوالنورینؓ

 سیدنا عثمان ذوالنورینؓ کے دورِ خلافت کا آغاز ہوا تو سیدنا حسنؓ پورے جوان ہو چکے تھے شیخینؓ کی طرح سیدنا عثمان ذوالنورینؓ کا سلوک بھی سیدنا حسنؓ کے ساتھ نہایت مشفقانہ اور محبت آمیز تھا 30/ 29 ہجری میں سیدنا عثمانؓ کے حکم سے سیدنا سعید بن العاصؓ نے طبرستان پر لشکر کشی کی تو سیدنا حسنؓ بھی دوسرے نوجوان قریش کے ساتھ اسلامی لشکر میں شریک ہوگئے اور کئی معرکوں میں دادِ شجاعت دی۔

سیدنا عثمانؓ کے دروازے پر پہرے دار کی حیثیت سے

سیدنا عثمانِ غنیؓ کے دورِ خلافت کے آخر میں شورش برپا ہوئی اور باغیوں نے کاشانہ خلافت کا محاصرہ کر لیا تو سیدنا علیؓ نے سیدنا حسنؓ کو کاشانہ خلافت کی حفاظت کے لیے متعین کر دیا کچھ اور جوانانِ قریش بھی ان کے ساتھ تھے سیدنا حسنؓ مدافعت کرتے ہوئے زخمی ہوگئے تاہم انہوں نے کسی باغی کو کاشانہ خلافت میں داخل نہ ہونے دیا بالآخر باقی دوسری طرف سے دیوار پھاند کر اندر گُھس گئے اور امیرالمومنین سیدنا عثمانؓ کو اس حالت میں شہید کر دیا جب وہ قرآنِ پاک کی تلاوت میں مشغول تھے علامہ جلال الدین سیوطیؒ کا بیان ہے کہ:

صفحہ 2 از 5