سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہ مختصر سوانح و فضائل - دفاعِ…

سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہ مختصر سوانح و فضائل

  حضرت مولانا علامہ ضیاء الرحمٰن فاروقی شہیدؒ

صفحہ 1 از 5

سیدنا حسن بن علیؓ

مختصر سوانح و فضائل

ابتدائی تعارف

پیدائش:

 سیدنا حسن بن علیؓ آنحضرتﷺ کی سب سے چہیتی صاحبزادی سیدہ فاطمہؓ کے بطن سے پہلے صاحبزادے تھے آپؓ کی اس سے زیادہ کیا عظمت ہوسکتی ہے کہ ایک طرف آپؓ کی نسبی شرافت آنحضرتﷺ سے قریب تر ہے دوسری طرف آپؓ کی تربیت بھی آغوشِ رسالتﷺ میں ہوئی مؤرخین کا اس بات پر اتفاق ہے کہ سیدنا حسنؓ کی پیدائش 15 رمضان 3 ہجری بمطابق 1 اپریل 625 عیسوی کو مدینہ منورہ میں ہوئی سیدنا علیؓ نے آپ کا نام حرب رکھا لیکن آنحضرتﷺ نے تبدیل کرکے سیدنا حسنؓ رکھ دیا سیدنا حسنؓ کی ولادت پر آنحضرتﷺ بہت مسرور ہوئے آپﷺ نے خود ان کے کان میں اذان دی اپنا لعاب مبارک منہ میں ڈالا پیدائش کے ساتویں دن عقیقہ کیا دو مینڈھے ذبح کرائے نومولود کے سر کے بال اتروا کر ان کے برابر چاندی خیرات کی۔

آنحضرتﷺ کی صحبت

سیدنا حسنؓ بچپن ہی سے براہِ راست آپﷺ کی نگرانی میں رہے بچپن کے ابتدائی 7 سال تک سیدنا حسنؓ نے صحبتِ نبوتﷺ پائی آنحضرتﷺ کے سیدنا حسنؓ سے محبت و شفقت کے واقعات بخاری و مسلم میں موجود ہیں صحیح بخاری میں سیدنا ابوبکرؓ سے روایت ہے:

 آنحضرتﷺ منبر پر رونقِ افروز تھے اور سیدنا حسنؓ آپﷺ کے پہلو میں بیٹھے ہوئے تھے ایک مرتبہ لوگوں کی طرف دیکھتے تھے اور ایک مرتبہ سیدنا حسنؓ کی طرف آپﷺ نے فرمایا:

ان ابنی هذا سيد لعل الله ان يصلح بين فئتين عظيمتين من المسلمين۔

ترجمہ: یہ میرا بیٹا سردار ہے اور امید ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کے ذریعے مسلمانوں کے دو گروہوں کے درمیان صلح کرا دے گا۔

 قارئین کرام ملاحظہ ہوکہ آنحضرتﷺ کی پیشین گوئی کس طرح حرف بحرف پوری ہوئی جنگِ صفین اور جنگِ جمل کے بعد مسلمانوں میں قاتلین سیدنا عثمانؓ کے بارے میں پیدا ہونے والا اختلاف کس قدر بڑھ گیا تھا بالآخر مسلمانوں کی ان دو جماعتوں کے درمیان صلح و آشتی اور اتفاق و ارتباط کا سرا سیدنا حسنؓ کے سر آن پڑا اس حدیث سے دونوں جماعتوں کا مسلمان ہونا بھی واضح ہوا پھر صلح کی نوید ابھی آنحضرتﷺ کی زبانِ حق ترجمان سے ظاہر ہوگئی سیدنا حسنؓ کی سیدنا معاویہؓ سے صلح اور محبت نے پیغمبرِ اسلامﷺ کی بیان کردہ پیشین گوئی کو من و عن مکمل کر دیا اس صلح سے اسلام کی عظمت اور دینِ مصطفوی کی سربلندی کا نیا باب کھل گیا۔

لقب:سیدنا حسنؓ سیدنا علیؓ اور سیدہ فاطمہؓ کے پہلے صاحبزادے ہیں آپؓ کا لقب ریحانتہ النبی تھا بعض کتابوں میں اس کے علاوہ سید شبر مجتبیٰ اور شبیہ رسول کو بھی آپؓ کے القاب میں شامل کیا گیا ہے۔

کنیت: سیدنا حسنؓ کی کنیت ابومحمد تھی ایک روایت کے مطابق یہ کنیت آنحضرتﷺ نے تجویز فرمائی تھی حالانکہ بڑے ہوکر آپ نے کسی فرزند کا نام بھی محمد نہیں رکھا۔ 

آنحضرت ﷺ نے فرمایا:

 ان ابنی هذا سيد لعل الله ان يصلح بين فئتين عظيمتين من المسلمين۔

ترجمہ: میرا یہ بیٹا(سیدنا حسنؓ) سردار ہے مجھے امید ہے کہ اللہ تعالیٰ اس بیٹے کے ذریعے مسلمانوں کی دو بڑی عظیم المرتبت جماعتوں میں صلح کرائے گا۔

 ريحان الدنيا والآخرة الحسنؓ و الحسينؓ۔

ترجمہ: دنیا اور آخرت کے دو پھول سیدنا حسنؓ اور سیدنا حسینؓ ہیں۔

الحسنؓ والحسينؓ سبط من الاسباط۔

 ترجمہ: سیدنا حسنؓ اور سیدنا حسینؓ (میری) اولاد کی اولاد ہے۔

آنحضرتﷺ کی محبت

رسول اللہﷺ ان سے انتہائی محبت فرماتے تھے جب یہ بچے تھے تو آنحضرتﷺ کبھی ان کے رخسار و لب چومتے اور کبھی ان کی زبان اپنے زبان مبارک میں لے کر چوستے کبھی گود میں کھلاتے کبھی سینہ اور پیٹھ پر بٹھاتے کبھی ایسا بھی ہوتا کہ آپﷺ سجدہ میں ہوتے اور یہ پُشت مبارک پر سوار ہو جاتے اور آپﷺ نہ صرف یہ کہ بیٹھنے دیتے بلکہ ان کی خاطر سجدہ کو اور طُول دیتے کبھی اپنے ساتھ منبر پر چڑھاتے زہری سیدنا انسؓ سے راوی ہیں کہ سیدنا حسن بن علیؓ رسول اللهﷺ سے بہت ہی مشابہ تھے سیدنا ہانیؓ سیدنا علیؓ سے روایت کرتے ہیں کہ سیدنا حسنؓ کو مشابہت رسول اللہﷺ حاصل تھی سینہ سے سر تک اور سیدنا حسینؓ سینہ سے قدمہائے مبارک تک اپنے نانا کے مشابہ تھے سیدنا علیؓ کے دل میں اپنے صاحبزادے سیدنا حسنؓ کی بڑی عزت تھی وہ ان سے احترام و توقیر کا معاملہ فرماتے ایک روز فرمایا کبھی تم تقریر کرتے تو میں بھی سنتا کہنے لگے کہ مجھے شرم آتی ہے کہ آپؓ کے سامنے زبان کھولوں ایک روز سیدنا علیؓ ایسی جگہ جا کر بیٹھ گئے جہاں سیدنا حسنؓ کو نظر نہ آسکیں سیدنا حسنؓ نے لوگوں کے سامنے تقریر کی سیدنا علیؓ سُن رہے تھے جب وہ اپنی تقریر ختم کر کے چلے تو سیدنا علیؓ نے فرمايا:

ذُرِّيَّةًۢ بَعۡضُهَا مِنۡۢ بَعۡضٍ‌ وَاللّٰهُ سَمِيۡعٌ عَلِيۡمٌ‌

ترجمہ: یہ ایک ہی نسل تو ہے جس میں ایک دوسرے کا فرزند ہے)۔

(سوره آلِ عمران آیت 34)

 وہ بہت کم بولتے اور اکثر خاموش رہتے لیکن جب بات کرتے تو کوئی ان کے سامنے لب نہیں ہلاسکتا تھا دعوتوں میں کم شرکت فرماتے کسی لڑائی جھگڑے کے معالمہ میں نہ پڑتے کسی کے معاملہ میں دخل اندازی نہ کرتے جب ان سے رجوع کیا جاتا تو دلیل سے بات سمجھا دیتے انہوں نے تین بار اللہ کی راہ میں اپنا مال نکال دیا دو مرتبہ تو اس طرح دے دیا کہ ان کے پاس کچھ نہیں رہ گیا 25 بار پیدل حج کیے قربانی کے جانور آپ کے آگے آگے چلائے جاتے سیدنا حسنؓ و سیدنا حسینؓ میں سے کوئی گھوڑے پر سوار ہوتا اور سیدنا عبداللہ بن عباسؓ کی نظر پڑتی تو بڑھ کر رکاب تھام لیتے اور اس کو اپنے لیے شرف سمجھتے ان دونوں میں کوئی طوافِ بیت اللہ کو نکلتا تو آپؓ کو سلام کرنے مصافحہ کرنے کے لیے لوگ اس طرح پروانہ وار ٹوٹ کر گرتے کہ ڈر لگتا کہ کہیں ان کو صدمہ نہ پہنچے

سیدنا حذیفہؓ سے مرفوعاً روایت ہے: الحسنؓ والحسینؓ سید الشباب اھل الجنہ 

یعنی سیدنا حسنؓ و حسینؓ جنتی نوجوانوں کے سردار ہوں گے۔

آنحضرتﷺ کی محبت کا ایک اور واقعہ

سیدنا ابنِ عباسؓ سے روایت ہے کہ ایک بار رسول اللہﷺ اپنے دوش مبارک پر سیدنا حسن بن علیؓ کو لیے ہوئے جا رہے تھے تو ایک شخص نے دیکھ کر کہا

نعم الرکب رکبت یا غلام صاجزادے بڑی اچھی سواری پر بیٹھے ہو رسول اللہﷺ نے فرمایا: و نعم الراكب ھو اور سوار بھی بہترین ہے۔

سیدنا حسنؓ و سیدنا حسینؓ اسلام کے شہ سواروں میں ہوئے ہیں۔

صفحہ 1 از 5