منکرین حدیث کی تعریف و شناخت - دورِ حاضر کے فتنے | دفاع…

منکرین حدیث کی تعریف و شناخت

  مولانا اشتیاق احمد ، مدرس دارالعلوم دیوبند

صفحہ 5 از 5

یعنی ’’یہ لو گ جوئے اور شراب کے بارے میں سوال کرتے ہیں ،کہہ دیجئے یہ بڑے گناہ ہیں اور اس میں لوگوں کو کچھ منفعت بھی ہے لیکن ان کا گناہ انکے نفع سے کہیں بڑھ کر ہے اوروہ لوگ پوچھتے ہیں کہ وہ (اﷲ کی راہ میں ) کیا خرچ کریں،کہہ دیجئے کہ وہ سب جو تمہاری ضرورت سے زائد ہے ،اس طرح ہم اپنی آیات کو کھول کر بیان کر دیتے ہیں تاکہ یہ لوگ غور و فکر کریں‘‘یہاں اس آیت میں ﷲ تبارک وتعالیٰ نے شراب اور جوئے کے ممانعت کی حکمت بیان کی ہے اور اسکے بالمقابل صدقہ کا حکم دیا ہے تاکہ لوگ ان معاملات میں تھوڑے اور ظاہری فائدے کو نہ دیکھیں بلکہ اسکے گناہ اور نقصان کو مدنظر رکھیں جو نفع کے مقابلے میں بہت زیادہ ہے اور اس کے بعد غور فکر کی دعوت اس لئے دی گئی ہے تاکہ لوگ دین کے باقی احکامات پر بھی یہ یقین رکھتے ہوئے عمل کریں کہ ان سب احکامات کی کوئی نہ کوئی وجہ اور حکمت ضرور ہے اگرچہ ہم جانتے نہ ہو اور اس جانب اشارہ بھی ہے کہ جو لوگ ان احکامات پر غور فکر کریں گے ان کو اس میں سے بعض احکامات کی حکمت معلوم بھی ہو جائے گی لیکن اصل بات یہ ہے کہ ان احکامات پر عمل کرنا سب کے لئے فرض ہے مگر انکی حکمت کو جاننا ہر ایک پر فرض نہیں کیونکہ یہاں لفظ ’’لعلکم ‘‘ استعمال ہوا ہے جس کے معنی ہیں شاید کہ تم ،امید ہے کہ تم یا توقع ہے کہ تم غور و فکر کرو گے۔
لیکن منکرین حدیث کے سرخیل جناب پرویز صاحب نے صرف اسی کو علم قرار دیتے ہوئے ان تمام علماء کرام کو جاہل اور کتابیں ڈھونے والا گدھا قرار دیا ہے جو تمام کتابوں کو بالائے طاق رکھ کر صرف عقل کی مدد سے قرآن کی تشریح نہیں کرتے حالانکہ لفظ ’’علم ‘‘ کے معنی ہی’’ جاننا ‘‘ ہیں اور علامہ کا مطلب ہے بہت زیادہ جاننے والا یعنی عالم دین اسی شخص کو کہا جائے گا جو قرآن کی کسی آیت یا کسی حدیث کے بارے میں گذشتہ اہل علم کے اقوال کو جانتا ہو کیونکہ صراط مستقیم مشروط ہے ان لوگو اقوال ،افعال و اعمال کے استفادہ سے جن پر ﷲ تعالیٰ کا انعام ہوا اور جن پر ﷲ تعالیٰ کا انعام ہوا وہ قرآن کریم کے حوالے سے انبیاء ، صدیقین ،شہداء اور صالحین ہیں اگر بقول پرویز صاحب ہدایت اور علمیت مشروط ہے عقل سے تو پھر قرآن میں فلسفی ، مفکر ،مدبر اور علم منطق کے ماہر افراد کے راستے کو صراط مستقیم ہونا چاہیے تھاجبکہ ایسا نہیں ہے اس سے معلوم ہوا کہ منکرین حدیث حضرات صرف حدیث کے منکر نہیں بلکہ علوم اور حصول علم کے طریقوں کے بھی منکر ہیں ورنہ پرویز صاحب علماء کرام کے متعلق حوالہ جات کی فہرست ور محض حافظ جیسے الفاظ استعمال کرکے اہل علم سے بدظن نہ کرتے اوراب اسکا نتیجہ یہ ہے کہ منکرین حدیث کے پیروکار حضرات اپنے گھر میں کبھی کوئی قرآن کی تفسیر یا حدیث کی کتاب یا اسکی شرح نہیں رکھتے انجام کار جو پرویز صاحب نے کہا یا پرویز صاحب کی روحانی اولاد آج کہہ رہی ہے اسکی تصدیق یا تردید کا کوئی بھی ذریعہ ان کے متبعین کے پاس نہیں ہے اس طرح بے علمی کے ساتھ یہ لوگ خود بھی گمراہ ہو رہے ہیں اور دوسروں کوبھی گمراہ کر رہے ہیں۔

منکرین حدیث کی چھٹی شناختی علامت

منکرین حدیث کی ایک چھٹی شناختی علامت بھی ہے جو صرف ان لوگوں میں پائی جاتی ہے جو انکار حدیث کے ضمن میں انتہاء درجہ پر نہیں بلکہ انکار و اقرار کی درمیانی کیفیت پر ہیں ایسے لوگ محدثین کے وضع کردہ اصولوں سے ناواقفیت کے باعث بعض احادیث یا بعض احادیث کی اقسام کو مانتے ہیں اور بعض کو نہیں ماننے مثلاً قرشی صاحب اپنے آپ کو منکر حدیث تسلیم نہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ:
{ اطیعواﷲ سے مراد ﷲ کے احکام کی پابندی کرنا اور اطیعوا لرسول سے مراد رسول اﷲ ﷺ کے اسوۃ حسنہ اور احادیث پر عمل ہے ،لہٰذا جہاں قال اﷲ تعالیٰ کا لفظ آئے وہ قرآنی آیت ہوگی اور جہاں قال الرسولﷺ آئے وہ حدیث نبوی ہوگی }
یہاں قریشی صاحب نے قرآنی آیت اور حدیث رسولﷺ کی جو تعریف کی ہے وہ قطعی طور پر نامکمل اور غلط ہے کیونکہ تمام اہل علم کے نزدیک حدیث صرف قول رسول اللہﷺ  کانام نہیں بلکہ حدیث اقوال کے علاوہ اعمال و افعال اور تقریر رسول اللہﷺ کو بھی کہا جاتا ہے یہاں تقریر سے مراد وہ افعال واعمال ہیں جو نبی کریمﷺ کے سامنے صحابہ کرامؓ سے سرزد ہوئے اور ﷲ کے رسول اللہﷺ  نے ان پر تنبیہ نہیں کی بلکہ ان کو برقرار رکھا مزید برآں صحابہ کرامؓ کے اقول و اعمال کو بھی حدیث کہا جاتا ہے اور اس کے لئے حدیث موقوف کی اصطلاح استعمال کی جاتی ہے اسی طرح ہروہ بات جو قال ﷲ تعالیٰ سے شروع ہوتی ہے ہمیشہ قرآنی آیت نہیں ہوتی بلکہ احادیث میں بھی قال ﷲ تعالیٰ کے الفاظ اکثر آتے ہیں اور محدثین کی اصطلاح میں ایسی حدیث کو حدیث قدسی کہا جاتا ہے ، پس معلو م ہوا کہ منکرین حدیث کی ایک اہم شناختی علامت یہ بھی ہے کہ یہ لوگ علم حدیث کے ضمن میں محدثین کی وضع کردہ بیشتر اصطلاحات سے ناواقف ہوتے ہیں۔


صفحہ 5 از 5