منکرین حدیث کی تعریف و شناخت - دورِ حاضر کے فتنے | دفاع…

منکرین حدیث کی تعریف و شناخت

  مولانا اشتیاق احمد ، مدرس دارالعلوم دیوبند

صفحہ 4 از 5

یعنی ’’(اے نبی ﷺ )ہم نے آپ سے پہلے بھی جونبی بھیجے وہ سب مرد تھے جن پر ہم نے ان کی بستی والوں کے درمیان میں ہی وحی کی تھی،کیا یہ لوگ زمین میں چلتے پھرتے نہیں کہ ان پچھلوں کا انجام اپنی آنکھوں سے دیکھیں اور آخرت کا گھر بہتر ہے ان لوگوں کیلئے جو تقویٰ اختیار کرتے ہیں،کیا تم لوگ عقل نہیں رکھتے ‘‘
یہاں ان لوگوں کو عقل کااستعمال کرنے کا حکم دیا گیا جو گذشتہ انبیاء کرام کی امتوںکاحشر دیکھ کر بھی انجان بنے ہوئے تھے،اسی طرح عقل کااستعمال کرنے کامشورہ قرآن نے ان لوگوں کو بھی دیاہے ہے جو ﷲ تعالیٰ کے احکامات اور بنیادی اخلاقیات کی پامالی پر کمربستہ ہیں اور سمجھتے ہیں کہ برائی کا انجام برا نہیں ہوتا مثلاً سورۃ الانعام میں ﷲ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا کہ :

{ قل تعالوا أتل ماحرم ربکم علیکم ألا تشرکوا بہ شیأ وبالوالدین احسانا ولا تقتلوا اولادکم من املاق نحن نرزقکم وایاھم ولا تقربوا الفواحش ماظہر منھا وما بطن ولاتقتلوا النفس التی حرم اﷲ الا بالحق ذلکم وصاکم بہ لعلکم تعقلون  سورۃ الانعام 151 }

یعنی ’’(اے نبی ﷺ ) کہہ دیجئے آؤ میں بتاؤں کہ تمہارے رب نے تم پر کیا حرام کیا ہے ،یہ کہ اﷲ کے ساتھ کسی کوبھی شریک کرنا،والدین کے ساتھ احسان کرتے رہو،اولاد کو مفلسی کے خوف سے قتل نہ کرو ہم انہیں بھی رزق دیتے ہیں اور تمہیں بھی،فحش کے قریب بھی مت جاؤ خواہ وہ کھلا ہو یا چھپا ہو اور کسی ایسی جان کو ناحق قتل نہ کرو جسے اﷲ نے حرام کیا ہو یہ اﷲ تعالیٰ کی جانب سے تمہیں وصیت ہے شاید کہ تم عقل سے کام لو‘‘ یہاں تمام ایسی بنیادی اخلاقیات کا حکم دیا جارہا ہے جو اس قبل دیگر تمام شریعتوں اور مذاہب میں بھی موجود رہیں تھیں اور ان احکامات سے اعراض اور خلاف ورزی ہمیشہ سے فساد فی الارض کا باعث رہی تھی اس لئے ان احکامات کی اہمیت و افادیت کو سمجھنے کی غرض سے یہاں عقل و فہم انسانی کو دعوت دی جارہی ہے تاکہ مسلمان ان احکامات کی پابندی کو اپنے اوپر کوئی بوجھ نہ سمجھیں،اسی طرح بنیادی اخلاقیات کے خلاف ایک چیز قول و فعل کا تضاد بھی ہے ۔
اسکے متعلق قرآن کریم میں ﷲ تعالیٰ نے فرمایا کہ:

{ أتامرون الناس بالبر وتنسون انفسکم وانتم تتلون الکتاب افلا تعقلون ٭ سورۃ البقرۃ 44}

یعنی ’’کیا تم دوسروں کا نیکی کا حکم دیتے ہو اور خود اپنے آپ کو بھول جاتے ہو حالانکہ تم تو کتاب بھی پڑھتے ہو پس کیا تم عقل نہیں رکھتے‘‘
یعنی کسی غلط عمل کی کوئی تاویل یا توجیح کر کے انسان اپنے آپ کو دھوکا نہیں دے بلکہ عقل کے تقاضے کو سامنے رکھتے ہوئے جس نیکی کا حکم دوسروں کودے رہا ہے خود بھی اس پر عمل کرنے کی کوشش کرے،اسی طرح ہروہ بات جو خلاف واقعہ اور زمان ومکان کے اعتبار سے محال ہو اس پر اصرار کرنے والوں کوبھی قرآن نے عقل کے استعمال کا مشورہ دیاہے مثلاً سورۃ آل عمرآن میں ارشاد ہوا کہ:

{ یا اھل الکتاب لم تحآجون فی ابراھیم وما أنزلت التوراۃ والانجیل الامن بعدہ أفلا تعقلون سورۃ آل عمران 65}

یعنی ’’اے اہل کتاب ابرہیم علیہ السلام کے(مذہب کے)بارے میں تم کیوں جھگڑتے ہو حالانکہ توریت اور انجیل توان کے بعد نازل ہوئیں ہیں کیا تم عقل نہیں رکھتے‘‘یہاں ﷲ تعالیٰ یہود و نصاریٰ کے اس تنازع کے تذکرہ کر رہا ہے جس میں دونوں فریق یہ دعویٰ کرتے تھے کہ ابراہیم علیہ السلام ان کے مذہب پر تھے حالانکہ یہودیت اور عیسائیت جن آسمانی کتابوں کے بعد قائم ہوئی وہ ابراہیم علیہ السلام کے بعد ہیں اس لئے ایسی بات محض بے عقلی کے سوا کچھ نہیں اس لئے قرآن اسکی مذمت کر رہا ہے یعنی عقل کو استعمال کرنے کی دعوت قرآن کی تشریح یا احکامات و حدود ﷲ سے متعلق آیات کے ضمن میں پورے قرآن میں کہیں بھی نہیں ہے بلکہ اسکی تشریح  ﷲ تعالیٰ نے نبی کریم ﷺ کے اقوال ، افعال و اعمال کے ذریعہ خود فرمائی ہے جسکی دلیل قرآن کی یہ آیت ہے فرمایا:

{ فاذا قرأناہ فاتبع قرآنہ  ثم ان علینا بیانہ سورۃ القیامۃ 19۔18}

یعنی ’’جب ہم پڑھائیں تو ہمارے پڑھانے کے بعد پڑھو ،پھر اسکی تشریح بھی ہمارے ذمہ ہے‘‘ اس لئے وہ لوگ جو قرآن کی تشریح عقل ،فلسفہ اور منطق کے ذریعہ کرنا چاہتے ہیں وہ بلامبالغہ ایک بڑی گمراہی پر ہیں البتہ سورۃ بقرۃ کی ایک آیت ہے جہاں کسی کواس قسم کا اشکال ہو سکتا ہے اس آیت کے الفاظ یہ ہیں:

{ یسألونک عن الخمر والمیسر قل فیھما اثم کبیر و منافع للناس واثمھما أکبر من نفعھما ویسألونک ماذا ینفقون قل العفو کذالک یبین اﷲ لکم الآیات لعلکم تتفکرون  سورۃ البقرۃ 219}
صفحہ 4 از 5