منکرین حدیث کی تعریف و شناخت - دورِ حاضر کے فتنے | دفاع…

منکرین حدیث کی تعریف و شناخت

  مولانا اشتیاق احمد ، مدرس دارالعلوم دیوبند

صفحہ 3 از 5

یعنی ’’اﷲ سے مدد طلب کرو صبر اور نماز کے ذریعہ اور بے شک (نماز ) بڑی بھاری چیز ہے مگر ان لوگوں پر نہیں جو ﷲ سے ڈرتے ہیں ،(ﷲ سے ڈرنے والے لوگ ) وہ ہیں جو ﷲ سے ملاقات اور اسکی طرف لوٹ جانے کا ظن رکھتے ہیں‘‘صاف ظاہر ہے کہ یہاں ’’ظن ‘‘سے مراد ایمان و یقین ہے کیونکہ آخرت اور ﷲ سے ملاقات پر یقین رکھنا اسلام کاایک لازمی جزو ہے پس سورۃ نجم کی آیت میں مذکور ظن کو احادیث نبویﷺ پر لاگو کرنا محض دجل وفریب کے سوا کچھ نہیں ہے۔
دوسری بات یہ کہ دین اسلام میں بہت سے امور ہیں جن کا فیصلہ محض ظن کی بنیاد پر ہی کیا جاتا ہے مثلاً چوری ،زنا اور قتل وغیرہ کے مقدمہ میں اکثر اوقات فیصلہ اشخاص کی گواہی پر ہی کیا جاتا ہے اور گواہی کا ظنی ہونا اظہر من الشمس ہے پھر ان مقدمات میں گواہ کے جھوٹے ہونے کا امکان بھی ہمیشہ موجود رہتا ہے اسکے باوجود جو فیصلہ کیا جاتا ہے وہ سب کیلئے قابل قبول ہوتا ہے اور نافذ العمل سمجھا جاتا ہے جبکہ رواۃ حدیث کا جھوٹے ہونے امکان نہ ہونے کے برابر ہے کیونکہ محدثین نے اس سلسلہ میں جو محکم اصول بنائے ہیں اور رواۃ حدیث کے حالات و کردار کی جس انداز میں چھان پھٹک کی ہے اس سے سب واقف ہیں پس معلوم ہوا کہ اصولی طور پر احکامات اور معاملات کے ضمن میں ظن حق کو ثابت اور غالب کرنے کیلئے قابل قبول اور مفید ہے یعنی احادیث کو اگر ظنی کہا بھی جائے تب بھی احادیث امورِ دین میں دلیل و حجت ہیں

منکرین حدیث کی پانچویں شناختی علامت

منکرین حدیث کی پانچویں شناختی علامت یہ ہے کہ یہ لوگ دین کے معاملات میں عقل کو استعمال کرنے پر بہت زیادہ زور دیتے ہیں اور علمائے دین کو عقل نہ استعمال کرنے کا طعنہ دیتے ہیں بلکہ یہاں تک کہتے ہیں کہ یہ علماء چونکہ عقل استعمال نہیں کرتے اس لئے اہل علم میں شمار کرنے کے لائق بھی نہیں ہیں ثبوت کے طور پر پرویز صاحب کایہ فتویٰ ملاحظہ فرمایئے وہ لکھتے ہیں کہ:
{ کسی چیز کے حفظ کرنے میں عقل و فکر کوکچھ واسطہ نہیں ہوتااس لئے حفظ کرنے کوعلم نہیں کہاجاسکتا،ہمارے علماء کرام کی بعینہ یہی حالت ہے کہ انھوں نے قدیم زمانے کی کتابوں کواسطرح حفظ کیاہوتاہے کہ انہیں معلوم ہوتاہے کہ فلاں مسئلہ کے متعلق فلاں کتاب میں کیالکھاہے، فلاں امام نے کیاکہاہے ،فلاں مفسر کاکیاقول ہے ،فلاں محدث کاکیا ارشاد ہے اورجوکچھ انہیں ان کتابوں میں لکھاملتاہے وہ اسے حرفاًحرفاً نقل کردیتے ہیں اس میں اپنی عقل و فکر کوقطعاً دخل نہیں دینے دیتے اسلئے ہم انہیں علمائے دین کہنے کے بجائے ((Catalogurیعنی حوالہ جات کی فہرست کہتے ہیں اورعلامہ اقبال کے بقول :
’’فقیہ شہر قارون ہے لغت ہائے حجازی کا‘‘
قرآن نے اسکو’’حمل اسفار‘‘ کتابیں اٹھائے پھرنے سے تعبیر کیاہے یہ اپنے محددود دائرے میں معلومات کے حافظ ہوتے ہیں عالم نہیں ہوتے۔قرآنی فیصلے صفحہ۵۰۶ }
منکرین حدیث دینی معاملات میں عقل کے استعمال کیلئے دلیل کے طور پر قرآن کی متعدد آیات کوپیش کرتے ہیں جس کے باعث ہر وہ شخص جو اپنے آپ کو عقلمند کہلوائے جانے کا خواہشمند ہوتا ہے منکرین حدیث کے پھیلائے ہوئے اس جال میں با آسانی پھنس جاتاہے اس لئے ہم ضروری سمجھتے ہیں کہ اس مقام پر منکرین حدیث کی اس فریب کاری کا پردہ چاک بھی چاک کر دیا جائے تاکہ معلوم ہو جائے کہ قرآن نے عقل کا استعمال کس ضمن میں کرنے کا حکم دیا ہے اور کہاں ہرمسلمان عقل کے بجائے ﷲ اور اسکے رسول کے حکم کا پابند ہے ۔
اولاً عقل کا استعمال کرنے کی دعوت قرآن میں سب سے زیادہ ان مقامات پر ہے جہاں ﷲ تبارک و تعالیٰ کائنات میں پھیلی ہوئی بے شمار نشانیوں کے ذریعہ انسان کی توجہ توحید باری تعالیٰ کی جانب مبذول کرانا چاہتا ہے مثلاً سورۃ شعراء میں ارشاد ربانی ہے کہ:

{ قال رب المشرق والمغرب وماببینھما ان کنتم تعقلون سورۃ الشعراء 28}

یعنی ’’ﷲ مشرق ومغرب اور جو کچھ انکے درمیان ہے ان سب کا رب ہے ،کیا تم عقل نہیں رکھتے ‘‘
یہاں ﷲ تعالیٰ نے اپنی ربوبیت کواپنی وحدانیت پر دلیل بنایا کہ جب ساری کائنات کا پالنے والا ﷲ ہے تو پھر جو لوگ عبادت میں ﷲ کے ساتھ کسی دوسرے کوشریک کرتے ہیں وہ سراسر عقل کے خلاف کام کرتے ہیں اور سورۃ بقرۃ میں ﷲ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا کہ :

{ ان فی خلق السماوات والارض وختلاف اللیل و النھار والفلک التی تجری فی البحر بما ینفع الناس وما انزل اﷲ من السماء من ماء فأحیا بہ الارض بعد موتھا وبث فیھا من کل دآبۃ و تصریف الریح والسحاب المسخر بین السماء والارض لآیات لقوم یعقلون البقرۃ 164}

یعنی ’’بے شک آسمانوں اور زمین کی تخلیق میں،رات اور دن کے فرق میں،کشتی جو سمندر میں لوگوں کے نفع کے واسطے چلتی ہے،اﷲ تعالیٰ کا آسمان سے پانی نازل کرنا جو مردہ زمین کوزندہ کر دیتا ہے ،ہرقسم کے جانوروں کا زمین میں پھیلا دینا،ہواؤں کا چلانا اور بادلوں کا آسمان و زمین کے درمیان معلق کر دینا ،یہ سب نشانیان ہیں ان لوگوں کے لئے جو عقل رکھتے ہیں‘‘یہاں کائنات کے نظام کا محکم ہونا ﷲ تعالیٰ کی ربوبیت و وحدانیت پر بطور دلیل لایا گیا ہے تاکہ معمولی سوجھ بوجھ رکھنے والے افراد بھی ایک اور اکیلا رب اور معبود صرف ﷲ تعالیٰ کو تسلیم کر سکیں،اسی طرح اور بھی بہت سی آیات ہیں اسکے علاوہ عقل استعمال کرنے کا حکم گذشتہ اقوام کے حالات و واقعات سے سبق حاصل کرنے کے لئے بھی دیا گیا ہے۔
مثلاً سورۃ یوسف میں ارشاد ربانی ہے کہ:

{ وما أرسلنا من قبلک الا رجالا نوحی الیھم من اہل القری افلم یسیروا فی الارض فینظروا کیف کان عاقبۃ الذین من قبلھم ولدار الآخرۃ خیر للذین اتقوا افلا تعقلون سورۃ یوسف 109}
صفحہ 3 از 5