منکرین حدیث کی تعریف و شناخت - دورِ حاضر کے فتنے | دفاع…

منکرین حدیث کی تعریف و شناخت

  مولانا اشتیاق احمد ، مدرس دارالعلوم دیوبند

صفحہ 2 از 5

منکرین حدیث کی تیسری شناختی علامت

منکرین حدیث کی تیسری شناختی علامت یہ ہے کہ یہ لوگ احادیث کے ذخیروں اور تاریخ کی کتابوں میں کوئی فرق نہیں سمجھتے بلکہ اکثر اوقات اگر اپنے مطلب کی کوئی بات تاریخ کی کسی کتاب میں مل جائے جو کسی صحیح حدیث کے خلاف ہو تویہ حضرات صحیح حدیث کو چھوڑ کر بے سند تاریخی روایت کو اختیار کر لینے میں کوئی مضائقہ اور کوئی حرج نہیں سمجھتے احادیث کی کتابوں کے بارے میں اظہار خیال کرتے ہوئے پرویز صاحب فرماتے ہیں کہ:
 تاریخ دین کی کتابوں میں کتب احادیث کوخاص اہمیت حاصل ہے ان کی صحت کو عقیدہ میں شامل کیا جاتا ہے ،چناچہ بخاری شریف کو اصح الکتاب بعدکتاب اﷲ یعنی قرآن کے بعد دنیا میں سب سے زیادہ صحیح کتاب ماناجاتا ہے اور منوایا جاتا ہے لیکن کتب احادیث جس زمانے میں اور جس انداز سے مرتب ہوئی ہیں وہ اس پر شاہد ہے کہ انہیں کس حد تک حتمی اور یقینی کہا جاسکتا ہے ،بخاری شریف عہد رسالت مآب سے تقریباً سوا دو سو سال بعد مرتب ہوئی ہے اور اسکا مدار تمام تر ان روایات پر مشتمل ہے جنہیں امام بخاریؒ نے لوگوں کی زبانی سنا انہوں نے تقریباً چھ لاکھ روایت جمع کیں اور انہیں اپنے قیاس سے چھانٹا اور قریب چھ ہزار اپنے مجموعہ میں داخل کیں اب آپ خود اندازہ فرما لیجئے کہ جہاں تک حتم اور یقین کا تعلق ہے قرآن کے مقابلے میں تاریخ کی ان صحیح کتابوں کی کیا حیثیت باقی رہ جاتی ہے ٭ قرانی فیصلے جلد اول صفحہ۳۰۷ }
پرویز صاحب کے اس اقبالی بیان سے ان کا اور انکی جماعت کا منکر حدیث ہونا صاف ظاہر ہے کیونکہ کسی بھی چیز کو اس کی اصل حیثیت میں تسلیم نہ کرنا ہی درحقیقت اس چیز کا انکار ہوتا ہے مثلاً ایک شخص اپنی اولاد کواپنی اولاد ماننے کو تیار نہ ہو بلکہ بھانجا ، بھتیجا یا اور کوئی بھی رشتہ جو آپ منوانا چاہیں ماننے کو تیار ہو تو کیا اس شخص کواپنی اولاد کا منکر نہیں کہا جائے گا اسی طرح جب منکرین حدیث ان احادیث کی کتابوں کو حدیث رسولﷺ کی حیثیت سے ماننے کو تیار نہیں ہیں تو انہیں منکر حدیث نہیں تو اور کیا کہا جائے گا۔

منکرین حدیث کی چوتھی شناختی علامت

منکرین حدیث کی چوتھی شناختی علامت یہ ہے کہ یہ لوگ احادیث نبویﷺ کو وحی کی ایک قسم تسلیم کرنے سے انکار کرتے ہیں اور حصول علم کا ایک یقینی ذریعہ تسلیم کرنے کے بجائے احادیث کی کتابوں کو محض ظن اور گمان پر مشتمل مواد تصور کرتے ہیں اور اسکی دلیل قرآن سے یہ پیش کرتے ہیں کہ’’ ان الظن لا یغنی من الحق شیأ‘‘

یعنی’’ گمان کبھی حق کی جگہ نہیں لے سکتا‘‘

حالانکہ قرآن کی آیت کا یہ ٹکڑا دو وجوہات کی بنا پر اس ضمن میں قابل استدلال نہیں ہے اسکے لئے اس آیت اور اسکی ماقبل آیت کو پورا دیکھنا ضروری ہے ،ان آیات کے الفاظ یہ ہیں:

ان الذین لایؤمنون بالآخرۃ لیسمون الملائکۃ تسمیۃ الانثی ٭ ومالھم بہ من علم ان یتبعون الا الظن وان الظن لایغنی من الحق شیأ ٭ سورۃ النجم آیت ۲۷،۲۸ 

  ’’بے شک جو لوگ آخرت پر ایمان نہیں رکھتے وہ فرشتوں کو مؤنث ناموں سے پکارتے ہیں اور ان کے پاس کچھ علم نہیں وہ صرف گمان کی پیروی کرتے ہیں اور گمان کبھی حق کی جگہ نہیں لے سکتا‘‘

پہلی بات یہاں اس آیت میں لفظ ظن کو علم کے مقابلے میں لایا گیا ہے اور علم حاصل ہونے کے تین ذریعہ ہوتے ہیں یعنی سننا، دیکھنا اور محسوس کرنا۔ مثلاً ایک شخص نے لوگوں سے سنا کہ شکر سفید رنگ کی اور میٹھی ہوتی ہے لیکن خود اس شخص نے کبھی شکر دیکھی ہے اور نہ چکھی ہے تو محض سننے سے اسے جو یقین حاصل ہو گا۔اسے علم الیقین کہا جائے گا پھر وہ شکر کو دیکھ لیتا ہے اور اسے سفید ہی پاتا ہے تو اب اسے شکر کے بارے میں عین الیقین حاصل ہو جائے گا اسکے بعد اسے چکھ بھی لیتا ہے تو میٹھا ہی پاتا ہے تو اب اسے شکر کے بارے میں حق الیقین حاصل ہو جائیگا۔ پس معلو م ہوا کہ اس آیت میں ظن سے مراد محض وہم و خیال ہے کیونکہ جن لوگوں کا اس آیت کریمہ میں تذکرہ ہے کیا ان میں سے کسی نے کبھی یہ دعویٰ کیا تھا کہ اس نے فرشتوں کو دیکھا ہے اور مؤنث حالت میں دیکھا ہے ؟ صاف ظاہر ہے اہل مکہ جو فرشتوں کو مؤنث مانتے تھے ان میں سے کسی نے کبھی یہ دعویٰ نہیں کیا کہ اس نے فرشتوں کو دیکھا ہے یعنی اس ضمن میں انہیں علم کے حصول کے تینوں ذرائع میں سے کوئی بھی ذریعہ حاصل نہیں تھا جس کا ذکر قرآن یہاں کر رہا ہے اسلئے اس ظن کو احادیث نبویﷺ پر محمول کرنا بڑی بھاری غلطی ہے کیونکہ محدثین نے جن اہلِ علم سے یہ احادیث سنیں انھوں نے اس دعویٰ کے ساتھ ان احادیث کو پیش کیا یہ احادیث انھوں نے خود اپنے کانوں تابعین سے ،تابعین نے اپنے کانوں سے صحابہ کرامؓ سے اور صحابہ کرامؓ نے اپنے کانوں سے نبی کریم ﷺ سے سنی ہیں اور محدثین کرام نے احادیث بھی صرف ان لوگوں کی قبول کیں جن کا زہد و تقویٰ اور علمیت مسلمہ تھی مزید برآںجن لوگوں نے احادیث کو ظنی کہا ہے ان لوگوں کی مراد اس سے وہ ظن نہیں جو منکرین حدیث باور کرانے کی کوشش کرتے ہیں بلکہ اس سے مراد حق الیقین سے کم تر درجہ کا یقین ہے کیونکہ ظن کا لفظ بعض اوقات یقین کے معنی میں بھی استعمال ہوتا ہے جس کی مثال قرآن میں بھی موجود ہے مثلاً سورۃ بقرۃ میں ﷲ تعالیٰ کاارشاد ہے کہ :

{ واستعینوا بالصبر والصلاۃ وانھا لکبیرۃ الا علی الخاشعین الذین یظنون انھم ملاقوا ربھم وانھم الیہ راجعون سورۃ البقرۃ ۴۵،۴۶ }
صفحہ 2 از 5