علامہ انور شاہ کشمیری رحمۃاللہ علیہ پر تحریف قرآن کے الزام…

علامہ انور شاہ کشمیری رحمۃاللہ علیہ پر تحریف قرآن کے الزام کا تفصیلی جواب

  جعفر صادق

صفحہ 4 از 5

فیض الباری ہی میں اس کی مزید وضاحت کرتے ہوئے حضرتؒ نے لکھا ہے:

“والذی ینبغی فیہ النظر ھٰھنا انہ کیف ساغ لابن عباس انکار التحریف اللفظی، مع ان شاہد الوجود یخالفہ، کیف وقد نعی علیھم القرآن انھم کانوا یکتبون بایدیھم ثم یقولون ھو من عند الله وما ھو من عند الله وھل ھذا الا تحریف لفظی ولعل مرادہ انھم ما کانوا یحرفونھا قصدا ولکن سلفھم کانوا یکتبون مرادھا کما فھموہ ثم کان خلفھم یدخلونہ فی نفس التوراة فکان التفسیر یختلط بالتوراة من ھذا الطریق۔ انتہی۔” (ج:۴ ص:۳۷)

ترجمہ:…”یہاں قابلِ غور بات یہ ہے کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے تحریفِ لفظی کے نہ ہونے کا قول کس بنا پر کیا ہے؟ حالانکہ شواہد اس کے خلاف ہیں۔ پھر تحریفِ لفظی نہ ہونے کا قول کیونکر ممکن ہے، جبکہ قرآن مجید نے ان کے اس فعل قبیح کو ذکر کیا ہے کہ وہ اپنے ہاتھوں سے لکھ کر کہہ دیتے ہیں کہ: “یہ اللہ کی طرف سے ہے، حالانکہ وہ اللہ کی طرف سے نہیں ہے!” اور یہی تو تحریف ہے۔ غالباً تحریفِ لفظی نہ ہونے سے ان کی مراد یہ ہے کہ وہ قصداً ایسا نہیں کرتے بلکہ ان کے اسلاف اپنی کتابوں میں اپنی سمجھ کے مطابق ایک مفہوم لکھ دیتے، لیکن ان کے بعد آنے والوں نے اس (تشریحی نوٹ) کو تورات کے متن میں شامل کرلیا، جس کی وجہ سے اصل اور شرح میں التباس ہوگیا اور یوں تحریفِ لفظی ہوگئی۔”

اس ساری عبارت سے واضح ہوا کہ تحریفِ لفظی توراة وغیرہ کتابوں میں ہوئی ہے نہ کہ قرآن کریم میں اور حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کے قول کی تشریح بھی حضرت نے کردی کہ سلف اپنی یاد کے لئے کتابوں میں تفسیری الفاظ لکھتے تھے، خلف نے ان کو بھی متن میں شامل کردیا۔

اس تحریر کو غور سے پڑھیں اور اس کی کاپیاں بناکر اپنی طرف سے علماء میں تقسیم کریں، بڑی دین کی خدمت ہوگی۔ اہل خانہ کو درجہ بدرجہ سلام اور دعائیں عرض کریں اور مقبول دعاوٴں میں نہ بھولیں، یہ خاطی بھی داعی ہے۔ والسلام

علامه انور شاه كشميرى كا حواله فيض البارى سے كه وه تحريف كے قائل جو سرا سر خيانت سے كام ليا گيا جواب ملاحظه هو 

انور شاه کشمیری رحمہ الله نے اپنی کتاب ( فیضُ الباری شرح بخاری ) میں تحریف قرآن کا عقیده اختیار کیا ہے ۰ نعوذ بالله

الجواب =

 حقیقت اس وسوسہ کی یہ ہے کہ حضرت علامہ انـورشاه كشميری رحمہ الله ( فیضُ الباری شرح بخاری ) میں کتب سماویہ ( آسمانی کتابوں )میں تحریف سے متعلق کلام کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ

خوب جان لو کہ تحریف کے بارے میں علماء کے تین مذاہب ہیں ،

(1)ایک جماعت یہ کہتی ہے کہ کتب سماویہ (آسمانی کتابوں) میں لفظ اورمعنی دونوں کے اعتبار سے تحریف واقع ہوئ ہے ، اور علامہ ابن حزم کی بهی یہی رائے ہے ۰

(2)ایک جماعت کی رائے یہ ہے کہ تحریف کم واقع ہوئ ہے ، اورحافظ ابن تیمیہ اسی رائے کی طرف گئے ہیں ۰

(3)اور ایک جماعت نے تحریف لفظی کا بالکل انکارکیا ہے ، پس ان کے نزدیک تحریف سارا کا سارا معنوی ہے ۰

یہ تین مذاہب بیان کرنے کے بعد حضرت علامہ انور شاه کشمیری رحمہ الله اس تیسرے مذہب کے قائلین پر رد کرتے ہیں یعنی جو یہ کہتے ہیں کہ تحریف لفظی نہیں ہے سارا کا سارا معنوی ہے۔

لہذا حضرت علامہ انـورشاه كشميری رحمہ الله بطریق الزام فرماتے ہیں کہ اگر صرف تحریف معنوی ہو لفظی نہ ہو تو اس سے تو لازم آئے گا کہ قرآن بهی محَرَف ہو کیونکہ کتنے لوگوں نےقرآن میں بهی معنوی تحریف کی ہے ،

جیسے لامذہب روافض و شیعہ و قادیانیہ و منکرین حدیث و اہل بدعت وفرق وغيره نے

لہذا حضرت کشمیری ؒ فرماتے ہیں کہ میرے نزدیک تحقیقی بات یہی ہے کہ کتب سماویہ (آسمانی کتابوں ، انجیل ، تورات وغیره) میں تحریف صرف معنوی نہیں ہے بلکہ لفظی تحریف بهی ہوئ ہے ۰

یہ ہے ساری حقیقت و وضاحت حضرت علامہ أنـورشاه كشميری رحمہ الله کے قول کی جیسا کہ مسائل بیان کرتے وقت تمام علماء امت کا طریقہ ہوتا ہے ، کہ پہلے سب اقوال ذکر کرتے ہیں پهر ان میں جو راجح اور تحقیقی قول ہوتا ہے تو اس کو ذکر کرتے ہیں ، تو حضرت علامہ كشميری رحمہ الله سابقہ کتب سماویہ میں تحریف کے بارے کلام کرتے ہیں ، اور اس بارے میں تین مذاہب نقل کرنے کے بعد راجح قول ذکر کرتے ہیں ، لیکن بے وقوف اور جاہل لوگوں نے عوام کو گمراه کرنے کے لیئے اس کو کچھ اور رنگ دے دیا ، اب عوام کو کیا پتہ بلکہ خود یہ وسوسہ پهیلانے والوں کو اس کا کچھ پتہ نہیں کہ (فیضُ الباری شرح بخاری) کیا ہے اورکیسی کتاب ہے ، بس وسوسہ کسی سے سن لیا اوراس کو پلے باندھ لیا ۰

اور یہ مشہورکر دیا کہ انورشاه کشمیری رحمہ الله نے اپنی کتاب ( فیضُ الباری ) میں تحریف قرآن کا عقيده اختيار كيا ہے ،نعوذ بالله عداوت و جہالت و تعصب بڑی بری بلا ہے ، کہ آدمی کو اپنے مخالف کے ضد میں کتنے بڑے بڑے کبائر میں ڈال دیتی ہے ، الله کی پناه الله تعالی اس اندهی عدوات و تعصب سے ہمیں محفوظ رکهے۔

حضرت علامہ كشميری رحمہ الله کی عربی عبارت درج ذیل ہے ،

واعلم أنَّ في التحريف ثلاثةُ مذاهبَ: ذهب جماعةٌ إلى أن التحريفَ في الكتب السماوية قد وقع بكُلِّ نحو في اللفظ والمعنى جميعًا، وهو الذي مال إليه ابنُ حَزْم؛ وذهب جماعةٌ إلى أن التحريف قليلٌ، ولعلَّ الحافِظَ ابنَ تيميةَ جنح إليه؛ وذهب جماعةٌ إلى إنكارِ التحريف اللفظي رأسًا، فالتحريفُ عندهم كلُّه معنوي.

قلت: يَلْزَمُ على هذا المذهب أن يكونَ القرآنُ أيضًا مُحرَّفًا، فإِنَّ التحريفَ المعنويِّ غيرُ قليل فيه أيضًا، والذي تحقَق عندي أن التحريفَ فيه لفظيُّ أيضًا، أما إنه عن عمد منهم، لمغلطة. فالله تعالى أعلم به ۰

حضرت علامہ كشميری رحمہ الله کا قول ( والذي تحقق عندي ) یعنی میرے نزدیک تحقیقی قول یہ ہے ، اب تحقیقی قول کس مسئلہ میں ذکرکر رہے ہیں ؟ وہی سابقہ کتب سماویہ ( آسمانی کتابوں ) میں تحریف کے متعلق تین مذاہب ذکر کرنے کے بعد اپنا تحقیقی قول پیش کرتے ہیں ۰

حضرت علامہ انور شاہ كشميری رحمہ الله کا قول ( إما أنه عن عمد منهم ) یہ( هُم ) ضمیر راجع ہے اہل كتاب کی طرف اور یہ دراصل ابن عباس رضی الله عنہ کا ایک اثر ہے جس کو حضرت علامہ انور شاہ كشميری رحمہ الله نے مختصرا ذکر کیا ہے ۰

صفحہ 4 از 5