علامہ انور شاہ کشمیری رحمۃاللہ علیہ پر تحریف قرآن کے الزام…

علامہ انور شاہ کشمیری رحمۃاللہ علیہ پر تحریف قرآن کے الزام کا تفصیلی جواب

  جعفر صادق

صفحہ 3 از 5

اوّل:…یہ کہ حضرت ابن عباسؒ کے ارشاد میں اہل کتاب کا اپنی کتاب میں تحریف کردینا مذکور تھا، حضرت شاہ صاحبؒ نے اس سلسلے میں تین مذہب نقل کئے۔ ایک یہ کہ اہل کتاب کی کتاب میں تحریف بکثرت ہے۔ دوم یہ کہ تحریف ہے تو سہی مگر کم ہے۔ سوم یہ کہ تحریفِ لفظی سرے سے نہیں صرف تحریفِ معنوی ہے۔ حضرت شاہ صاحبؒ ان تین اقوال کو نقل کرکے اپنا محققانہ فیصلہ صادر فرماتے ہیں کہ: اہل کتاب کی کتاب میں تحریفِ لفظی موجود ہے، اب رہا یہ کہ یہ تحریف انہوں نے جان بوجھ کر کی ہے یا غلطی کی وجہ سے صادر ہوئی ہے؟ اس کو اللہ تعالیٰ ہی بہتر جانتے ہیں۔ الغرض گفتگو تمام تر اس میں ہے کہ اہل کتاب کی کتاب میں تحریفِ لفظی ہوئی ہے یا نہیں؟ اگر ہوئی ہے تو قلیل ہے یا کثیر؟ اسی کے بارے میں تین مذاہب ذکر فرمائے ہیں اور اسی تحریف فی الکتاب کے بارے میں اپنا محققانہ فیصلہ صادر فرمایا ہے، قرآن کریم کی تحریفِ لفظی کا دور و نزدیک کہیں تذکرہ ہی نہیں کہ اس کے بارے میں حضرت شاہ صاحبؒ یہ فرمائیں کہ: “جو چیز کہ میرے نزدیک محقق ہوئی ہے وہ یہ کہ اس میں تحریفِ لفظی موجود ہے۔”

دوم:…شاہ صاحبؒ نے تیسرا قول یہ نقل کیا تھا کہ کتبِ سابقہ میں صرف تحریفِ معنوی ہوئی ہے، تحریفِ لفظی نہیں ہوئی، حضرت شاہ صاحبؒ اس کو غلط قرار دیتے ہوئے ان قائلینِ تحریف کو الزام دیتے ہیں کہ اگر صرف تحریفِ معنوی کی وجہ سے ان کتب کو محرف قرار دیا جائے تو اس سے لازم آئے گا کہ قرآن کریم کو بھی محرف کہا جائے -نعوذ باللہ- کیونکہ اس میں بھی لوگوں نے تحریفِ معنوی کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ اس سے دو باتیں صاف طور پر واضح ہوتی ہیں، ایک یہ کہ قرآن کریم کی تحریفِ معنوی کے ساتھ اس مذہب والوں کو الزام دینا، اس امر کی دلیل ہے کہ قرآن میں تحریفِ لفظی کا کوئی بھی قائل نہیں۔ دوسری بات یہ واضح ہوتی ہے کہ اگر حضرت شاہ صاحبؒ -نعوذ بالله- قرآن کریم کی تحریفِ لفظی کے قائل ہوتے تو صرف تیسرے مذہب والوں کو الزام نہ دیتے، بلکہ پہلے اور دوسرے قول والوں پر بھی یہی الزام عائد کرتے۔

یہ میں نے صرف اس عبارت کی تشریح کی ہے جس سے آپ کو حضرت شاہ صاحبؒ کی بات سمجھنے میں غلطی ہوئی ہے، ورنہ قرآن کریم کا تحریفِ لفظی سے پاک ہونا ایک ایسی حقیقت ہے جس کا کوئی بھی منکر نہیں ہوسکتا۔ حضرت شاہ صاحبؒ کی کتاب مشکلات القرآن کا مقدمہ ملاحظہ فرمالیا جائے۔

حسنِ اتفاق کہ اسی طرح کا ایک سوال امام اہل سنت حضرت مولانا ابو زاہد محمد سرفراز خان صفدر زید مجدہم سے بھی کیا گیا، انہوں نے فیض الباری کی اس عبارت کی وضاحت فرمائی ہے جس سے شیعہ تحریفِ قرآن پر استدلال کرتے ہوئے اسے مناظروں میں پیش کرتے ہیں۔ شیعہ یہ تأثر دینا چاہتے ہیں کہ -نعوذ بالله- فیض الباری میں ہے کہ امام العصر حضرت مولانا محمد انور شاہ کشمیری اور مولانا بدرعالم میرٹھی قدس اللہ اسرارہما بھی تحریف کے قائل تھے۔

حضرت مولانا محمد سرفراز خان دامت برکاتہم العالیہ نے اس پروپیگنڈا کا جواب اور غلط فہمی کی وضاحت اپنے ایک مسترشد جناب مولانا عبدالحفیظ صاحب کے نام ایک مکتوب میں فرمائی اور ہدایت فرمائی کہ اسے عام کیا جائے۔ جس پر موصوف نے اس کی فوٹواسٹیٹ بھیج کر ہم پر احسان فرمایا ہے۔ چونکہ حضرت مولانا محمد سرفراز خان صفدر مدظلہؒ کے مکتوبِ سامی میں درج فیض الباری کی عربی عبارتوں کا اردو ترجمہ نہ تھا، اس لئے افادہٴ عام کی غرض سے اس کا اردو ترجمہ کردیا گیا۔

ذیل میں حضرت مولانا ابو زاہد سرفراز خاں صفدر کی وضاحت انہیں کے الفاظ میں قارئین کی خدمت میں پیش کی جاتی ہے۔

امامِ اہلِ سنت کا مکتوب

باسمہ سبحانہ وتعالیٰ

“عزیز القدر جناب حضرت مولانا عبدالحفیظ صاحب دام مجدہم۔ السلام علیکم ورحمة اللہ وبرکاتہ، مزاجِ گرامی!

عزیز القدر! فیض الباری ج:۳ ص:۳۹۵ میں ہے:

“واعلم ان فی التحریف ثلاثة مذاھب۔ ذھب جماعة الیٰ ان التحریف فی الکتب السماویة قد وقع بکل نحو فی اللفظ والمعنی جمیعا، وھو الذی مال الیہ ابن حزم۔ وذھب جماعة الیٰ ان التحریف قلیل، ولعل الحافظ ابن تیمیة جنح الیہ۔ وذھب جماعة الیٰ انکار التحریف اللفظی راسًا فالتحریف عندھم کلہ معنوی، قلت یلزم علیٰ ھذا المذھب ان یکون القرآن ایضاً، والذی تحقق عندی ان التحریف فیہ لفظی ایضا اما انہ عن عمد منھم او لمغلطة، فالله تعالیٰ اعلم بہ!”

ترجمہ:…”معلوم ہونا چاہئے کہ تحریف کے بارے میں تین مذہب ہیں۔ ایک جماعت کا خیال ہے کہ کتبِ سماویہ میں تحریفِ لفظی اور معنوی دونوں ہوئی ہیں، ابن حزم اسی کے قائل ہیں۔ دوسری جماعت کا نظریہ یہ ہے کہ کتبِ سماویہ میں تھوڑی سی تحریف ہوئی ہے، غالباً ابن تیمیہؒ کا جھکاوٴ اسی طرف ہے۔ تیسری جمات کی رائے یہ ہے کہ تحریفِ لفظی تو نہیں ہوئی البتہ تحریفِ معنوی ہوئی ہے۔ اس جماعت کے نظریہ کے مطابق لازم آئے گا کہ قرآن مجید بھی تحریف سے خالی نہیں، کیونکہ اس میں بھی تحریفِ معنوی ہوئی ہے۔ لیکن میرے نزدیک محقق بات یہ ہے کہ اس میں تحریفِ لفظی بھی ہوئی ہے، یا تو انہوں نے عمداً ایسا کیا ہے، یا پھر مغالطہ کی بنا پر ایسا ہوا ہے، والله اعلم!”

عزیز القدر! اس عبارت میں “فیھا” کی جگہ “فیہ” لکھا گیا ہے، اصل عبارت یوں ہے:

“ان التحریف فیھا (ای الکتب السماویة کالتوراة والانجیل وغیرھما) لفظی ایضًا۔”

ترجمہ:…”فیھا کی ضمیر کا مرجع کتبِ سماویہ ہیں، یعنی کتبِ سماویہ تورات، زبور و انجیل وغیرہ میں تحریف ہوئی ہے نہ کہ قرآن میں۔ مگر فیہ کی ضمیر مفرد مذکر کی وجہ سے یہ مغالطہ ہوا کہ شاید قرآن میں تحریف ہوئی ہے۔”

اس کی دلیل فیض الباری ج:۴ ص:۵۳۷ کی یہ عبارت ہے:

“واعلم ان اقوال العلماء فی وقوع التحریف ودلائلھم کلھا قد قضیٰ عنہ الوطر المحشی فراجعہ۔”

بخاری شریف کے پچیس پاروں کا حاشیہ حضرت مولانا احمد علی سہارنپوریؒ نے لکھا ہے، فالج کے حملے کے بعد بقیہ پانچ پاروں کا حاشیہ حضرت مولانا محمد قاسم نانوتویؒ نے کیا ہے۔ سوانح قاسمی از مولانا محمد یعقوب صاحبؒ اور اس مقام پر حاشیہ میں محشی یعنی حاشیہ لکھنے والے حضرت نانوتویؒ نے حاجت پوری کردی ہے اور مقام کا حق ادا کردیا ہے۔ (ملاحظہ ہو: بخاری ج:۲ ص:۱۱۲۷ کا حاشیہ نمبر:۱)۔

صفحہ 3 از 5