علامہ انور شاہ کشمیری رحمۃاللہ علیہ پر تحریف قرآن کے الزام…

علامہ انور شاہ کشمیری رحمۃاللہ علیہ پر تحریف قرآن کے الزام کا تفصیلی جواب

  جعفر صادق

صفحہ 2 از 5

اسی طرح حضرت علامہ كشميری رحمہ الله فرماتے ہیں ،

باب من قال لم يترك النبي صلى الله عليه وسلم الا ما بين الدفتين

رد على الروافض حيث زعم الملاعنة ان عثمان نقص من القرآن ،

فيض الباري شرح صحيح البخاري ج 3 ص 464 یعنی یہ باب جو امام بخاری رحمہ الله نے قائم کیا ہے ، یہ روافض کے رد میں ہے کیونکہ یہ روافض ملعون یہ عقیده رکهتے ہیں کہ حضرت عثمان رض نے قرآن میں کمی (تحریف) کی ہے ۰

اسی طرح حضرت علامہ كشميری رحمہ الله فرماتے ہیں ،

کہ مختار بات یہ ہے کہ روافض کافر ہیں ، کیونکہ جمہور صحابہ کی تکفیر کرنے والا کافر ہے ۰ الخ اور روافض کے کفرکی ایک وجہ تحریف قرآن کا عقیده بهی ہے اور روافض کی مستند کتب اس پر شاہد عدل ہیں ۰

وقال الإمام الكشميري رحمه الله

والمختار تكفيرهم فإن مكفرجمهور الصحابة كافر ، الخ

وللروافض فى القرآن العظيم أقوال

قيل زاد فيه عثمان ونقص ، وقيل : نقص ولم يزد ، وقيل : انه محفوظ ، ولايقولون بصحة أحاديث كتب أهل السنة ، ولهم صحاح أربعة ، وهي سقام ومفتريات ٠

( ألعرف الشذي شرح سنن الترمذي ج 1 ص 82 )

...........................................................

آپ کے مسائل اور ان کا حل میں مولانا یوسف لدھیانوی شہید ؒ کا جواب

سوال… ایک شخص جو خود کو عالم دین کہلاتا ہو، اور خود کو اہل سنت و جماعت ثابت کرتا ہو، وہ قرآن شریف میں تحریفِ لفظی کا قائل ہو، اس کے بارے میں شرعی حکم کیا ہے؟ جبکہ یہی سنا گیا ہے کہ قرآن شریف میں کسی طرح کوئی تحریف ممکن نہیں کیونکہ اس کی حفاظت خود اللہ تعالیٰ نے اپنے ذمہ لی ہے، امید ہے کہ تحقیقی اور قطعی جواب سے نوازیں گے۔

جواب… اہل سنت میں کوئی شخص قرآن کریم میں تحریفِ لفظی کا قائل نہیں، بلکہ اہل سنت کے نزدیک ایسا شخص اسلام سے خارج ہے۔ اس مسئلہ کو میری کتاب “شیعہ سنی اختلافات اور صراطِ مستقیم” میں دیکھ لیا جائے۔ میرا خیال ہے کہ آپ کو ان صاحب کے بارے میں غلط فہمی ہوئی ہوگی۔

سوال… آپ کی خدمت میں ایک سوال قرآن مجید میں تحریفِ لفظی کے قائل کے بارے میں شرعی حکم کے جاننے کے لئے پیش کیا تھا۔ آپ نے جواب کے بعد تحریر فرمایا ہے کہ: “میرا خیال ہے کہ آپ کو ان صاحب کے بارے میں غلط فہمی ہوئی ہوگی” اس جملے کے بعد میں نے ضروری سمجھا کہ آپ سے مزید اطمینان کروں تاکہ تحریفِ لفظی کے قائل کے بارے میں مجھے یقین رہے کہ شریعت کا حکم کیا ہے؟ اس لئے آپ کی خدمت میں اس عالم دین کے اصل الفاظ پیش کرتا ہوں، وہ فرماتے ہیں:

“میرے نزدیک تحقیق یہ ہے کہ قرآن میں محققانہ طور پر (معنوی ہی نہیں) تحریفِ لفظی بھی ہے، یا تو لوگوں نے جان بوجھ کر کی ہے یا کسی مغالطے کی وجہ سے کی ہے۔”

ان الفاظ میں وہ یہی فرما رہے ہیں کہ قرآن کریم میں تحریفِ لفظی ہے، جبکہ ہم نے یہی سنا ہے کہ قرآن کریم اپنے نزول سے آج تک ہر طرح کی تحریف سے محفوظ ہے۔ قرآن میں سامنے سے یا پیچھے سے باطل راہ نہیں پاسکتا اور قرآن کی حفاظت کا اللہ تعالیٰ نے خود ذمہ لیا ہے، اور یہی سنا ہے کہ قرآن میں کسی طرح تحریف کا قائل کوئی مسلمان نہیں، اگر کوئی مسلمان کہلانے والا ایسا کہے تو وہ مرتد ہوجاتا ہے۔

اب تک شیعہ فرقہ کے بارے میں سنا تھا کہ وہ قرآن میں تحریف کے قائل ہیں، لیکن ایک اہل سنت و جماعت کہلانے والے عالم نے تحقیقی طور پر ایسا کیا ہے، اس لئے مجھے بہت تشویش ہوئی کہ قرآن کی ہر طرح حفاظت اللہ نے اپنے ذمہ لی ہے، اس کے باوجود قرآن میں تحریف مانی جارہی ہے، اس لئے میں نے حقیقت جاننے کے لئے آپ سے رہنمائی چاہی ہے۔ یہ بھی بتائیے کہ ماضی میں بھی کبھی کوئی سنی عالم قرآن میں تحریفِ معنوی یا تحریفِ لفظی کا قائل رہا ہے؟ امید ہے کہ آپ قطعی شرعی احکام سے آگاہ فرمائیں گے، شکریہ!

جواب … میں پہلے خط میں عرض کرچکا ہوں کہ اہل سنت میں کوئی شخص تحریف فی القرآن کا قائل نہیں، میں نے یہ بھی لکھا تھا کہ: “آپ کو ان صاحب کے بارے میں غلط فہمی ہوئی ہوگی” میرا یہ خیال صحیح نکلا، چنانچہ آپ نے جو عبارت ان صاحب سے منسوب کی ہے وہ ان کی عبارت نہیں، بلکہ غلط فہمی سے آپ نے منسوب کردی ہے۔

اس کی شرح یہ ہے کہ فیض الباری (ج:۳ ص:۳۹۵) میں حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ کے قول کی (جو صحیح بخاری ج:۱ ص:۳۶۹ میں منقول ہے) کہ: “اللہ تعالیٰ نے تمہیں (مسلمانوں کو) بتادیا ہے کہ اہل کتاب نے اللہ تعالیٰ کے نوشتہ کو بدل ڈالا، اور کتاب میں اپنے ہاتھوں سے تبدیلی پیدا کردی ہے۔” اس کی شرح میں حضرت امام العصر مولانا محمد انور شاہ کشمیریؒ فرماتے ہیں:

“جاننا چاہئے کہ تحریف (فی الکتب السابقہ) میں تین مذہب ہیں۔

۱:ایک جماعت اس طرف گئی ہے کہ کتبِ سماویہ میں تحریف ہر طرح کی ہوئی ہے، لفظی بھی اور معنوی بھی۔ ابن حزمؒ اسی کی طرف مائل ہیں۔

۲:ایک جماعت کا مذہب یہ ہے کہ تحریف قلیل ہے، شاید حافظ ابن تیمیہؒ کا رجحان اسی طرف ہے۔

۳:اور ایک جماعت تحریفِ لفظی کی سرے سے منکر ہے، پس تحریف ان کے نزدیک سب کی سب معنوی ہے۔

میں کہتا ہوں کہ اس (موٴخر الذکر) مذہب پر لازم آئے گا کہ (نعوذ باللہ) قرآن بھی محرف ہو، کیونکہ تحریفِ معنوی اس میں بھی کچھ کم نہیں کی گئی (واللازم باطل فالملزوم مثلہ)۔ اور جو چیز میرے نزدیک محقق ہوئی ہے وہ یہ ہے کہ ان میں (یعنی کتبِ سماویہ میں) تحریفِ لفظی بھی ہوئی ہے یا تو انہوں نے جان بوجھ کر کی یا غلطی کی وجہ سے؟ پس اللہ تعالیٰ ہی اس کو بہتر جانتے ہیں۔”

یہ حضرت شاہ صاحبؒ کی پوری عبارت کا ترجمہ ہے، اب دو باتوں پر غور فرمائیے:

صفحہ 2 از 5