علامہ انور شاہ کشمیری رحمۃاللہ علیہ پر تحریف قرآن کے الزام…

علامہ انور شاہ کشمیری رحمۃاللہ علیہ پر تحریف قرآن کے الزام کا تفصیلی جواب

  جعفر صادق

صفحہ 1 از 5

علامہ انور شاہ کشمیری رحمۃاللہ علیہ پر تحریف قرآن کے الزام کا جواب

اعتراض:انور شاه کشمیری رحمہ الله نے اپنی کتاب ( فیضُ الباری شرح بخاری ) میں تحریف قرآن کا عقیده اختیار کیا ہے ۰ نعوذ بالله

الجواب =

یہ باطل وکاذب وسوسہ رافضی شیعوں نے مشہور کیا ہے ، اور عوام کو گمراه کرنے کے لیئے بلا خوف و خطر اس وسوسہ کو استعمال کرتے ہیں ، حقیقت اس وسوسہ کی یہ ہے کہ حضرت علامہ انـورشاه كشميری رحمہ الله ( فیضُ الباری شرح بخاری ) میں کتب سماویہ ( آسمانی کتابوں )میں تحریف سے متعلق کلام کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ

خوب جان لو کہ تحریف کے بارے میں علماء کے تین مذاہب ہیں۔
1 =

ایک جماعت یہ کہتی ہے کہ کتب سماویہ (آسمانی کتابوں) میں لفظ اورمعنی دونوں کے اعتبار سے تحریف واقع ہوئ ہے ، اور علامہ ابن حزم کی بهی یہی رائے ہے ۰

2 =

ایک جماعت کی رائے یہ ہے کہ تحریف کم واقع ہوئ ہے ، اورحافظ ابن تیمیہ اسی رائے کی طرف گئے ہیں ۰

3 =

اور ایک جماعت نے تحریف لفظی کا بالکل انکارکیا ہے ، پس ان کے نزدیک تحریف سارا کا سارا معنوی ہے ۰

یہ تین مذاہب بیان کرنے کے بعد حضرت علامہ انور شاه کشمیری رحمہ الله اس تیسرے مذہب کے قائلین پر رد کرتے ہیں یعنی جو یہ کہتے ہیں کہ تحریف لفظی نہیں ہے سارا کا سارا معنوی ہے ،

لہذا حضرت علامہ انـورشاه كشميری رحمہ الله بطریق الزام فرماتے ہیں کہ اگر صرف تحریف معنوی ہو لفظی نہ ہو تو اس سے تو لازم آئے گا کہ قرآن بهی محَرَف ہو کیونکہ کتنے لوگوں نےقرآن میں بهی معنوی تحریف کی ہے ،

جیسے لامذہب روافض و شیعہ و قادیانیہ و منکرین حدیث و اہل بدعت وفرق ضالہ نے قرآن میں تحریف معنوی کی ہے، تحریف معنوی کی ایک مشہور مثال یہ ہے ،

مثلا قادیانی امت یہ عقیده رکهتی ہے کہ لفظ (خـَاتـَمُ النَبيين ) کا معنی ہے ( أفضلُ النبيين وخيرُ النبيين ) قادیانی یہ عقیده رکهتے ہیں کہ خاتم کا معنی آخری نہیں ہے ، لہذا یہ قرآن میں تحریف معنوی کی ایک مشہورمثال ہے ۰)

لہذا حضرت کشمیری ؒ فرماتے ہیں کہ میرے نزدیک تحقیقی بات یہی ہے کہ کتب سماویہ (آسمانی کتابوں ، انجیل ، تورات وغیره) میں تحریف صرف معنوی نہیں ہے بلکہ لفظی تحریف بهی ہوئ ہے ۰

یہ ہے ساری حقیقت و وضاحت حضرت علامہ أنـورشاه كشميری رحمہ الله کے قول کی جیسا کہ مسائل بیان کرتے وقت تمام علماء امت کا طریقہ ہوتا ہے ، کہ پہلے سب اقوال ذکر کرتے ہیں پهر ان میں جو راجح اور تحقیقی قول ہوتا ہے تو اس کو ذکر کرتے ہیں ، تو حضرت علامہ كشميری رحمہ الله سابقہ کتب سماویہ میں تحریف کے بارے کلام کرتے ہیں ، اور اس بارے میں تین مذاہب نقل کرنے کے بعد راجح قول ذکر کرتے ہیں ، لیکن بے وقوف اور جاہل لوگوں نے عوام کو گمراه کرنے کے لیئے اس کو کچھ اور رنگ دے دیا ، اب عوام کو کیا پتہ بلکہ خود یہ وسوسہ پهیلانے والوں کو اس کا کچھ پتہ نہیں کہ (فیضُ الباری شرح بخاری) کیا ہے اورکیسی کتاب ہے ، بس وسوسہ کسی سے سن لیا اوراس کو پلے باندھ لیا ۰

اور یہ مشہورکر دیا کہ انورشاه کشمیری دیوبندی رحمہ الله نے اپنی کتاب ( فیضُ الباری ) میں تحریف قرآن کا عقيده اختيار كيا ہے ،نعوذ بالله عداوت و جہالت و تعصب بڑی بری بلا ہے ، کہ آدمی کو اپنے مخالف کے ضد میں کتنے بڑے بڑے کبائر میں ڈال دیتی ہے ، الله کی پناه الله تعالی اس اندهی عدوات و تعصب سے ہمیں محفوظ رکهے ۰

حضرت علامہ كشميری رحمہ الله کی عربی عبارت درج ذیل ہے ،

واعلم أنَّ في التحريف ثلاثةُ مذاهبَ: ذهب جماعةٌ إلى أن التحريفَ في الكتب السماوية قد وقع بكُلِّ نحو في اللفظ والمعنى جميعًا، وهو الذي مال إليه ابنُ حَزْم؛ وذهب جماعةٌ إلى أن التحريف قليلٌ، ولعلَّ الحافِظَ ابنَ تيميةَ جنح إليه؛ وذهب جماعةٌ إلى إنكارِ التحريف اللفظي رأسًا، فالتحريفُ عندهم كلُّه معنوي.

قلت: يَلْزَمُ على هذا المذهب أن يكونَ القرآنُ أيضًا مُحرَّفًا، فإِنَّ التحريفَ المعنويِّ غيرُ قليل فيه أيضًا، والذي تحقَق عندي أن التحريفَ فيه لفظيُّ أيضًا، أما إنه عن عمد منهم، لمغلطة. فالله تعالى أعلم به ۰

حضرت علامہ كشميری رحمہ الله کا قول ( والذي تحقق عندي ) یعنی میرے نزدیک تحقیقی قول یہ ہے ، اب تحقیقی قول کس مسئلہ میں ذکرکر رہے ہیں ؟ وہی سابقہ کتب سماویہ ( آسمانی کتابوں ) میں تحریف کے متعلق تین مذاہب ذکر کرنے کے بعد اپنا تحقیقی قول پیش کرتے ہیں ۰

حضرت علامہ انور شاہ كشميری رحمہ الله کا قول ( إما أنه عن عمد منهم ) یہ( هُم ) ضمیر راجع ہے اہل كتاب کی طرف اور یہ دراصل ابن عباس رضی الله عنہ کا ایک اثر ہے جس کو حضرت علامہ انور شاہ كشميری رحمہ الله نے مختصرا ذکر کیا ہے ۰

حاصل یہ کہ حضرت علامہ كشميری رحمہ الله کی رائے یہ ہے کہ کتب سماویہ ( آسمانی کتابوں ) میں تحریف لفظی و معنوی دونوں طرح ہوئی ہے ، اور یہی بات حضرت نے اپنے اس مذکوره بالا کلام میں بیان کی ہے ، اور حضرت علامہ كشميری رحمہ الله نے اپنی اس رائے و قول کو (فيض الباري) میں ایک دوسرے مقام پر اس طرح پیش کیا ہے ،

قال الإمام العلامة الحافظ الحجة الثقة الثبت المحقق الفقيه المفسر المحدث الشيخ السيد أنـورشاه الكشميري رحمه الله في كتابه العظيم المسمى بــ " فيض الباري "

قوله: ( قال ابنُ عَبَّاسٍ:... {يُحَرّفُونَ} يُزِيلُونَ، ولَيْسَ أَحَدٌ يُزِيلُ لفْظَ كِتَابٍ مِنْ كُتُبِ اللَّهِ، ولكِنَّهُمْ يُحَرِّفُونَهُ، يَتَأَوَّلُونَهُ عَلَى غَيْرِ تَأْوِيلِهِ) واعلم أن أقوالَ العلماء في وقوع التحريف، ودلائلَهمن كلَّها قد قضى عنه الوَطَرَ المُحَشِّي، فراجعه. والذي ينبغي فيه النظرُ ههنا أنه كيف سَاغَ لابن عبَّاس إنكارُ التحريف اللفظيِّ، مع أن شاهد الوجود يُخَالِفُهُ. كيف وقد نعى عليهم القرآن أنَّهم كانوا يَكْتُبُونَ بأيديهم، ثم يقولون {هُوَ مِنْ عِندِ اللَّهِ وَمَا هُوَ مِنْ عِندِ اللَّهِ} (آل عمران: ۷۸)، وهل هذا إلاَّ تحريفٌ لفظيٌّ، ولعلَّ مرادَه أنَّهم ما كانوا يُحَرِّفونها قصداً، ولكن سَلَفهم كانوا يَكْتُبُون مرادها كما فَهِمُوه. ثم كان خَلَفُهم يُدْخِلُنَه في نفس التوراة، فكان التفسيرُ يَخْتَلِطُ بالتوراة من هذا الطريق۰

صفحہ 1 از 5