مشاجرات صحابہ رضی اللہ عنہم میں امت کا عقیدہ اور عمل -…

مشاجرات صحابہ رضی اللہ عنہم میں امت کا عقیدہ اور عمل

  پروفیسر نقیہ کاظمی

صفحہ 7 از 7

ترجمہ: اس لیے کہ جو نزاع و جدال اور دفاع و قتال صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے درمیان پیش آیا وہ اس اجتہاد کی بنا پر تھا جو فریقین کے سرداروں نے کیا تھا اور فریقین میں سے ہر ایک کا مقصد اچھا تھا، اگرچہ اس اجتہاد میں برحق فریق ایک ہی ہے اور وہ سیدنا علیؓ اور ان کے رفقا ہیں اور خطا پر وہ حضرات ہیں جنہوں نے سیدنا علیؓ سے نزاع و عداوت کا معاملہ کیا البتہ جو فریق خطا پر تھا، اسے بھی ایک اجر و ثواب ملے گا، اس عیقدہ میں صرف اہلِ جفا و عناد ہی اختلاف کرتے ہیں، لہٰذا صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے درمیان مشاجرات کی جو صحیح روایات ہیں ان کی بھی اس میں تشریح کرنا واجب ہے جو ان حضرات سے گناہوں کے الزام کو دور کرنے والی ہو، لہٰذا سیدنا علیؓ اور سیدنا عباسؓ کے درمیان جو تلخ کلامی ہوئی وہ کسی کے لیے موجب عیب نہیں، نیز ابتداء میں سیدنا علیؓ نے جو سیدنا ابوبکرؓ کے ہاتھ پر بیعت نہیں کی تھی، وہ دو باتوں میں سے کسی ایک وجہ سے تھی، یا تو اس لیے کہ ان سے مشورہ نہیں لیا گیا تھا، جیسا کہ خود انہوں نے اسی پر رنجیدگی کا اظہار فرمایا، یا پھر اس سے سیدہ فاطمہؓ کی دلداری مقصود تھی جو یہ سمجھتی تھیں کہ آںحضرتﷺ کی میراث سے جو حصہ مجھے ملنا چاہیے، وہ ملے پھر سیدنا علیؓ نے بلاشبہ تمام لوگوں کے سامنے سیدنا ابوبکرؓ کے ہاتھ پر بیعت کی اور اللہ کے فضل سے مسلمانوں کی بات ایک ہوگئی اور مقصد حاصل ہو گیا۔

اسی طرح سیدنا علیؓ نے سیدنا عثمانؓ کا قصاص لینے میں جو توقف سے کام لیا وہ یا تو اس بنا پر تھا کہ یقینی طور سے قاتل معلوم نہ ہو سکا یا اس لیے کہ فتنہ فساد میں اضافہ کا اندیشہ تھا اور سیدہ عائشہؓ، سیدنا طلحہؓ، سیدنا زبیرؓ، سیدنا امیرِ معاویہؓ اور ان کے متبعین نے سیدنا علیؓ کے مقابلہ میں جنگ کرنے کو جو جائز سمجھا اس میں ان میں سے بعض حضرات مجتہد تھے اور بعض ان کی تقلید کرنے والے۔

اور اس بات پر اہلِ حق کا اتفاق ہے کہ ان جنگوں میں حق بلاشبہ سیدنا علیؓ کے ساتھ تھا اور وہ عقیدہ برحق جس پر کوئی مصالحت نہیں ہوسکتی، یہ ہے کہ یہ تمام حضراتِ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین عادل ہیں اس لیے کہ ان تمام جنگوں میں انہوں نے تاویل اور اجتہاد سے کام لیا اس لیے کہ اہلِ حق کے نزدیک اگرچہ حق ایک ہی ہوتا ہے لیکن حق تک پہنچنے کے لیے پوری کوشش صرف کرنے اوراس میں کوتاہی نہ کرنے کے بعد کسی سے غلطی بھی ہو جائے تو وہ ماجور ہی ہوتا ہے، گناہ گار نہیں۔

اور در حقیقت ان جنگوں کا سبب معاملات کا اشتباہ تھا، یہ اشتباہ اتنا شدید تھا کہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی اجتہادی آرا مختلف ہوگئیں اور وہ تین قسموں میں بٹ گئے، صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی ایک جماعت تو وہ تھی جس کے اجتہاد نے اسے اس نتیجہ تک پہنچایا کہ حق فلاں فریق کے ساتھ ہے اور اس کا مخالف باغی ہے، لہٰذا اس پر اپنے اجتہاد کے مطابق برحق فریق کی مدد کرنا اور باغی فریق سے لڑنا واجب ہے چنانچہ انہوں نے ایسا ہی کیا اور ظاہر ہے کہ جس شخص کا حال یہ ہو اس کے لیے ہرگز مناسب نہیں تھا کہ وہ امام عادل و برحق کی مدد اور باغیوں سے جنگ کے فریضے میں کوتاہی کرے۔ دوسری قسم اس کے برعکس ہے اور اس پر بھی تمام وہی باتیں صادق آتی ہیں جو پہلی قسم کے لیے بیان کی گئی ہیں، صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی ایک تیسری جماعت وہ تھی جس کے لیے کچھ فیصلہ کرنا مشکل تھا اور اس پر یہ واضح نہ ہو سکا کہ فریقین میں سے کس کو ترجیح دے یہ جماعت فریقین سے کنارہ کش رہی اور ان حضرات کے حق میں یہ کنارہ کشی ہی واجب تھی اس لیے کہ جب تک کوئی شرعی وجہ واضح نہ ہو، کسی مسلمان کے خلاف قتال کا اقدام حلال نہیں ہوتا۔ خلاصہ یہ ہے کہ تمام صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین معذور اور ماجور ہیں، گناہ گار نہیں، یہی وجہ ہے کہ اہلِ حق کے تمام قابلِ ذکر علماء کا اس پر اجماع ہے کہ ان کی شہادتیں بھی قبول ہیں اور ان کی روایات بھی اور ان سب کے لیے عدالت ثابت ہے۔ اسی لیے ہمارے ملک کے علماء نے اور ان کے علاوہ تمام اہلِ سنت نے جن میں ابنِ حمدانؒ نہایۃ المبتدئین بھی داخل ہیں، فرمایا ہے کہ تمام صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین سے محبت رکھنا اور ان کے درمیان جو واقعات پیش آئے ان کو لکھنے، پڑھنے، پڑھانے، سننے اور سنانے سے پرہیز کرنا واجب ہے اور ان کی خوبیوں کا تذکرہ کرنا، ان سے رضامندی کا اظہار کرنا، ان سے محبت رکھنا، ان پر اعتراضات کی روش کو چھوڑنا، انہیں معذور سمجھنا اور یہ یقین رکھنا واجب ہے کہ انہوں نے جو کچھ کیا وہ ایسے جائز اجتہاد کی بنا پر کیا جس سے نہ کفر لازم آتا ہے نہ فسق ثابت ہوتا ہے؛ بلکہ بسا اوقات اس پر انھیں ثواب ہوگا اس لیے کہ یہ ان کا جائز اجتہاد تھا۔ پھر کہتے ہیں بعض حضرات نے کہا ہے کہ حق سیدنا علیؓ کے ساتھ تھا اور جس نے ان سے قتال کیا اس کی غلطی معاف کردی گئی ہے۔ اور الدرۃ المضیئہ کی نظم میں جو مشاجرات کے معاملہ میں غور و بحث سے منع کیا گیا ہے، وہ اس لیے کہ امام احمدؒ اس شخص پر نکیر فرمایا کرتے تھے جو اس بحث میں الجھتا ہو اور فضائلِ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین میں جو احادیث آئی ہیں، انہیں تسلیم فرما کر ان لوگوں سے برا ءت کا اظہار کرتے تھے جو صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو گمراہ یا کافر کہتے ہیں اور کہتے تھے کہ صحیح طریقہ مشاجراتِ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین میں سکوت اختیار کرنا ہے۔

یہ مختصر مجموعہ ہے سلف وخلف، متقدمین ومتاخرین علماء امت کے عقائد واقوال کا جن میں تمام صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے عدل و ثقہ ہونے پر بھی اجماع و اتفاق ہے اور اس پر بھی کہ ان کے درمیان پیش آنے والے مشاجرات میں خوض نہ کیا جائے یا سکوت اختیار کریں، یا پھر ان کی شان میں کوئی ایسی بات کہنے سے پرہیز کریں جس سے ان میں سے کسی کی تنقیص ہوتی ہو۔


صفحہ 7 از 7