مشاجرات صحابہ رضی اللہ عنہم میں امت کا عقیدہ اور عمل -…

مشاجرات صحابہ رضی اللہ عنہم میں امت کا عقیدہ اور عمل

  پروفیسر نقیہ کاظمی

صفحہ 5 از 7

اور عشرہ مبشرہ کے علاوہ کسی معین ذات کے متعلق اگرچہ ہم یہ نہ کہہ سکیں کہ وہ جنتی ہے جنت ہی میں جائے گا مگر یہ بھی تو جائز نہیں کہ ہم کسی کے حق میں بغیر کسی دلیلِ شرعی کے یہ کہنے لگیں کہ وہ مستحق جنت کا نہیں ہے کیونکہ ایسا کہنا تو عام مسلمانوں میں سے بھی کسی کے لیے جائز نہیں جن کے بارے میں ہمیں کسی دلیل سے جنتی ہونا بھی معلوم نہ ہو۔ ہم ان کے بارے میں بھی یہ شہادت نہیں دے سکتے کہ وہ ضرور جہنم میں جائے گا تو پھر افضل المؤمنین اور خیار المؤمنین صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے بارے میں یہ کیسے جائز ہوجائے گا اور ہر صحابی کے پورے اعمالِ ظاہرہ و باطنہ کی اور حسنات و سیئات اور ان کے اجتہادات کی تفصیلات کا علم ہمارے لیے بہت دشوار ہے اور بغیر علم وتحقیق کے کسی کے متعلق فیصلہ کرنا حرام ہے اسی لیے مشاجراتِ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے معاملہ میں سکوت کرنا بہتر ہے اس لیے کہ بغیر علم صحیح کے کوئی حکم لگانا حرام ہے۔ انتہی‘‘

(شرع عقیدہ واسطیہ: صفحہ: 456، 457)

اس کے بعد شیخ الاسلام ابنِ تیمیہؒ نے صحیح روایت سے یہ واقعہ بیان کیا ہے۔:

ایک شخص نے سیدنا عبداللہ بن عمرؓ کے سامنے سیدنا عثمانِ غنیؓ پر تین الزام لگائے۔ ایک یہ کہ وہ غزوہِ احد میں میدان سے بھاگنے والوں میں تھے۔ دوسرے یہ کہ وہ غزوہِ بدر میں شریک نہیں تھے۔ تیسرے یہ کہ بیعتِ رضوان میں بھی شریک نہ تھے۔

سیدنا عبداللہ بن عمرؓ نے ان تینوں الزاموں کا جواب یہ دیا کہ بیشک غزوہِ احد میں فرار کا صدور ان سے ہوا مگر اللہ تعالیٰ نے اس کی معافی کا اعلان کردیا۔ مگر تم نے پھر بھی معاف نہ کیا کہ اس کا ان پر عیب لگاتے ہو۔ رہا غزوہِ بدر میں شریک نہ ہونا تو وہ خود آںحضرت ﷺ کے حکم سے ہوا اور اسی لیے آپﷺ نے سیدنا عثمانؓ کو غانمینِ بدر میں شمار کر کے ان کا حصہ لگایا اور بیعتِ رضوان کے وقت وہ حضورﷺ ہی کے بھیجے ہوئے مکہ مکرمہ گئے تھے اور سول اللہﷺ نے ان کو اس بیعت میں شریک کرنے کے لیے خود اپنے ایک ہاتھ کو سیدنا عثمانؓ کا ہاتھ قرار دے کر اپنے دستِ مبارک سے بیعت فرمائی اور ظاہر ہے کہ خود سیدنا عثمانؓ حاضر ہوتے اور ان کا ہاتھ اس جگہ ہوتا تو بھی وہ فضیلت حاصل نہ ہوتی کیونکہ آںحضورﷺ کا دستِ مبارک اس سے ہزاروں درجہ بہتر ہے۔

اس واقعہ میں غور کرو کہ تین الزاموں میں سے ایک الزام کو صحیح مان کر یہ جواب دیا کہ اب وہ ان کے لیے کوئی عیب نہیں جب کہ اللہ تعالیٰ نے اس کو معاف کر دیا ہے۔ باقی دو الزاموں کا غلط بے اصل ہونا بیان فرما دیا۔ اس کو نقل کرکے ابنِ تیمیہؒ کہتے ہیں کہ یہی حال تمام صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کا ہے ان کی طرف جو کوئی گناہ منسوب کیا جاتا ہے یا تو وہ گناہ ہی نہیں ہوتا بلکہ حسنہ اور نیکی ہوتی ہے اور یا پھر وہ اللہ کا معاف کیا ہوا گناہ ہوتا ہے (شرح عقیدہ واسطیہ: صفحہ، 460، 461)

علامہ سفارینی نے اپنی کتاب الدرۃ المضئیہ میں، پھر اس کی شرح میں اس مسئلہ پر اچھا کلام کیا ہے اس کا ایک حصہ یہاں نقل کیا جاتا ہے، پہلے متن کتاب کے دو شعر لکھے ہیں۔

واحذر من الخوض الذی قد یزری، بفضلہم مما جری لو تدری

اور پرہیز کرو صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین میں پیش آنے والے جھگڑوں میں دخل دینے سے جس میں ان میں سے کسی کی تحقیر ہوتی ہو۔

فانہ عن اجتہاد قد صدرَ فاسلم ازل اللّٰہ من لہم ہجر

کیونکہ ان کا جو عمل بھی ہوا ہے اپنے اجتہاد شرعی کی بنا پر ہوا ہے تم سلامتی کی راہ اختیار کرو۔ اللہ ذلیل کرے اس شخص کو جو ان کی بدگوئی کرے۔

اس کے بعد اس کی شرح میں فرمایا:

صفحہ 5 از 7