مشاجرات صحابہ رضی اللہ عنہم میں امت کا عقیدہ اور عمل -…

مشاجرات صحابہ رضی اللہ عنہم میں امت کا عقیدہ اور عمل

  پروفیسر نقیہ کاظمی

صفحہ 4 از 7

ترجمہ: رہے وہ فتنے اور جنگیں جو صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے درمیان واقع ہوئے تو فرقہ شامیہ نے تو ان کے وقوع ہی کا انکار کر دیا ہے اور کوئی شک نہیں کہ سیدنا عثمانؓ کی شہادت اور واقعہ جمل و صفین جس تواتر کے ساتھ ثابت ہے، یہ اس کا بے دلیل انکار ہے اور جن حضرات نے ان کے وقوع کا انکار نہیں کیا ہے ان میں سے بعض نے تو ان واقعات میں مکمل سکوت اختیار کیا اور نہ کسی خاص فریق کی طرف غلطی منسوب کی، نہ حق و صواب یہ حضرات اہلِ سنت ہی کی ایک جماعت ہیں، اگر ان کی مراد یہ ہے کہ یہ ایک فضول کام ہے تو ٹھیک ہے اس لیے کہ امام شافعیؒ وغیرہ علمائے سلف نے فرمایا ہے کہ یہ ایسے خون ہیں جن سے اللہ نے ہمارے ہاتھوں کو پاک رکھا ہے اس لیے چاہیئے کہ ہم اپنی زبانوں کو بھی ان سے پاک رکھیں۔

شیخ ابن الہمامؒ نے ’’شرح مسامرہ‘‘ میں فرمایا:

واعتقاد أہل السنّۃ تزکیۃ جمیع الصحابۃ رضی اللہ عنہم وجوبا باثبات اللّٰہ أنہ لکل منہم والکفّ عن الطّعن فیہم الثّناء علیہم کما اثنی اللّٰہ سبحانہ وتعالیٰ وذکر آیات عدیدۃ ثم قال واثنی علیہم الرسول ﷺ ثم سرد احادیث الباب ثم قال وما جری بین معاویۃ و علیؓ من الحروب کان مبیناً علی الاجتہاد۔

(شرح مسامرہ: صفحہ، 132 طبع دیوبند)

ترجمہ: اہلِ سنت کا اعتقاد یہ ہے کہ وہ تمام صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو لازمی طور پر پاک صاف مانتے ہیں اس لیے کہ اللہ نے ان میں سے ہر ایک کا تزکیہ فرمایا ہے، نیز ان کے بارے میں اعتراضات کرنے سے پرہیز کرتے ہیں اور ان سب کی مدح و ثناء کرتے ہیں، جیسے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کی ثناء فرمائی اس کے بعد چند آیتیں ذکر کر کے فرماتے ہیں اور رسول اللہﷺ نے بھی ان کی تعریف فرمائی پھر کچھ احادیث نقل کرکے لکھتے ہیں اور سیدنا معاویہؓ اور سیدنا علیؓ کے درمیان جو جنگیں ہوئیں وہ اجتہاد پر مبنی تھیں۔

شیخ الاسلام ابن تیمیہؒ نے شرح عقیدہ واسطیہ میں اس بحث پر تفصیلی کلام فرمایا ہے ان کے چند جملے یہ ہیں اہلِ السنت و الجماعت کے عقائد لکھتے ہوئے فرماتے ہیں:

ویتبروئون من طریقۃ الروافض الذین یبغضون الصحابۃ ویسبّونہم وطریقۃ النواصب الذین یؤذون أہل البیت بقول لاعمل ویمسکون عما شجر بین الصحابۃ ویقولون إن ہذہ الآثار المرویۃ فی مساویہم منہا ما ہو کذب، ومنہا ما قد زید فیہ ونقص وغیروجہہ والصحیح منہ ہم فیہ معذرون أما مجتہدون مصیبون، و اما مجتہدون مخطئون، وہم مع ذلک لا یعتقدون أن کل واحد من الصحابۃ معصوم من کبائر الاثم وصغائرہ بل یجوز علیہم الذنوب فی الجملۃ، ولہم من الفضائل والسوابق ما یوجب مغفرۃ ما یصدر منہم ان صدر حتیٰ أنہم یغفرلہم من السیئات ما لا یغفر لمن بعدہم۔

ترجمہ: اہلِ سنت ان روافض کے طریقہ سے براءت کرتے ہیں جو صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین سے بغض رکھتے اور انہیں برا کہتے ہیں، اسی طرح ان ناصبوں کے طریقے سے بھی براءت کرتے ہیں جو اہلِ بیت کو اپنی باتوں سے نہ کہ عمل سے تکلیف پہنچاتے ہیں اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے درمیان جو اختلافات ہوئے ان کے بارے میں اہلِ سنت سکوت اختیار کرتے ہیں اور یہ کہتے ہیں کہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی برائی میں جو روایتیں منقول ہیں ان میں سے بعض تو بالکل جھوٹ ہیں، بعض ایسی ہیں کہ ان میں کمی بیشی کردی گئی ہے اور ان کا صحیح مفہوم بدل دیا گیا ہے اور اس قسم کی جو روایتیں بالکل صحیح ہوں، ان میں بھی صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین معذور ہیں، ان میں سے بعض حضرات اجتہاد سے کام لے کر حق و صواب تک پہنچ گئے اور بعض نے اجتہاد سے کام لیا اور اس میں غلطی ہوگئی اس کے ساتھ ہی اہلِ سنت کا یہ اعتقاد بھی نہیں ہے کہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کا ہر فرد تمام چھوٹے بڑے گناہوں سے معصوم ہے؛ بلکہ ان سے فی الجملہ گناہوں کا صدور ممکن ہے لیکن ان کے فضائل و سوابق اتنے ہیں کہ اگر کوئی گناہ ان سے صادر بھی ہو تو یہ فضائل ان کی مغفرت کے موجب ہیں یہاں تک کہ ان کی مغفرت کے مواقع اتنے ہیں کہ ان کے بعد کسی کو حاصل نہیں ہوسکتے۔

کتاب مذکور میں ابنِ تیمیہؒ ایک مفصل کلام کے بعد لکھتے ہیں:

اور جب سلف صالحین اہلِ السنت و الجماعت کا اصول یہ پڑگیا جو اوپر بیان کیا گیا ہے تو اب یہ سمجھیئے کہ ان حضرات کے قول کا حاصل یہ ہے کہ بعض صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی طرف جو بھی گناہ یا برائیاں منسوب کی گئی ہیں ان میں بیشتر حصہ تو جھوٹ اور افتراء ہے اور کچھ حصہ ایسا ہے جس کو انہوں نے اپنے اجتہاد سے حکمِ شرعی اور دین سمجھ کر اختیار کیا مگر بہت سے لوگوں کو ان کے اجتہاد کی وجہ اور حقیقت معلوم نہیں، اس لیے اس کو گناہ قرار دیا اور کسی معاملہ میں یہ بھی تسلیم کرلیا جائے کہ وہ خطا اجتہادی ہی نہیں؛ بلکہ حقیقتاً گناہ ہی ہے تو سمجھ لینا چاہیے کہ ان کا وہ گناہ بھی معاف ہوچکا ہے، یا اس وجہ سے کہ انہوں نے توبہ کرلی جیسا کہ بہت سے ایسے معاملات میں ان کی توبہ خود قرآن و سنت میں منقول و ماثور ہے اور یا ان کی دوسری ہزاروں حسنات و طاعات کے سبب معاف کردیا گیا اور یا اس کو دنیا میں کسی مصیبت و تکلیف میں مبتلا کر کے اس گناہ کا کفارہ کر دیا گیا، اس کے سوا اور بھی اسبابِ مغفرت کے ہوسکتے ہیں ان کے گناہ کو مغفور و معاف قرار دینے کی وجہ یہ ہے کہ قرآن و سنت کے دلائل سے یہ بات ثابت ہوچکی ہے کہ وہ اہلِ جنت میں سے ہیں اس لیے ناممکن ہے کہ کوئی ایسا عمل ان کے نامہ اعمال میں باقی رہے جو جہنم کی سزا کا سبب بنے اور جب یہ معلوم ہوگیا کہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین میں سے کوئی شخص ایسی حالت پر نہیں مرے گا جو دخولِ جہنم کا سبب بنے تو اس کے سوا اور کوئی چیز ان کے استحقاقِ جنت میں مانع نہیں ہو سکتی۔

صفحہ 4 از 7