مشاجرات صحابہ رضی اللہ عنہم میں امت کا عقیدہ اور عمل -…

مشاجرات صحابہ رضی اللہ عنہم میں امت کا عقیدہ اور عمل

  پروفیسر نقیہ کاظمی

صفحہ 2 از 7

الْعَاشِرَۃُ: لَا یَجُوزُ أَنْ یُنْسَبَ إِلَی أَحَدٍ مِنَ الصَّحَابَۃِ خَطَائٌ مَقْطُوعٌ بِہِ، إِذْ کَانُوا کُلَّہُمُ اجْتَہَدُوا فِیمَا فَعَلُوہُ وَأَرَادُوا اللَّہَ عَزَّ وَجَلَّ، وَہُمْ کُلُّہُمْ لَنَا أَئِمَّۃٌ، وَقَدْ تَعَبَّدْنَا بِالْکَفِّ عَمَّا شَجَرَ بَیْنَہُمْ، ولا نَذْکُرَہُمْ إِلَّا بِأَحْسَنِ الذِّکْرِ، لِحُرْمَۃِ الصُّحْبَۃِ وَلِنَہْیِ النَّبِیﷺ عَنْ سَبِّہِمْ، وَأَنَّ اللَّہَ غَفَرَ لَہُمْ، وَأَخْبَرَ بِالرِّضَاء عَنْہُمْ، ہَذَا مَعَ مَا قَدْ وَرَدَ مِنَ الْأَخْبَارِ مِنْ طُرُقٍ مُخْتَلِفَۃٍ عَنِ النَّبِیﷺ أَنَّ طَلْحَۃَؓ شَہِیدٌ۔ یَمْشِی عَلَی وَجْہِ الْأَرْضِ، فَلَوْ کَانَ مَا خَرَجَ إِلَیْہِ مِنَ الْحَرْبِ عِصْیَانًا لَمْ یَکُنْ الْقَتْل فِیہِ شَہِیدًا، وَکَذَلِکَ لَوْ کَانَ مَا خَرَجَ إِلَیْہِ خَطَاء فِی التَّأْوِیلِ وَتَقْصِیرًا فِی الْوَاجِبِ عَلَیْہِ، لِأَنَّ الشَّہَادَۃَ لَا تَکُونُ إِلَّا بِقَتْلٍ فِی طَاعَۃٍ، فَوَجَبَ حَمْلُ أَمْرِہِمْ عَلَی مَا بَیَّنَّاہُ۔ وَمِمَّا یَدُلُّ عَلَی ذَلِکَ مَا قَدْ صَحَّ وَانْتَشَرَ مِنْ أَخْبَارِ عَلِیٍّ بِأَنَّ قَاتِلَ الزُّبَیْرِ فی النار۔ وقولہ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّہِﷺ یَقُولُ: بَشِّرْ قَاتِلَ ابْنِ صَفِیَّۃَؓ بِالنَّار۔ وَإِذَا کَانَ کَذَلِکَ فَقَدْ ثَبَتَ أَنَّ طَلْحَۃَؓ، وَالزُّبَیْرَؓ غَیْرُ عَاصِیَیْنِ وَلَا آثِمَیْنِ بِالْقِتَالِ، لِأَنَّ ذَلِکَ لَوْ کَانَ کَذَلِکَ لَمْ یَقُلِ النَّبِیﷺ فِی طَلْحَۃَ: ’’شَہِیدٌ‘‘۔ وَلَمْ یُخْبِرْ أَنَّ قَاتِلَ الزُّبَیْرِؓ فِی النَّارِ، وَکَذَلِکَ مَنْ قَعَدَ غَیْرَ مُخْطِیِٔ فِی التَّأْوِیلِ۔ بَلْ صواب أراہم اللَّہُ الِاجْتِہَادَ۔ وَإِذَا کَانَ کَذَلِکَ لَمْ یُوجِبْ ذَلِکَ لَعْنَہُمْ وَالْبَرَائَۃَ مِنْہُمْ وَتَفْسِیقَہُمْ، وَإِبْطَالَ فَضَائِلِہِمْ وَجِہَادَہُمْ، وَعَظِیمَ غِنَائِہِمْ فِی الدِّینِ، رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمْ۔ وَقَدْ سُئِلَ بَعْضُہُمِ عَنِ الدِّمَائِ الَّتِی أُرِیقَتْ فِیمَا بَیْنَہُمْ فَقَالَ۔’’تِلْکَ أُمَّۃٌ قَدْ خَلَتْ لَہا مَا کَسَبَتْ وَلَکُمْ مَا کَسَبْتُمْ وَلا تُسْئَلُونَ عَمَّا کانُوا یَعْمَلُونَ‘‘ وسئل بَعْضُہُمْ عَنْہَا أَیْضًا فَقَالَ: تِلْکَ دِمَائٌ طَہَّرَ اللَّہُ مِنْہَا یَدِی، فَلَا أُخَضِّبُ بِہَا لِسَانِی۔ یَعْنِی فِی التَّحَرُّزِ مِنَ الْوُقُوعِ فِی خَطَائٍ، وَالْحُکْمِ عَلَی بَعْضِہِمْ بِمَا لَا یَکُونُ مُصِیبًا فِیہِ۔ قَالَ ابْنُ فَوْرِکٍ: وَمِنْ أَصْحَابِنَا مَنْ قَالَ إِنَّ سَبِیلَ مَا جَرَتْ بَیْنَ الصَّحَابَۃِ مِنَ الْمُنَازَعَاتِ کَسَبِیلِ مَا جَرَی بَیْنَ إِخْوَۃِ یُوسُفَ مَعَ یُوسُفَ، ثُمَّ إِنَّہُمْ لَمْ یَخْرُجُوا بِذَلِکَ عَنْ حَدِّ الْوَلَایَۃِ وَالنُّبُوَّۃِ، فَکَذَلِکَ الْأَمْرُ فِیمَا جَرَی بَیْنَ الصَّحَابَۃِ۔ وَقَالَ الْمُحَاسِبِیُّ: فَأَمَّا الدِّمَائُ فَقَدْ أَشْکَلَ عَلَیْنَا الْقَوْلُ فِیہَا بِاخْتِلَافِہِمْ۔ وَقَدْ سُئِلَ الْحَسَنُ الْبَصْرِیُّؒ عَنْ قِتَالِہِمْ فَقَالَ: قِتَالٌ شَہِدَہُ أَصْحَابُ مُحَمَّدٍ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَغِبْنَا، وَعَلِمُوا وَجَہِلْنَا، وَاجْتَمَعُوا فَاتَّبَعْنَا، وَاخْتَلَفُوا فَوَقَفْنَا۔ قَالَ الْمُحَاسِبِیُّؒ فَنَحْنُ نَقُولُ کَمَا قَالَ الْحَسَنُ، وَنَعْلَمُ أَنَّ الْقَوْمَ کَانُوا أَعْلَمَ بِمَا دَخَلُوا فِیہِ مِنَّا، وَنَتَّبِعُ مَا اجْتَمَعُوا عَلَیْہِ، وَنَقِفُ عِنْدَ مَا اخْتَلَفُوا فِیہِ وَلَا نَبْتَدِعُ رَأْیًا مِنَّا، وَنَعْلَمُ أَنَّہُمُ اجْتَہَدُوا وَأَرَادُوا اللَّہَ عَزَّ وَجَلَّ، إِذْ کَانُوا غَیْرَ مُتَّہَمِینَ فِی الدین، ونسأل اللّٰہ التوفیق۔

(تفسیر القرطبی: جلد، 16 صفحہ، 322)

ترجمہ: یہ جائز نہیں ہے کہ کسی بھی صحابی کی طرف قطعی اور یقینی طور پر غلطی منسوب کی جائے اس لیے کہ ان سب حضرات نے اپنے اپنے طرز عمل میں اجتہاد سے کام لیا تھا اور سب کا مقصد اللہ کی خوشنودی تھی، یہ سب حضرات ہمارے پیشوا ہیں اور ہمیں حکم ہے کہ ان کے باہمی اختلافات سے کفِّ لسان کریں اور ہمیشہ ان کا ذکر بہترین طریقے پر کریں کیونکہ صحابیت بڑی حرمت کی چیز ہے اور نبی کریمﷺ نے ان کو برا کہنے سے منع فرمایا ہے اور یہ خبر دی ہے کہ اللہ نے انہیں معاف کر رکھا ہے اور ان سے راضی ہے، اس کے علاوہ متعدد سندوں سے یہ حدیث ثابت ہے کہ

 آنحضرتﷺ نے سیدنا طلحہؓ کے بارے میں فرمایا:

ان طلحۃ شہید یمشی علی وجہ الأرض

ترجمہ: یعنی طلحہ روئے زمین پر چلنے والے شہید ہیں۔ اب اگر سیدنا علیؓ کے خلاف سیدنا طلحہؓ کا جنگ کے لیے نکلنا کھلا گناہ اور عصیان تھا تو اس جنگ میں مقتول ہوکر وہ ہرگز شہادت کا رتبہ حاصل نہ کرتے، اسی طرح اگر سیدنا طلحہؓ کا یہ عمل تاویل کی غلطی اور ادائے واجب میں کوتاہی قرار دیا جاسکتا تو بھی آپ کو شہادت کا مقام حاصل نہ ہوتا کیونکہ شہادت تو صرف اس وقت حاصل ہوتی ہے جب کوئی شخص اطاعت ربّانی میں قتل ہوا ہو، لہٰذا ان حضرات کے معاملہ کو اسی عقیدہ پر محمول کرنا ضروری ہے جس کا اوپر ذکر کیاگیا۔

اسی بات کی دوسری دلیل وہ صحیح اور معروف ومشہور احادیث ہیں جو خود سیدنا علیؓ سے مروی ہیں اور جن میں آںحضرتﷺ نے ارشاد فرمایا کہ: زبیرؓ کا قاتل جہنم میں ہے۔

نیز سیدنا علیؓ فرماتے ہیں کہ میں نے آںحضرتﷺ کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ صفیہؓ کے بیٹے کے قاتل کو جہنم کی خبر دے دو جب یہ بات ہے تو ثابت ہوگیا کہ سیدنا طلحہؓ اور سیدنا زبیرؓ اس لڑائی کی وجہ سے عاصی اور گنہگار نہیں ہوئے، اگر ایسا نہ ہوتا تو حضورﷺ سیدنا طلحہؓ کو شہید نہ فرماتے اور سیدنا زبیرؓ کے قاتل کے بارے میں جہنم کی پیشین گوئی نہ کرتے۔ نیز ان کا شمار عشرہ مبشرہ میں ہے، جن کے جنتی ہونے کی شہادت تقریباً متواتر ہے۔

صفحہ 2 از 7