حضرت عمرفاروق رضی اللہ عنہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے داماد…

حضرت عمرفاروق رضی اللہ عنہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے داماد تھے۔

  مولانا اشتیاق احمد ، مدرس دارالعلوم دیوبند

صفحہ 5 از 5

یعنی متواتر وہ روایت ہے جسے ایک جماعت بیان کرے اور وہ بذات خود فائدہ علم یقینی کا دیتی ہے بلحاظ اپنے سچے ہونے کے ، اس کے وقوع اور امکان میں کسی قسم کے شک کی بھی گنجائش نہیں ہوتی ۔
کتاب ’’معالم الاصول ‘‘ شیعہ کےنزدیک اصول حدیث وفقہ کی یکتا کتاب ہے ۔ ان مذکورہ حدیثوں کی روشنی میں جو تعداد اسناد کے اعتبار سے حد تواتر کو پہنچ چکی ہیں انکار کرنا گویا شیعہ مذہب سے انکار کے مترادف ہے ۔
 ‎آپ متعجب ہوں گے کہ جب اتنی روایات صحیح موجود ہیں تو پھر شیعہ حضرات اس رشتہ کا انکار کیوں کرتےہیں ۔۔۔۔؟
اصل بات وہی ہے ۔۔۔۔۔ جو ہم ابتدا میں ذکر کر آئے ہیں ۔۔۔۔۔ کہ جب عمر فاروق رضی اللہ عنہ کو داماد فاطمہ الزھراء کا شرف حاصل ہو جاتا ہے ۔۔۔۔ تو پھر تمام شیعی اعتراضات ۔۔۔۔ جو خلیفہ ثانی عمر فاروق رضی اللہ عنہ پر کئے جاتے ہیں ۔۔۔۔۔ ان کی حقیقت "ھباء منشورا"
کی سی رہ گئی ہے ۔۔۔۔ اور تمام شیعی مذہب کا تارہ وپور بکھر کر رہ جاتا ہے ۔۔۔۔ اس لیے وہ اتنی بین روایات کے ہوتے ہوئے بھی اپنے بوسیدہ اعتراضات ۔۔۔۔ اور ہٹ دھرمی سے باز نہیں آتے ۔۔۔۔ اور میں نہ مانوں کی رٹ لگائے جاتے ہیں ۔۔۔۔ حالانکہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو حضرت علی کرم اللہ وجہہ ۔۔۔۔۔ و فاطمہ رضی اللہ عنہا کا داماد ۔۔۔۔ تسلیم کرلینے سے شیعہ سنی اختلاف کی بنیاد ہی ختم ہو جاتی ہے ۔۔۔۔ حالانکہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ حضرت علی کرم اللہ وجہہ کے ساتھ گہرے مراسم رکھتے تھے ۔۔۔۔ اور یوں آپس میں شیرو شکر تھے ۔۔۔۔ تو صاف معلوم ہوتا ہے ۔۔۔۔ کہ دونوں ایک دوسرے کو پکا مسلمان سمجھتے تھے ۔۔۔۔ ورنہ حضرت علی کرم اللہ وجہہ ایک منافق ۔۔۔۔ ظاہر الاسلام اور کافر سے اپنی صاحبزادی کانکاح کیوں کرتے ۔۔۔۔۔۔۔؟
اگر وہ حضرت علی کرم اللہ وجہہ کے حقوق کے غاصب ہیں ۔۔۔۔ تو انہوں نے بایں قوت وحشمت اپنےبدترین دشمن کو شرف دامادی کیوں عطا کیا ۔۔۔۔۔۔۔۔؟
دراصل بات یہ ہے کہ حضرت عمر سبائی پروپیگنڈہ کا ہدف بنایا گیا ہے ۔۔۔۔ ورنہ ان کے مخلص مسلمان ہونے اور اسلام کی خدمات میں صحابہ کرام رضوان اللہ علیھم اجمعین یا اہل بیت کو کسی قسم کا انکار یا شک وشبہ نہ تھا ۔
ایک تاویل اور اس کا جواب :
شیعہ حضرات حضرت عمر فاروق کی دشمنی میں اس رشتہ کا انکار کرتے ہوئے اس کی یہ تاویل کرتے ہیں کہ جب حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے حضرت علی کرم اللہ وجہہ سے ام کلثوم بنت علی ؓ کا رشتہ طلب کیا تھا تو حضرت علی کرم اللہ وجہہ نے ایک جن عورت کو اپنی بیٹی ام کلثوم کی صورت میں ڈھال کر عمر رضی اللہ عنہ سے بیاہ دیا تھا ۔
جواب :
اہل علم وتحقیق شیعہ علماء خود ایسی پوچ تاولوں کو مسترد کرتےہوئے اس حقیقی واقعہ کو کھلے دل اور شرح صدر کے ساتھ تسلیم کر چکے ہیں ۔۔۔۔ جیسا کہ ’’فروع کافی ‘‘ کے محشی علامہ علی اکبر غفاری دلیل اول کےحاشیہ میں اس رشتہ کا اعتراف کرتے ہوئے لکھتے ہیں :

ام كلثوم هذه هى بنت أمير المؤمنين عليه السلام قد خطبها إليه عمر فى زمن خلافته .(حاشيہ فروع كافى : جلد 5 صفحہ 436)

’’یہ بی بی ام کلثوم امیر المومنین علی بن ابی طالب علیہ السلام کی دختر ہیں اور حضرت عمر نے اپنی خلافت میں اس بی بی کا رشتہ حضرت علی سے طلب کیا تھا ۔‘‘
لیجئے جناب! اس پوچ تاویل کا بھانڈا بیچ چورا ہے کے پھوٹ گیا ۔
ایک اور تاویل اور اس کاجواب :-
ام کلثوم نامی عورت جس کانکاح حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے ہوا وہ ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی بیٹی تھی ۔
جواب :
اس میں کوئی شک نہیں کہ حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کی دختر کانام بھی ام کلثوم تھا ۔۔۔۔ مگر اس کا یہ مطلب ہرگز صحیح نہیں ۔۔۔۔ کہ حضرت علی کرم اللہ وجہہ کی بیٹی کانام ام کلثوم نہ تھا اور پھر ’’تہذیب الاحکام ‘‘ کی وہ روایت جو پیش نظر مقالہ کی دلیل نمبر 7 میں ہے

عن جعفر ، عن أبيه عليهما السلام قال : ماتت أم كلثوم بنت عليّ وابنها زيد بن عمر بن الخطاب في ساعة واحدة لا يُدرى أيّهما هلك قبل فلم يُورَّث أحدهما من الآخر وصُلِّي عليهما جميعاً.کی کیا تاویل کروگے؟

(ملاحظہ فرمائیے: تہذیب الاحکام ، کتاب المیراث )

خلاصہ کلام یہ کہ سیدہ ام کلثوم رضی اللہ عنہا بنت علی کرم اللہ وجہہ جوکہ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کےبطن سے تھیں ۔۔۔۔ اور رسول اللہ ﷺ کی نواسی تھیں ۔۔۔۔ بلاشبہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ سے بلاجبر و اکراہ شادی ہوگئی تھیں اور ان کے بطن سے ایک لڑکا زید بن عمر بن خطاب پیدا ہوا تھا اور اس رشتہ کی روایت خود شیعہ علمائے اصول کے نزدیک متواتر ہے اور متواتر روایت کا انکار بڑی جسارت ہے اور مذہب شیعہ سے انکار کے مترادف ہے ۔واللہ ورسولہ اعلم بالصواب


صفحہ 5 از 5