حضرت عمرفاروق رضی اللہ عنہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے داماد…

حضرت عمرفاروق رضی اللہ عنہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے داماد تھے۔

  مولانا اشتیاق احمد ، مدرس دارالعلوم دیوبند

صفحہ 4 از 5

’’کتاب استغاثہ وغیرہ میں منقول ہے کہ جب عمر بن خطاب نے اپنی خلافت کو ترویج دینے کیلئے حضرت علی علیہ السلام کی بیٹی ام کلثوم کارشتہ طلب کیا تو آپ نے دوبارہ حجت قائم کرنے کیلئے اس سے انکار کر دیا ۔ آخر کارحضرت عمر نے حضرت عباس کو اپنے پاس بلایا اور قسم کھا کر کہا کہ اگر آپ نے حضرت علی علیہ السلام کو مجھے اپنا داماد بنانے پر تیار نہ کیا تو مجھ سے جو کچھ ہو سکا کروں گا اور سقایہ حج اور زمزم کامنصب تجھ سے واپس لے لوں گا۔ جب حضرت عباس نے یہ معلوم کر لیا کہ یہ سخت آدمی اس ناروا معاملہ کو اسی طرح کرے گا جیسا کہ وہ کہہ کر رہا ہے تو حضرت عباس نے حضرت علی علیہ السلام کو چمٹ کر التماس کی کہ اس مطہرہ مظلومہ کے نکاح کا معاملہ اس کے ہاتھ میں دے دیں ۔ جب حضرت اس بارے میں حد سے گزر گئے تو حضرت علی علیہ السلام نے بصورت اکراہ خاموشی اختیار کر لی یہاں تک کہ حضرت عباس پھر اپنے آپ اس نکاح کے مرتکب ہوئے اور بھڑکنے والے فتنہ کی آگ کو بجھانے کی خاطر اس منافق ظاہر اسلام (عمر) کے ساتھ عقد کیا ۔
قارئین کرام ! اندازہ فرمائیے قاضی نور اللہ شیعہ مجتہد نے کتنے زہریلے الفاظ میں اس نکاح کا اقرار کیا ہے ۔۔۔۔ اور حضرت علی کرم اللہ وجہہ کی رضامندی کو کتنی چابکدستی سے غتر بود کرنے کی کوشش کی ہے ۔۔۔۔ اور فاورق اعظم رضی اللہ عنہ پر کتنا ناپاک حملہ کیا ہے ۔۔۔۔ ایک طرف تو انہیں حضرت علی کرم اللہ وجہہ کی دامادگی کا شرف حاصل ہو رہا ہے ۔۔۔۔ اور دوسری طرف ان پر منافقت کا فتویٰ لگا کر فتنہ سبائیت کو ہوا دی جا رہی ہے ۔۔۔۔ اور تیسری طرف ام کلثوم کو مظلومہ اور مجبورہ ثابت کرکے حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے نفرت ولائی جار ہی ہے ۔
اگر آپ تھوڑی سابھی غور فرمائیں گے ۔۔۔۔ تو آپ پر یہ راز کھل جائے گا ۔۔۔۔ کہ حب اہل بیت کا لبادہ اوڑھ کر ۔۔۔۔ اہل بیت سے کس قدر دشمنی کی جار ہی ہے ۔۔۔۔۔ اور ان کی غیرت کامذاق اڑایا جا رہا ہے ۔۔۔ ( العیاذ باللہ) وہ اتنے کمزور تھے ۔۔۔۔۔ کہ وہ اپنی بیٹیوں کی عزت کی حفاظت نہ کر سکتے تھے ۔۔۔۔ جبکہ شیعی عقیدہ کےمطابق حضرت علی مولیٰ مشکل کشا ہیں ۔۔۔۔ اور چودہ سو سال کے بعد ان کی مدد کر سکتے ہیں ۔۔۔۔ اور یاعلی مدد ان کا ورد بن چکا ہے ۔۔۔۔ جس کا آغاز عبد اللہ بن سباء نے کیا تھا ۔

 گیارہویں دلیل 
لیجیے ! ہم آپ کی خدمت میں پیش کیے دیتے ہیں ۔۔۔۔ ایسی روایت جو شیعہ کی معتبر ترین تاریخی کتاب "ناسخ التواریخ" میں درج ہے ۔۔۔۔ جو نہ صرف قاضی نور اللہ کی اس دوہری پالیسی کی تردید کر رہی ہے ۔۔۔۔ بلکہ اس رشتہ کے معاملہ میں حضرت علی کرم اللہ وجہہ کی مکمل رضامندی کابھی کھلا ثبوت ہے ۔۔۔۔ وہ روایت حسب ذیل ہے :
’’حضرت علی علیہ السلام نےحضرت عمر سے اپنی بیٹی ام کلثووم کا نکاح بڑی خوشی سے خود کیا ، مہر وصول کیا اور بیٹی کو اپنے شوہر عمر کی اتباع کی وصیت فرمائی ۔‘‘

(ناسخ التواریخ:  جلد 2صفحہ  296)

مزید برآں یہ کہ خود قاضی صاحب موصوف اپنی اس کتاب ’’مجالس المومنین ‘‘ میں ایک دوسرے مقام پر حضرت علی کرم اللہ وجہہ کی اس مجبوری کا خود بھی ذکر نہیں کرتے ۔ فرماتے ہیں :

نبی اکرمﷺ نے اپنی بیٹی عثمان کو دی اور علی ولی نے اپنی بیٹی عمر کو دی ۔(مجالس المومنین:  جلد 1 صفحہ  204)

غور کیجئے :

کہ شیعوں کے چوتھی صدی کا محدث اعظم محمدبن یعقوب بن اسحاق کلینی رازی اپنی مایہ ناز کتاب ’’کافی ‘‘ میں دو مقام پر چار ہندسوں کے ساتھ اس واقعہ کو بیان کرے ۔۔۔۔ اور پانچویں صدی کا شیعی محدث علامہ ابوجعفر محمد بن حسن بن علی طوسی جس کو شیعی دنیا میں امام مسلم کا رتبہ حاصل ہے ۔۔۔۔ اپنی دونوں تصنیفوں میں اس روایت کو متعدد طرق سے نقل کرے ۔۔۔۔ اس بنا پر اس روایت کو درجہ تواتر کیوں حاصل نہ ہو گا ۔۔۔۔۔۔؟
حالانکہ شیعی اصول حدیث کی کتابوں میں اس سے کم درجہ کی اخبار کو درجہ تواتر میں شمار کیا گیا ہے ۔ دیکھیے ’’معالم الاصول ‘‘ میں منقول ہے :
ترجمہ: ’’تواتر معنوی کا بیان ۔۔۔۔ بہت سے واقعات کثرت سے آتے ہیں اور مختلف ہوتے ہیں لیکن ہر ایک خبر ان سے التزامی اور تضمنی کے اعتبار سے ایک ہی منتج ہوتی ہے اور ان سے ایک قدر مشترک کا علم حاصل ہو جاتا ہے اور ایسی خبر کانام ’’متواتر من جہت المعنی‘‘ رکھا جاتا ہے جیسا کہ حضرت علی علیہ السلام امیر المومنین کے جنگی واقعات ہیں کہ آپ نے فلاں شخص کو غزوہ بدر میں اس طرح قتل کیا اور فلاں کے ساتھ احد میں یہ سلوک کیا وغیرہ وغیرہ ۔ پس یہ خبریں التزامی طور پر آپ کی شجاعت پر دلالت کرتی ہیں اگرچہ ان جزئیات سے کوئی شے بھی قطعی علم کے درجہ کو نہیں پہنچتی۔ ‘‘
(معالم الاصول )
جب جنگی خبروں کو تواتر کا درجہ دیا جارہا ہے ۔۔۔۔ تو اس حدیث کو کیوں درجہ تواتر حاصل نہ ہو گا ۔۔۔۔۔۔؟
اور خبر متواتر سے علم یقینی حاصل ہوتا ہے اور اس کا انکار ناممکن ہے ۔۔۔۔ اسی لیے تو کتاب ’’مراۃ العقول شرح فروع واصول ‘‘ کےمصنف نے اس روایت کو منکرین پر تعجب کااظہار کیا ہے ، فرماتے ہیں :

تلك الأخبار وما سيأتي بأسانيد أن عليا عليه السلام لما توفي عمر أتى أم كلثوم فانطلق بها إلى بيته وغير ذلك مما أوردته في كتاب بحار الأنوار إنكار ذلك عجيب

یہ تمام حدیثیں اور جوبعد میں باسناد ذکر کی جائیں گی کہ جب حضرت عمر فوت ہو گئے تو حضرت علی علیہ السلام ام کلثوم کے پاس آئے اور ان کو اپنے گھر لے گئے اس کے سوا جن روایات کو میں نے اپنی کتاب ’’ بحار الانوار ‘‘ میں ذکر کیا ہے ان کا انکار کرنا عجیب بات ہے ۔
حدیث متواتر سے انکار ناممکن ہے :۔
تکثیر اسناد کے ساتھ روایت کے بیان ہونے کےبعد اس سے انکار مشکل نہیں ناممکن ہوتا ہے ، کیونکہ متواتر کے سچے ہونے اور واقع ہونے کی کوئی شک ہوتا ہی نہیں جیسا کہ ’’معالم الاصول ‘‘ میں متواتر کی تعریف میں لکھا ہے :

فالمتواتر هو خبر جماعة يفيد بنفسه العلم بصدقه ولاريب فى امكانة ووقوعه . (صفحہ 169)

صفحہ 4 از 5