حضرت عمرفاروق رضی اللہ عنہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے داماد…

حضرت عمرفاروق رضی اللہ عنہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے داماد تھے۔

  مولانا اشتیاق احمد ، مدرس دارالعلوم دیوبند

صفحہ 3 از 5

’’سلیمان بن خالد کہتے کہ میں نے حضرت جعفر صادق سے پوچھا کہ بیوہ عورت عدت وفات کہاں پوری کرے ؟
اپنے شوہر کے گھر عدت پوری کرے یا جہاں چاہے بیٹھ سکتی ہے ؟
آپ نے میرے جواب میں کہا : جہاں چاہے اپنی عدت پوری کرے اور اپنی اس رائے کو مدلل کرتے ہوئے فرمایا کہ جب حضرت عمر فوت ہوئے تھے تو حضرت علی علیہ السلام نے اپنی دختر ام کلثوم ( زوجہ عمر ) کے پاس تشریف لائے اور اس کا ہاتھ پکڑ کر اپنے گھر لے گئے تھے ۔‘‘
ان دونوں روایات کا درجہ اسناد:
فروع کافی کی روایات نمبر 3 ونمبر 4 کو ہم سے شیعہ کی صحاح اربعہ میں شامل کتاب ’’تہذیب الاحکام‘‘ سے دوبارہ اس لیے نقل کیا ہے تاکہ قارئین کو ان روایتوں کے پائے کا علم ہو جائے کہ شیعی محدثین نے ان روایات کو صرف قبول ہی نہیں کیا ۔۔۔۔ بلکہ ان سے مسائل فقہیہ کا استخراج بھی کیا ہے ۔۔۔۔ تاکہ کسی شخص کو ان روایتوں کو کمزور یا ضعیف کہنے کی جرات ہی نہ ہو ۔۔۔۔ کیونکہ محدث اس روایت سے ہی مسئلہ اخذ کرتا ہے جس کو وہ صحیح سمجھتا ہے ۔۔۔۔ ضعیف اور کمزور روایت سے استدلال کی کوئی تک ہی نہیں ہوتی ۔ جب اصل اور مستدل ہی کمزور ہو تو فرع اور استدلال لامحالہ تار عنکبوت ہی ہو گا۔
 ساتویں دلیل 
حضرت جعفر علیہ السلام نے اپنے والد حضرت باقر علیہ السلام سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت ام کلثوم بنت علی بن ابی طالب علیہ السلام اور اس کابیٹا زید بن عمر بن خطاب دونوں ماں بیٹا ایک ہی وقت فوت ہوئے ۔۔۔ اور یہ علم نہ ہو سکا ۔۔۔۔ کہ ان دونوں سے میں سے کو ن پہلے فوت ہوا ۔۔۔۔ اور ان دونوں میں سے کوئی دوسرے کا وارث نہ بن سکا ۔۔۔۔ اور ان دونوں کی نماز جنازہ بھی اکٹھی پڑھی گئی ۔(تهذيب الاحكام9/ 262۔263)

دیکھیے ! کتنے صاف اور کھلے الفاظ میں اقرار کیا گیا ہے ۔۔۔۔ کہ حضرت کلثوم بنت علی نہ صرف عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی زوجہ محترمہ تھیں بلکہ ان کے بطن سے ایک بیٹا بھی پیدا ہوا جس کا نام زید بن عمر تھا۔
دو روایتیں ( یعنی نمبر 3ونمبر 4 ) جناب ابوجعفر محمد بن حسن طوسی المتوفی 460ھ اپنی کتاب ’’ استبصار فیما اختلف من الاخبار ‘‘ میں بھی لائے ہیں ،
نوٹ: یہ کتاب بھی شیعہ کی صحاح اربعہ میں شمار ہوتی ہے۔
مولف کے اس طرز عمل سے ثابت ہوتا ہے ۔۔۔۔ کہ یہ دونوں روایتیں ان کے نزدیک غایت درجہ کی صحیح ہیں ۔۔۔۔ ورنہ وہ ان کو بار بار نقل نہ کرتے ۔

 آٹھویں دلیل 

عن عبدالله بن سنان، ومعاوية ابن عمار، عن أبي عبدالله عليه السلام قال: سألته عن المرأة المتوفى عنها زوجها تعتد في بيتها أو حيث شاء‌ت؟ قال: بل حيث شاء‌ت، إن عليا عليه السلام لما توفي عمر أتى إلىأم كلثوم فانطلق بها إلى بيته- (كتاب الاستبصار :باب المتوفى عنها زوجها ان تبيت عن منزلها ام لا ( جلد 3صفحہ  302)

عبد اللہ بن سنان اور معاویہ بن عمار کہتے ہیں کہ ہم نے امام جعفر صادق سے دریافت کیا کہ بیوہ عورت اپنی عدت کہاں پوری کرے ؟ کیا ضروری ہے کہ وہ اپنے شوہر ہی کے گھر عدت پوری کرے ؟ کہا: جہاں چاہے عدت پوری کر سکتی ہے کیونکہ عمربن خطاب کی وفات پر حضرت علی علیہ السلام اپنی بیٹی ام کلثوم کو حضرت عمر کے گھر سے اپنے گھر لے آئے تھے ۔

 نویں دلیل 

عن سليمان بن خالد قال: سألت أبا عبد الله ع عن امرأة توفى زوجها أين تعتد في بيت زوجها تعتد أو حيث شاءت؟ قال: بلى حيث شاءت ثم قال: إن عليا ع لما مات عمر أتى أم كلثوم فأخذ بيدها فانطلق بها إلى بيته .(كتاب الاستبصار :باب المتوفى عنها زوجها ان تبيت عن منزلها ام لا ( جلد 3  صفحہ 302)

سلمان بن خالد کہتے ہیں کہ ہم نے امام جعفر صادق سے دریافت کیا کہ بیوہ عورت اپنی عدت کہاں پوری کرے ؟ کیا ضروری ہے کہ وہ اپنے شوہر ہی کے گھر عدت پوری کرے ؟ کہا: جہاں چاہے عدت پوری کر سکتی ہے کیونکہ عمر بن خطاب کی وفات پر حضرت علی ﷜ اپنی بیٹی ام کلثوم کو حضرت عمر کے گھر سے اپنے گھر لے آئے تھے ۔

 دسویں دلیل 
قاضی نور اللہ شوستری ۔۔۔۔ شہید ثالث ۔۔۔۔ جو کہ گیارہویں صدی کے مشہور شیعہ مجتہد ہیں ۔۔۔۔ اپنی مایہ ناز کتاب مجالس المؤمنین میں فروع کافی کی دوسری روایت کو فارسی زبان میں یوں لکھتے ہیں :
درکتاب استغاثہ وغیرہ آں مسطور است کہ چوں عمر بن خطاب جہت ترویج خلافت فاسدہ خود داعیہ تزویج ام کلثوم دختر حضرت امیر نمودو آں حضرت جہت اقامت حجج مکررا اظہار بادامتناع نمود آخر عمر ﷜ عباس ﷜ راخود طلبید وسوگند ہوردہ گفت کہ اگر علی رابد امادی من راضی نمیسادی آنچہ در دفع او ممکن باشد خواہم کر د ومنصب سقایتا حج و زمزم را از تو خواہم گرفت عباس ملاحظہ نمود کہ اگر ایں نسبت واقع نشود آں فظ وغلیظ مرتکب چناں امر ناصواب خواہد شد ، امیر علیہ السلام التماس والحاح نمود کہ نکاح آں مطہرہ مظلومہ رابو تفویض نماید چوں مبالغہ عباس در آں با ب از حد گزشت آنحضرت از روئے اکراہ ساکت ستدند ، تا آنکہ عباس از خود ارتکاب ترویج اور نمود وجہت اطفاء نائرہ فتنہ اور راباں منافق ظاہر الاسلام عقدفرمود۔

(مجالس المومنین : جلد 1 صفحہ 182، کشف الاسرار: صفحہ 39)

صفحہ 3 از 5