حضرت عمرفاروق رضی اللہ عنہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے داماد…

حضرت عمرفاروق رضی اللہ عنہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے داماد تھے۔

  مولانا اشتیاق احمد ، مدرس دارالعلوم دیوبند

صفحہ 2 از 5

امام جعفر صادق سے جب بى بى ام کلثوم زینب صغریٰ بنت علی کے نکاح کے متعلق پوچھا گیا ( کہ اس کا نکاح حضرت عمر سے کیسے ہو گیا ؟ تو فرمانےلگے کہ یہ ایک رشتہ ہم سے چھین لیا گیا تھا ۔
 دوسری دلیل
جناب جعفر صادق کا بیان ہے کہ جب حضرت عمر نے امیر المومنین علی علیہ السلام سے ام کلثوم بنت علی کا رشتہ طلب فرمایا تو آپ نے جواب میں فرمایا: وہ ابھی جوان نہیں ہوئی تو اس جواب کے بعد حضرت عمر نے حضرت عباس بن عبدالمطلب سے ملاقات کی اور دریافت کیا کہ کیا میں بیمار ہوں؟ تو حضرت عباس ﷜ نے پوچھا : کیوں کیا بات ہے ؟ تو حضرت عمر نے وضاحت کرتے ہوئے فرمایا کہ میں نے آپ کے بھتیجے (علی) سے ان کی بیٹی ام کلثوم کا رشتہ طلب کیا ہے ، انہوں نے انکار کر دیا ہے ۔ یاد رکھیے ! اگر اس نے میری فرمائش پوری نہ کی تو میں تم سے آب زمزم کی انتظامی سربراہی واپس لے لوں گا اور تمہاری ایک ایک بزرگی ختم کر دوں گا اور علی پر چوری کے دو گواہ قائم کر کے چوری کی حد میں اس کا داہناہاتھ کاٹ دوں گا تو حضرت عباس نے حضرت علی علیہ السلام سے حضرت عمر کے جذبات کی اطلاع کرتے ہوئے کہا کہ آپ اپنی دختر ام کلثوم کا نکاح کامعاملہ میرے سپرد کر دو تو حضرت علی علیہ السلام نے یہ معاملہ حضرت عباس کے سپرد کر دیا ۔

( فروع کافی : 5/ 346طبع دار الکتب الاسلامیہ طہران )

 تیسری دلیل 

عن عبدالله بن سنان، ومعاوية ابن عمار، عن أبي عبدالله عليه السلام قال: سألته عن المرأة المتوفى عنها زوجها أتعتد في بيتها أو حيث شاء‌ت؟ قال: بل حيث شاء‌ت، إن عليا عليه السلام لما توفي عمر أتى أم كلثوم فأخذ بيدها فانطلق بها إلى بيته.

’’عبد اللہ بن سنان اور معاویہ بن عمار سے روایت ہے کہ ہم نے امام جعفر صادق علیہ السلام سے یہ مسئلہ دریافت کیا کہ جب کسی عورت کا شوہر فوت ہو جائے تو وہ عدت وفات کہاں گزارے ؟
اپنے شوہر کے گھر بیٹھے یا جہاں چاہے گزارے ؟
تو آپ نے جواب میں فرمایا کہ جہاں چاہے بیٹھے ۔ کیونکہ جب حضرت عمر فوت ہوگئے تو حضرت علی علیہ السلام نے اپنی بیٹی ام کلثوم کا ہاتھ پکڑ کر اپنے گھر لے گئے تھے ۔
 چوتھی دلیل 
سلیمان بن خالد کہتے ہیں کہ میں نے حضرت جعفر بن صادق علیہ السلام سے پوچھا کہ بیوہ عورت عدت وفات كہاں پوری کرے ؟ اپنے شوہر کے گھر عدت پوری کرے یا جہاں چاہے بیٹھ سکتی ہے ؟ آپ نےمیرے جواب میں کہا :جہاں چاہے اپنی عدت پوری کرے اور اپنی اس رائے کو مدلل کرتے ہوئے فرمایا کہ جب عمر فوت ہوئے تھے تو حضرت علی علیہ السلام نے اپنی دختر ام کلثوم ( زوجہ عمر ) کے پاس تشریف لائے اور اس کا ہاتھ پکڑ کر اپنے گھر لے گئے تھے ۔

( فروع کافی : کتاب الطلاق 6/ 116)

تبصرہ :قارئین کرام ! اسے مذہبی تعصب کہیے گا ۔۔۔۔ یا سبائی ہاتھ کی صفائی ۔۔۔۔ کہ جب نکاح ام کلثوم کا دلائل قاطعہ ۔۔۔۔ اور براہین ساطعہ کی وجہ سے انکار نہ کر سکے ۔۔۔۔ تو حضرت علی کرم اللہ وجہہ جیسے غیور ۔۔۔۔ اور جسور ۔۔۔۔ انسان کو بے بس ۔۔۔۔ اور مجبور محض ۔۔۔۔ ظاہر کر دیا ، گویا حضرت علی کرم اللہ وجہہ ۔۔۔۔ جن کے بارے میں شیعہ حضرات "لافتى إلا على ولاسيف إلا ذوالفقار " اور مولیٰ مشکل کشا کہتے ۔۔۔۔ نہیں تھکتے ۔۔۔۔ بصورت اکراہ و مجبوری اس نکاح کامعاملہ ۔۔۔۔ حضرت عباس رضی اللہ عنہ کو سونپ کر اپنی جان چھڑائی تھی ۔۔۔۔ سبائی حضرات اس حقیقت واضحہ کی کوئی بھی تاویل کریں ۔۔۔۔ مگر یہ حقیقت اپنی جگہ بہر حال ۔۔۔۔ اور بہر نوع قائم اور دائم ہے ۔۔۔۔ کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ حضرت علی کرم اللہ وجہہ کے داماد ۔۔۔۔ اور بی بی ام کلثوم بنت علی ہمشیرہ حضرت حسین رضی اللہ عنہا کے شوہر نامدار تھے ۔۔۔۔ مزید پڑھئے ۔
 پانچویں دلیل 
شیخ الطائفہ ابو جعفر محمد بن جعفر الطوسی متوفی 460ھ نے اپنی شہرہ آفاق کتاب ’’تہذیب الاحکام ‘‘ میں غیر مبہم الفاظ میں اعتراف کیا ہے ۔۔۔۔ کہ بی بی ام کلثوم بنت علی جوسیدہ فاطمہ الزھراہ ؓ کے بطن سے تھیں حضرت عمر کی زوجہ محترمہ تھیں۔
نوٹ : "تہذیب الاحکام" شیعہ کے صحاح اربعہ میں سے اھم کتاب ہے

’’عن عبدالله بن سنان، ومعاوية ابن عمار، عن أبي عبدالله عليه السلام قال: سألته عن المرأة المتوفى عنها زوجها أتعتد في بيتها أو حيث شاء‌ت؟ قال: بل حيث شاء‌ت، إن عليا عليه السلام لما توفي عمر أتى أم كلثوم فانطلق بها إلى بيته‘‘

( تهذيب الاحكام،كتاب النكاح)

عبد اللہ بن سنان اور معاویہ بن عمار سے ر وایت ہے کہ ہم نے ابو عبداللہ(امام جعفر صادق) علیہ السلام سے یہ مسئلہ دریافت کیا کہ جب کسی عورت کا شوہر فوت ہو جائے تو وہ عدت وفات کہاں گزارے ؟
اپنے شوہر کے گھر بیٹھے یا جہاں چاہے گزارے ؟
تو آپ نے جواب میں فرمایا کہ جہاں چاہے بیٹھے۔ کیونکہ جب عمر فوت ہو گئے تو حضرت علی علیہ السلام اپنی بیٹی ام کلثوم کا ہاتھ پکڑ کر اپنے گھر لے گئے تھے ۔
 چھٹی دلیل

عن سليمان بن خالد قال: سألت عن عبد الله عن امرأة توفى زوجها أين تعتد في بيت زوجها تعتد أو حيث شاءت؟ قال: بل حيث شاءت ثم قال: إن علياعليه السلام لما مات عمر أتى أم كلثوم فأخذ بيدها فانطلق بها إلى بيته .

(تهذيب الاحكام : حوالہ مذكوره )

صفحہ 2 از 5