حضرت عمرفاروق رضی اللہ عنہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے داماد…

حضرت عمرفاروق رضی اللہ عنہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے داماد تھے۔

  مولانا اشتیاق احمد ، مدرس دارالعلوم دیوبند

صفحہ 1 از 5

سنی اور شیعہ کتب میں متفقہ طور پر یہ بات واضح ہے کہ
حضرت عمر رضی اللہ عنہ
حضرت علی کرم اللہ وجہہ کے داماد تھے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔!!!
حضرت ام كلثوم ( زينب صغرىٰ ) بنت علی ۔۔۔۔ جوکہ سیدہ فاطمہ الزھراء ؓ بنت رسول اللہ ﷺ کی ۔۔۔۔ سب سے چھوٹی بیٹی تھیں ۔۔۔۔ بلاشبہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی ۔۔۔۔ زوجہ محترمہ تھیں ۔۔۔۔ اور یہ ایسی حقیقت ہے ۔۔۔۔ کہ سنی محدثین کرام کے علاوہ خود شیعہ محدثین ۔۔۔۔ اور مؤرخین ۔۔۔۔ کو بھی اس حقیقت کے معترف ہیں...!

حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا نکاح حضرت ام کلثوم بنت علی!اہل سنت کتب

صحیح بخاری کی ایک روایت میں ہے کہ
’’ثعلبہ بن ابی مالک کہتے ہیں ۔۔۔۔ کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے مدینہ کی عورتوں میں چادریں تقسیم کیں ۔۔۔۔ ایک عمدہ چادر بچ رہی ۔۔۔۔ ان کے پاس بیٹھے ہوئے لوگوں میں سے ایک نے کہا ۔۔۔۔ کہ حضرت ! آپ یہ چادر رسول اللہﷺ کی نواسی ۔۔۔۔ حضرت علی کرم اللہ وجہہ کی صاحبزادی ۔۔۔۔ ام کلثوم ؓ کو عنایت فرما دیجیے ۔۔۔۔ جو آپ کی بیوی ہیں" ۔۔۔۔ امیر المؤمنین حضرت عمر ﷜ نے فرمایا : میری بیوی ام کلثوم کے مقابلہ میں ۔۔۔۔۔ بی بی ام سلیط اس چادر کی زیادہ مستحق ہیں ۔۔۔۔ وہ انصاری عورت تھیں ۔۔۔۔ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کی بیعت کی تھی ۔۔۔۔ امیر المؤمنین کہنے لگے :
یہ بی بی ام سلیط ؓ جنگ احد میں ۔۔۔۔ پانی کی مشکیں اپنی کمر پر لاد لاد کر ۔۔۔۔ ہمارے لیے لاتی تھیں ۔
(بخاری : باب حمل النساء القرب الی الناس فی الغزو ج1 ص3)
شیخ الاسلام حافظ ابن حجر عسقلانی رحمہ اللہ اس حدیث کی شرح میں اس حقیقت کو یوں بیان فرماتے ہیں :

كان عمر قد تزوج ام كلثوم بنت علي وامها فاطمة ولهذا قالوا لها بنت رسول الله وكانت قد ولدت له في حياته وهي اصغر بنات فاطمة.(فتح الباری شرح صحیح بخاری ، باب حمل النساء القرب الی الناس فی الغزو صفحہ59)

کہ حضرت ام کلثوم امیر المومنین حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی بیوی تھیں ۔۔۔۔ ان کی والدہ محترمہ کانام فاطمہ بنت رسول اللہﷺ ہے ۔۔۔۔ اسی لیے لوگوں نے ان کو بنت رسول اللہﷺ کہا ۔۔۔۔ بی بی کلثوم ؓ رسول اللہ ﷺ کی حیات ہی میں پیدا ہوئی تھیں ۔۔۔۔ اوریہ حضرت فاطمہ ؓ الزھراء کی سب سے چھوٹی بیٹی تھیں ۔
علامہ کرمانی صحیح بخاری کی اس حدیث شرح میں لکھتے ہیں کہ ام کلثوم فاطمہ بنت رسول اللہ ﷺ کی بیٹی ہیں ۔۔۔۔ جو رسول اللہ کی حیات میں پیدا ہوئی تھیں ۔۔۔۔ امیر المومنین حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے حضرت علی کرم اللہ وجہہ سے ۔۔۔۔ اس محترمہ کار شتہ طلب کیا تو حضرت علی کرم اللہ وجہہ نے فرمایا :
اگر آپ کو میری بیٹی پسند ہے ۔۔۔۔ تو میں نے اس کا نکاح آپ سے کر دیا۔ (کرمانی شرح البخاری حاشیہ صحیح البخاری صفحہ403)
امیر المومنین فی الحدیث حضرت امام بخاری رحمہ اللہ کی اس صحیح حدیث کے بعد ۔۔۔۔ ہم کسی اور سنی کتاب کی تصریح ۔۔۔۔ اور حوالہ کی مزید ضرورت محسوس نہیں کرتے ۔۔۔۔ اور پھر مزید برآں شیخ الاسلام امام ابن حجر العسقلانی رحمہ اللہ ۔۔۔۔ اور علامہ کرمانی رحمہ اللہ کی صراحت کے بعد ۔۔۔۔ کسی قسم کی کوئی تشنگی باقی نہیں رہ جاتی ۔۔۔۔ تاہم اتمام حجت کیلئے اکابر شیعہ علماء کی کتب معتبرہ سے ۔۔۔۔ ایسے گیارہ دلائل پیش کرتے ہیں ۔۔۔۔ جن میں حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کو حضرت علی کرم اللہ وجہہ کا داماد تسلیم کیا گیا ہے ۔

حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا نکاح حضرت ام کلثوم بنت علی سے شیعہ محدثین/مؤرخین کی کتب معتبرہ اور اصول اربعہ( از فروع کافی) :

پہلے ملاحظہ فرمائیں شیعوں کی معتبر ترین کتاب اصول کافی کا مختصر تعارف ۔
اس کتاب کے مؤلف اور شیعہ کے ثقة الاسلام ابو جعفر بن یعقوب بن اسحاق کلینی الرازی المتوفی 328تا 329ھ اپنی اس کتاب کے بارے میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔ کہ میں نے اس کتاب کو امام غائب مہدی المنتظر پر پیش کیا ۔۔۔۔ (جو "سر من رئی" غار میں چھپا ہوا ہے)
تو انہوں نے فرمایا : "ھذا کاف لشیعتنا"

یعنی اس پر مہر تصدیق ثبت فرمائی ۔۔۔۔ اور کہا کہ یہ کتاب ہمارے شیعوں کیلئے کافی ہے ۔۔۔۔ دوسری کتاب کی حاجت نہیں ۔

ملاخلیل شارح کافی ۔۔۔۔ اپنی کتاب الصافی شرح اصول کافی میں لکھتے ہیں :
’’ ہمارے علماء کی ایک جماعت کا کہنا یہ ہے ۔۔۔۔ کہ آثار صحیح اس پر دلالت کرتے ہیں ۔۔۔۔ کہ جوحدیث بھی کافی (اصول و فروع ) میں مروی ہے بالکل صحیح ہے ۔ ‘‘ (الصافی : صفحہ36)
ان دونوں وضاحتوں سے ثابت ہوا ۔۔۔۔ کہ شیعہ دنیا میں کافی ( اصول وفروع ) کو صحیح اور مستند کتاب ۔۔۔۔ اور اس کی احادیث کا انکار گویا امام کو جھٹلانے کے مترادف ہے ۔۔۔۔ اور سنیوں کی صحیح البخاری کے پائے کی کتاب سمجھی جاتی ہے ۔۔۔۔ بلکہ اس سے بھی زیادہ صحیح اور معتبر مانتے ہیں ۔۔۔۔ کیونکہ بزعم شیعہ اس کتاب پر امام مہدی نے صحت کا مہر لگایا ہے ۔۔۔۔ اس لیے ہم نے اس کتاب کے حوالہ جات کو مقدم رکھا ہے ۔۔۔۔ اب حوالہ جات ملاحظہ فرمائیے !

1۔ عن أبى عبد الله فى تزويج أم كلثوم فقال إن ذلك فرج غصبناه . ( فروع كافى باب تزويج ام كلثوم كتاب النكاح جلد 5 صفحہ 346)

صفحہ 1 از 5