افضلیت سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ - دفاعِ اہلِ سنت | دفاع…

افضلیت سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ

  علامہ ڈاکٹر خالد محمود رحمہ اللہ

صفحہ 4 از 5

(البدایہ و النہایہ جلد 5، صفحہ 236، وکذٰلک فی شرح الفقہ الاکبر للعلی القاری صفحہ 75)

آنحضرتﷺ کا سیدنا ابوبکرصدیقؓ کو نماز میں آگے کرنا اس بات کی دلیل ہے کہ آپ تمام صحابہ کرامؓ میں سب سے زیادہ عالم اور کتاب اللہ کے ساتھ سب سے زیادہ مشتغل تھے۔

سیدنا صدیقِ اکبرؓ کا علومِ قرآنیہ اور اس کے اسرار و آثار میں سب سے ممتاز ہونا یہ اس لئے بھی ہے کہ مرتبہ صدیقیت خود بابِ علم میں سے ہے جس طرح کہ قتال و جہاد بابِ عمل میں سے ہے، مرتبہ نبوت جو علمِ صحیح اور عملِ کامل کا جامع ہے، اپنی دلالت لفظی میں خود بابِ علم میں سے ہے۔ نبی کے عام معنیٰ ہیں خبر دینے والا یا خبر دیا ہوا ہو، اور ظاہر ہے کہ خبر شانِ علم میں سے ہے، اسی طرح صدیق کا لفظ بھی اپنی دلالت لفظی میں شانِ علم کا حامل ہے جس کے معنیٰ ہیں تصدیق کرنے والا اور ظاہر ہے کہ تصدیق نشانِ علم میں سے ہے عمل اگر اس میں داخل ہے تو ثانوی اعتبار سے ہے۔حاصل اینکہ مرتب صدیقیت خود ایک علم کی شان ہے، پس علوم کے یہ مراتب اور اسرار و آثار بھی خاتم مراتب صدیقیت سیدنا ابوبکر صدیقؓ پر منتہٰی ہیں۔

ترجمان القرآن حبر الاُمت سیدنا ابنِ عباسؓ کی شہادت

سیدنا ابنِ عباسؓ جنہیں قرآن دانی میں یہ مقام حاصل تھا کہ سیدنا فاروقِ اعظمؓ انہیں مشائخ بدر میں شمار فرماتے تھے۔ چنانچہ ایک دن سیدنا عبدالرحمٰن بن عوفؓ نے سوال کیا تو سیدنا فاروقِ اعظمؓ نے سورۃ نصر کے معنیٰ سیدنا ابنِ عباسؓ سے بیان کروا کر سب اکابر کو حیران کر دیا ہے۔ 

(صحیح بخاری جلد 2، صفحہ 743)

آنحضرتﷺ کی وفات شریفہ پر جب سیدنا ابوبکر صدیقؓ نے یہ آیت تلاوت فرمائی: 

وَمَا مُحَمَّدٌ اِلَّا رَسُوۡلٌ قَدۡ خَلَتۡ مِنۡ قَبۡلِهِ الرُّسُلُ‌اَفَا۟ئِنْ مَّاتَ اَوۡ قُتِلَ انْقَلَبۡتُمۡ عَلٰٓى اَعۡقَابِكُمۡ‌وَمَنۡ يَّنۡقَلِبۡ عَلٰى عَقِبَيۡهِ فَلَنۡ يَّضُرَّ اللّٰهَ شَيۡــئًا‌ وَسَيَجۡزِى اللّٰهُ الشّٰكِرِيۡنَ 

(سورۃ آل عمران:آیت 144)

 تو یہی ترجمان القرآن ارشاد فرماتے ہیں:

واللہ لکان الناس لم یعلموا ان الله انزل ھٰذہ الایۃ حتیٰ تلاھا ابوبکر فتلقا ھامنه الناس کلھم فما اَسُمَعُ بشراً من الناس الا یتلوھا

(بخاری جلد 2، صفحہ 640)

بخدا سیدنا ابوبکرصدیقؓ کے اس وقت اس آیت کو بیان کرنے کا یہ اثر ہوا کہ اس سے پہلے گویا لوگ اس آیت کو جانتے ہی نہ تھے بس سب صحابہ کرامؓ نے اس آیت کو سیدنا ابوبکرصدیقؓ سے ہی لیا اس وقت حال یہ ہوا کہ میں جس کسی کو سنتا وہ یہی آیت پڑھ رہا تھا۔

کتاب اللہ کی معرفت اور علمی سرفرازی کس بلند درجہ کی تھی کہ ایک آیت کے بیان نے سب سامعین کو یہ ذوق قرآنی بخش دیا۔ سیدنا صدیقِ اکبرؓ نے قرآنی ہدایت معنویت سے آگے لا کر گویا محسوسات کی صورت میں آگے رکھ دی، علم کو ان کی آنکھوں کے سامنے محسوس کرا کر رکھ دیا۔

لقد بصر ابوبکر الناس الھدی وعرفھم الحق الذی علیھم وخرجوا به یتلون

(ایضاً جلد 1، صفحہ 518)

بےشک سیدنا ابوبکر صدیقؓ نے ہدایت ان کی آنکھوں کے سامنے لا کر رکھ دی اور جس حق پر وہ قائم تھے اس کی انہیں پوری معرفت عطاء کی پھر سب اسی آیت کو پڑھتے نکلتے۔

قرآنی نظریہ فضیلت کے دو معیار ایمان اور علم اپنی اپنی تفصیلات کے ساتھ واضح ہو چکے اور واقعات کی دنیا دلائل و شواہد کے ساتھ اعتراف کرچکی کہ ان سب امور میں سیدنا ابوبکر صدیقؓ کا قدم سب سے آگے ہے۔ 

تیسرا معیارِ فضیلت

اب آئیے تیسرے معیارِ فضیلت کو دیکھیں، قال اللہ تعالیٰ:

لَایَسْتَوِیْ مِنْكُمْ مَّنْ اَنْفَقَ مِنْ قَبْلِ الْفَتْحِ وَ قٰتَل-اُولٰٓىٕكَ اَعْظَمُ دَرَجَةً

(سورۃ الحدید،آیت: 10)

برابر نہیں تم میں سے جنہوں نے فتح مکہ سے پہلے اللہ کی راہ میں خرچ کیا اور جہاد میں شامل ہوئے ان کا درجہ دوسروں سے بہت اونچا ہے۔

اس آیت شریفہ نے انفاق(خرچ کرنا) اور قتال (جہاد) کہ مجموعہ کو بشرطیکہ فتح مکہ سے پہلے کی یہ قربانیاں ہوں بطریقِ نص معیارِ افضلیت قرار دیا ہے۔

اب آئیے دیکھیں اس عملے انفاق میں سیدنا ابوبکر صدیقؓ کس درجہ میں تھے، حضورﷺ نے فرمایا:

ما نفعتی مال قط ما نفعنی مال ابی بکر، فبکی ابوبکر وقال یارسول اللہﷺ ھل انا ومالی الالک

(ابنِ ماجہ، صفحہ 10)

مجھے کسی مال سے اتنا فائدہ نہیں پہنچا جتنا ابوبکر صدیقؓ کے مال سے پہنچا ہے، اس پر سیدنا ابوبکر صدیقؓ رو پڑے اور کہا یا رسول اللہﷺ میں اور میرا مال تو ہے ہیں ہی آپ کے لیے۔

اس مقام پر یہ بات بھی ملحوظ رہے کہ حضورﷺ نے تو صرف مال کا ذکر فرمایا تھا سیدنا ابوبکرؓ نے ساتھ ہی اپنی جان کا تذکرہ بھی فرما دیا، معلوم ہوا کہ جان کا آنحضرتﷺ کے لئے وقف ہونا حضورﷺ کے نزدیک پہلے ہی مسلمات میں سے تھا حضورﷺ نے جب ان کے انفاق(خرچ) کا اس اعترافِ عظمت کے ساتھ ذکر کیا تو سیدنا ابوبکرؓ نے اسے اپنے آپ کو ہی حضورﷺ کے لئے وقف کیے ہونے کے ساتھ ملا کر پوری تواضع کے ساتھ اس استعجاب کو رفع کر دیا۔

یہاں یہ انفاق اور قتال کی مجموعی کیفیت دربارِ رسالت سے سند منظوری لے رہی ہے۔

عن عائشه قالت الفق ابوبکر علی النبیﷺ اربعین الفاً اخرجه، ابو حاتم

(مرقات جلد 5، صفحہ 527)

سیدہ عائشہ صدیقہؓ کہتی ہیں کہ سیدنا ابوبکر صدیقؓ نے آنحضرتﷺ پر 40 ہزار دینار خرچ کر دئیے تھے۔

پھر محدث عبدالرزاقؒ نقل کرتے ہیں کہ

کان رسول اللّٰہﷺ یقضی فی مال ابوبکر کما کان یقضی فی مال نفسهٖ۔

آنحضرتﷺ سیدنا ابوبکرؓ کے مال میں اسی طرح تصرف فرماتے ہیں جس طرح کہ اپنے مال میں تصرف کرتے۔

اس روایت اور ان الفاظ پر غور فرمائیے کہ کس طرح نفسِ رسالت کا نفسِ صدیقیت میں انجذاب ہو چکا ہے، غیریت کے پردے سب اٹھ چکے ہیں اور سیدنا ابوبکر صدیقؓ کے جان و مال کو رب العزت کے ہاں وہ درجہ قبولیت حاصل تھا کہ گویا آنحضرتﷺ کے ہاں وہ اپنے ہی جان و مال ہیں۔ 

اب آئیے! لسانِِ رسالت سے پھر ان دونوں مالی اور جانی قربانیوں کی سند حاصل کریں، آنحضرتﷺ نے ارشاد فرمایا:

ان اللہ بعثنی الیکم فقلتم کذبت و قال ابوبکر صدق و واسانی بنفسهٖ ومالهٖ

(بخاری جلد 1، صفحہ 517)

اللہ تعالیٰ نے مجھے تمہارے پاس بھیجا تم نے میری تکذیب کی لیکن سیدنا ابوبکر صدیقؓ نے میرے بارے میں کہا کہ سچ کہہ رہے ہیں اور اپنے جان و مال سے میرا ساتھ دیا۔

صفحہ 4 از 5