سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی شان سیدنا على رضی اللہ…

سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی شان سیدنا على رضی اللہ عنہ کی زبان سے

  سید نظیر احمد بخاری

صفحہ 4 از 4

پھر یہ مدح جو اس خطبہ میں ہے ممنوع نہیں جو سامنے کہنا ناجائز ہو۔ سامنے تعریف کرنے والے اس لائق ہیں کہ اُن کے منہ میں مٹی ڈالی جائے اس لئے کہ مدح کہنے والے (سیدنا علیؓ) اور حمدوح کریم (سیدنا ابوبکرؓ) میں عالم کا فرق ہے، یہ عالم دنیا میں تھے اور وہ اعلیٰ علیین میں پہنچ چکے تھے جو عالمِ برزخ کی ایک منزل ہے۔

سیدنا صدیقِ اکبرؓ کے فضائل پر اس خطبہ کے بعد کچھ تحریر کرنا محض خامہ فرسائی کے سواء کچھ اہمیت نہیں رکھتا، کیونکہ یہ خطبہ سیدنا ابوبک رصدیقؓ کی حقیقی تصویر ہے ہر قسم کی گستاخی کے لیے ایک دیوار ہے۔

 علاؤہ ازیں سیدنا ابوبکر صدیقؓ کی وفات کے بعد اس خطبہ کی صداقت کی شہادت ہے جو سیدنا حسنؓ نے دی، ابو مریم کا بیان ہے:

کہ میں کوفہ میں تھا سیدنا حسن بن علیؓ نے کھڑے ہوکر خطبہ دیا کہ اے لوگوں! رات میں نے ایک عجیب خواب دیکھا، میں نے ربِ کریم کو عرش پر دیکھا، اس عرصہ میں رسول اللہﷺ تشریف لائے اور عرش کے ایک پایہ کے پاس قیام فرمایا، پھر ابوبکرؓ آئے اور دوش مبارک پر ہاتھ رکھ کر کھڑے ہوگئے پھر عمرؓ آئے اور ابوبکرؓ کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر کھڑے ہوگئے، پھر عثمانؓ آئے اُن کے ہاتھ میں اُن کا سر تھا عرض کی الٰہی اپنے بندوں سے پوچھ کہ انہوں نے مجھ کو کس قصور میں قتل کیا۔ اس کہنے پر آسمان سے دو خون کے پرنالے زمین میں بہنے لگے، یہ خطبہ سن کر لوگوں نے سیدنا علیؓ سے کہا کہ آپ دیکھتے ہیں سیدنا حسنؓ کیا کہتے ہیں۔

فرمایا:جو دیکھا ہے وہ کہتے ہیں۔

یہ تھی سیدنا صدیقِ اکبرؓ کی ذات ملکوتی صفات اور یہ تھے دینِ محمدیﷺ پر ان کے احسانات جو رہتی دنیا تک قائم رہیں گے، مگر زمانے کی روش کتنی بڑی کافر نعمت، ناسپاس، ناشکر گذار اور محسن آزار ہے کہ اس قسم کے قدس صفات بزرگ کے پاک دامن سے بھی الجھنا اپنا عین حق تصور کرتی ہے۔ افسوس کہ مسلمانوں نے اپنے بزرگوں کی خدمات کا حق صحیح معنوں میں ادا نہیں کیا۔ اس کے برعکس مخالف الزام تراشیوں کے لیے کمر بستہ ہوگئے۔ جب لوگوں نے خدا پر کسی کا باپ ہونے، نبی پر ساحر اور کاہن ہونے کے اتہام باندھے تو پھر اس قسم کے بزرگ حلقہ دشنام و تبراء میں آنے سے کیسے بچ سکتے تھے، فطرتِ کائنات یہی ہے۔

یہود کی شہ یا مخالفین کی الزام تراشی اگر صرف مخالفت تک محدود رہتی تو اسے سیاسی رقابت کہہ کر نظر انداز کیا جا سکتا تھا۔ مگر یہ بات کس قدر عقل و خرد سے متصادم ہے کہ اسے ایک مذہبی گروہ نے عبادت کا درجہ دے رکھا ہے اور وہ اسے اپنا فرقہ وارانہ حق سمجھتے ہیں کہ ہر نماز کے بعد یہ ناپاک عبارت بعقیدہ عبادت اپنی نجس زبان سے کہیں۔ 

باید بعد از ہر نماز بگوید اللهم العن ابابكر(استغفر الله)

(عین الحیاۃ ملا باقر مجلسی صفحہ 599 مطبوعہ ایران)

 اور پھر ایسے سادہ لوح یا چالاک بھی ہیں جو شیعہ ہوتے ہوئے کہتے ہیں کہ یہ ہمارا عقیدہ نہیں اور ہم ایسا نہیں کرتے۔ کلینی اور باقر مجلسی ہمارے مذہب کے ترجمان نہیں ہیں یہ سچ ہے، جھوٹ کی کوئی انتہاء نہیں، بولنے والا بے شرم چاہیئے۔


صفحہ 4 از 4