سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی شان سیدنا على رضی اللہ…

سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی شان سیدنا على رضی اللہ عنہ کی زبان سے

  سید نظیر احمد بخاری

صفحہ 3 از 4

سچ لانے والے محمدﷺ اور تصدیق کرنے والے ابوبکرؓ، تم نے آپﷺ کے ساتھ اُس وقت غمخواری کی جب اوروں نے تنگدلی کی اور تم مصائب کے وقت حضور ﷺ کے ساتھ اس وقت بھی کھڑے رہے جب لوگ آپﷺ سے بچھڑ گئے تم نے سختیوں میں بھی حضورﷺ کے ساتھ محبت و رفاقت کا حق با حسن وجوہ ادا کیا، تم ثانی اثنین اور رفیقِ غار (ثور) تھے اور تم پر سکون نازل ہوا تھا، تم ہجرت میں آپﷺ کے رفیق تھے اور اللہ کے دین میں اور رسولﷺ کی امت پر تم آپﷺ کے ایسے خلیفہ تھے جس نے اُس وقت خلافت کا حق ادا کر دیا جبکہ لوگ مرتد ہوگئے تھے اور تم نے خلافت کا وہ حق ادا کردیا جو پیغمبر کے کسی خلیفہ نے ادا نہیں کیا تھا۔ چنانچہ تم نے اُس وقت مستعدی دکھائی جب کہ تمہارے ساتھی سُست ہوگئے تھے اور تم نے اُس وقت جنگ کی جبکہ وہ عاجز ہوگئے تھے، جب وہ کمزور تھے تو تم قوی رہے، اور تم نے رسولﷺ کے راستہ کو اُس وقت تھامے رکھا جبکہ لوگ پست ہوگئے تھے۔ تم بلا نزاع و تفرقہ خلیفہ برحق تھے، اگرچہ اس سے منافقوں کو غصہ، کفار کو رنج، حاسدوں کو کراہت اور باغیوں کو غیظ تھا، تم امر حق پر ڈٹے رہے۔ جبکہ لوگ بزدل ہوگئے، اور تم ثابت قدم رہے جب وہ ڈگمگا اٹھے، اور جب وہ رک گئے تو تم نورِ الٰہی کی روشنی میں رواں رہے، پھر انہوں نے بھی تمہاری پیروی کی اور منزل پر پہنچ گئے، تمہاری آواز سب سے پست، تمہارا تفوق سب سے اعلیٰ، تمہارا کلام سب سے زیادہ باوقار تمہاری گفتگو سب سے زیادہ باصواب، تمہاری خاموشی سب سے زیادہ طویل، تمہارا قول سب سے زیادہ بلیغ تھا، تمہاری ذات سب سے زیادہ شجاع اور معاملات کی سب سے زیادہ واقف اور عمل میں سب سے زیادہ بزرگ تھی، واللہ تم اہلِ دین کے سردار تھے۔ جب لوگ دین سے ہٹے تو تم آگے بڑھے اور جب وہ دین پر جھکے تو تم ان کے پیچھے پیچھے تھے تم اہلِ ایمان کے مہربان باپ تھے، اس مہرِ پدری سے وہ تمہاری اولاد بن گئے، جب بھاری بوجھوں کو وہ نہ اٹھا سکے اُن کو تم نے اٹھایا، جو ان سے فرو گذاشت ہوئی اس کی تم نے نگہداشت کی، جو چیز انہوں نے کھو دی اس کی تم نے حفاظت کی، جو انہوں نے نہ جانا وہ تم نے سکھایا تم نے جانبازی کی جب وہ عاجز ہوگئے تم ثابت قدم رہے جب وہ گھبرا گئے تم نے داد خواہوں کی داد رسی کی، وہ اپنی رہنمائی کے لیے تمہاری رائے کی جانب رجوع ہوئے اور کامیاب ہوئے، تمہارے ذریعے سے اُن کو وہ ملا جس کا ان کو گمان نہ تھا، تم کافروں کے لیے بارش عذاب اور آتشِ سوزاں تھے اور مؤمنوں کے لیے رحمت اُنس و پناہ تھے تم نے اوصاف کی فضا میں پرواز کی ان کا خلعت پالیا، اُن کے محاسن لے لیے اور فضائل کی بازی جیت لی تمہاری دلیل کو شکست نہیں ہوئی، تمہاری بصیرت کمزور نہیں ہوئی اور تم نے بزدلی نہیں دکھائی، تمہارے دل میں کجی پیدا نہیں ہوئی اور وہ منحرف نہیں ہوا، تم اس پہاڑ کی مانند تھے جس کو آندھیاں حرکت نہیں دے سکتیں اور جیسا کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا تھا تم رفاقت اور مالی خدمت دونوں کے اعتبار سے سب سے زیادہ احسان کرنے والے تھے، اور ارشادِ نبویﷺ کے موافق جسمانی لحاظ سے گو کمزور لیکن الله کے معاملے میں قوی تھے، اپنے نفس کے اعتبار سے متواضع، الله کے نزدیک بڑے اور لوگوں کی آنکھوں میں بھاری بھرکم اور بڑے تھے۔ تمہاری نسبت نہ کوئی دھوکا میں تھا اور نہ وہ حرف گیری کرسکتا تھا۔ تم میں نہ کسی کی طمع تھی اور نہ تم کسی کی رعایت کرتے تھے، ضعیف اور پست آدمی تمہارے نزدیک قوی تھا کہ تم اس کو حق دلاتے تھے اور قوی تمہارے نزدیک کمزور اور ناچیز تھا کہ تم اس سے حق لے کر رہتے تھے، اس معاملہ میں قریب و بعید سب تمہاری نظر میں برابر تھے، تمہارا سب سے زیادہ مقرب وہ تھا جو خدا کا سب سے زیادہ فرمانبردار اور سب سے زیادہ پرہیزگار تھا، تمہاری شانِ حق راستی اور نرمی تھی تمہارا قول حکم اور منطقی تھا، تمہارے حکم میں حلم تھا اور حزم ورائے میں دانائی تھی اور عزم تھا۔ ان اوصاف و فضائل کی قوت سے تم نے باطل کو اکھیڑ کر پھینک دیا، اس کے بعد راستہ صاف تھا،مشکل آسان تھی اور فتنہ و فساد کی آگ سرد، دین تمہاری مدد سے اعتدال پر آگیا، ایمان تمہاری وجہ سے قوی ہوگیا اور اسلام اور مسلمان مضبوط ہوگئے اور فرمانِ الٰہی غالب آگیا، اگرچہ کفار کو سخت ناگوار تھا، اس حسن و خدمت میں واللہ تم بہت آگے نکل گئے اور اپنے جانشین کو سخت دشواری میں ڈال دیا اور علانیہ خیر کے مراتب پالیے، تمہاری شان آہ و بکا سے ارفع ہے اور تمہارا ماتم آسمان پر عظیم ہے اور تمہاری مصیبت نے لوگوں کی کمر توڑ دی ہے تمہاری مصیبت پر ہم انا لله وانا الیهِ رَاجِعُونَ کہتے ہیں، قضائے الٰہی پر رضامند ہیں اور اس کے حکم کو تسلیم کرتے ہیں۔ واللہ رسول اللہ ﷺ کی وفات کے بعد تمہاری وفات سے بڑھ کر مسلمانوں پر کبھی کوئی مصیبت نہیں پڑے گی، تم دین کی عزت، حفاظت، اور پناہ تھے مسلمانوں کی جمعیت قلعہ اور جائے پناہ اور منافقین کے حق میں سختی اور غصہ، اس کی جزا میں الله تعالیٰ تم کو تمہارے نبیﷺسے ملا دے اور ہم کو تمہارے اجر سے محروم اور تمہارے بعد گمراہ نہ فرمائے۔ ہم پھر اِنَّا لِلهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ کہتے ہیں۔

بقول راوی جب تک سیدنا علیؓ خطبہ فرماتے رہے تمام اشخاص پر خاموشی مسلط رہی اور خطبہ کے اختتام پر تمام لوگ اس قدر روئے کہ (بلا اختیار) آواز بلند ہوگئی اور تمام نے بالاتفاق کہا کہ اے رسول اللہﷺ کے خویش آپ نے سچ فرمایا۔ (الریاض النضرہ)

یہاں سے اجتماعی رونے پر استدلال نہ کیا جائے یہ ایک غیر اختیاری کیفیت تھی اور اندرونی جذبات کا ایک بلا اختیار اظہار تھا، پھر یہ خطبہ ان تین ایام سوگ میں تھا جن کی شریعت نے اجازت دی ہے سیدنا ابوبکر صدیقؓ کا جسدِ مبارک سامنے تھا اور سیدنا علیؓ تقریر فرما رہے تھے۔

لیکن جب اصل صدمہ پر تین دن گزر چکے ہوں پھر ایسی مجالس قائم کرنا اور مرحومین کا اس انداز میں ذکر کرنا کہ سننے والوں پر رقت طاری ہو یہ ایک اختیاری عمل ہے جو بارادۂ ماتم کیا جاتا ہے اس کی اسلام میں اجازت نہیں، یہ ایک اختیاری اور اجتماعی ماتم ہے جو سوگ کے تین دنوں کے بعد ہر سال کیا جاتا ہے۔

صفحہ 3 از 4