سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی شان سیدنا على رضی اللہ…

سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی شان سیدنا على رضی اللہ عنہ کی زبان سے

  سید نظیر احمد بخاری

صفحہ 1 از 4

سیدنا ابوبکر صدیقؓ کی شان سیدنا علىؓ کی زبان سے

مسلمانوں کی تاریخ میں خلافتِ راشدہ کا دور ایک ایسا سنہری دور ہے جسے غیر مسلم تاریخ دان بھی تاریخِ اسلام کا بہترین زمانہ تسلیم کرتے ہیں، اسی دور سے مختلف علوم کے چشمے پھوٹتے ہیں اور مسلمانوں کی کثیر تعداد اپنی علمی، فکری، عملی، اور قانونی، تشنگی دور کرنے کے لیے اسی دور کی طرف ہی دیکھتی ہے، اس دور کے خلفاء اسلام کا ایک ایسا سرمایہ ہیں جس سے ہر وہ شخص استفادہ کرتے ہوئے اپنے آپ کو بہرہ یاب سمجھتا ہے، جسں نے بھی اس تاریخ کا گہرا مطالعہ کیا ہے اور جذباتی وابستگی کو بالائے طاق رکھتے ہوئے اسلام کے ان ابطالِ جلیلہ کی خدمات پر ایک ایسی نگاہ ڈالی ہے جس میں تعصّب کی کرنوں نے بینائی فراہم نہیں کی، اُسے اس حقیقتِ حال کے اعتراف سے چارہ نہیں۔ اگر اس دور کے مسلمان بھی تعصّب اور جذبات کے عناصر سے پاک ہو کر اپنی تاریخی، تحقیقی، اور امتثالی نظر ڈالتے تو کم از کم مسلمانوں میں فرقوں کی تعداد تو ضرور کچھ کم ہوجاتی اور اصحابِ رسولﷺ کو معیارِ صداقت سمجھنے میں جن بعض خام ذہنوں کو کچھ تذبذب ہے ان کا اضطراب ضرور ختم ہوجاتا۔ اہلِ اسلام اس وقت جس افراط و تفریط میں مبتلا ہیں اس کے لیے مؤثر علاج یہی ہے کہ آج کل کے مسلمان قرونِ اولیٰ کے مسلمانوں کی اقتداء اور پیروی کو اپنا مطمح نظر بنائیں کیونکہ یہ برگزیدہ ہستیاں اپنے اندر ایسی خصوصیات رکھتی تھیں جن کو اپنا کر ہم اپنی بہت سی مشکلات پر قابو پاسکتے ہیں۔ اکابر صحابہؓ کی ان صفات و خصوصیات کو ان کے معاصرین بعض اصاغر صحابہؓ نے بھی تسلیم کیا ہے، اور یہ چیز صحابہؓ کو معیارِ حق نہ ماننے والے غیر پختہ ذہن کے لیے ایک لمحہ فکریہ مہیا کرتی ہے۔

چنانچہ اس عنوان کو پیشِ نظر رکھتے ہوئے یہاں پر سیّدنا ابوبکر صدیقؓ کے متعلق شیرِ خدا سیّدنا علیؓ کے خیالات پیش کیے جاتے ہیں جو ہمارے رستے کی تاریکیوں کو روشن کرتے ہیں غور کیجئے کہ اگر سیدنا علیؓ جیسے بابُ العلم اپنے سے اکابر صحابہؓ کی نہ صرف پیروی کرتے ہیں بلکہ اس پر فخر کرتے ہیں صرف فخر نہیں اس کی دعوت بھی دیتے ہیں، تو آج کل کے کورِ باطن بزعم خود مجتہد اکابر صحابہؓ کو معیارِ حق نہ مان کر کس طرح انصاف اور دیانت کا حق ادا کرسکتے ہیں؟

کیا سیّدنا عبدالرحمٰن بن عوفؓ نے بعد میں آنے والے حکمرانوں کے لیے سیرت شیخینؓ کی پابندی لازمی نہیں کی؟ کیا یہ انہیں معیارِ حق ماننا نہیں ہے؟

بعض حضرات کا خیال ہے کہ چونکہ خلافتِ اولیٰ کا انتخاب سیّدنا علیؓ کے حق میں نہ ہوا، اس لیے وہ سیدنا ابوبکر صدیقؓ سے ناراض رہے، اور چونکہ شیر خدا سے سیّدنا ابوبکر صدیقؓ نے خواہ مخواہ ناراضگی مول لی، اس لیے ان کی خلافت حق بجانب نہ تھی اور وہ (نعوذ باللہ) غاصب تھے، لیکن اگر ان بزرگوں کے باہمی معاملات پر غور کیا جائے تو بعد کے حالات اس حقیقت پر روشنی ڈالتے ہیں کہ ان اکابر میں اگر کبھی کوئی غلط فہمی بھی چل نکلی تو یہ شکر رنجی بھی جلدی دور ہو جاتی رہی اور جملہ صحابہؓ آپس میں پھر شیر و شکر ہو جاتے رہے۔

سیدنا علیؓ کے مندرجہ ذیل اقوال سے مندرجہ بالا حقیقت کی تصدیق ہوتی ہے کہ سیدنا صدیقؓ سیدنا علیؓ کی نگاہ میں اسی حیثیت کے حامل تھے جس کی ایک بلند پایہ صحابی رسولﷺ سے توقع کی جاسکتی ہے۔ 

چنانچہ:

 1) سیدنا علیؓ نے فرمایا کہ: اس امت میں آنحضرتﷺ کے بعد سیدنا ابوبکرؓ اور سیدنا عمرؓ سب سے بہتر ہیں۔

(امام احمدؒ نے اسے اپنی مسند میں روایت کیا ہے)

امام سیوطیؒ کا قول ہے کہ امام ذہبیؒ نے اس قول کو متواتر لکھا ہے اور حضرت شاہ ولی اللّٰه محدث دہلویؒ فرماتے ہیں کہ اتنے بزرگوں نے اس قول کو سیدنا علیؓ سے روایت کیا ہے۔ 

2) سیدنا علیؓ سے مروی ہے کہ: قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ ہم کسی نیکی کی طرف نہیں جھپٹے مگر یہ کہ سیدنا ابوبکرؓ اس میں ہم سے سبقت لے گئے۔

 (طبرانی)

3)سیدنا عمرؓ سے بھی یہی قول مروی ہے:

قال على رضى اللّٰه عنه خير الناس بعد رسول اللّٰه صلى اللّٰه عليه وسلم ابوبكر وعمر لا يجتمع حتى وبغض ابي بكر وعمر في قلب مومن: (البزار)

یعنی سیدنا علیؓ نے فرمایا کہ رسول اللہﷺ کے بعد سیدناابوبکرؓ و سیدنا عمرؓ سب آدمیوں سے بہتر ہیں، میری محبت اور سیدنا ابوبکرؓ و سیدنا عمرؓ کا بغض کسی مومن کے دل میں جمع نہیں ہوسکتا۔

4) ایک بار سیدنا علیؓ نے اپنے ہم نشینوں سے دریافت کیا کہ بتاؤ سب سے زیادہ بہادر کون ہے؟ سب نے کہا آپ فرمایا:میں تو جس سے لڑا میں نے اس سے حق کا بدلہ لے لیا، سب سے زیادہ شجاع آدمی کا نام لو، عرض کی ہم کو معلوم نہیں فرمایا: سیدنا ابوبکرؓ، غزوہ بدر کے معرکہ میں ہم نے رسول اللّٰہﷺ کے واسطے ایک سایہ دار نشست گاہ بنادی تھی، اس کے بعد پوچھا گیا کہ کون شخص یہاں پاسبانی پر رہے گا۔ جو کفار کو آپﷺ کے پاس نہ آنے دے ، یہ سن کر واللہ کوئی شخص آپﷺ کے قریب نہ آیا مگر سیدنا ابوبکرؓ، وہ تلوار کھینچ کر رسول اللہﷺ کے قریب کھڑے ہوگئے، جب کوئی مشرک رسول اللہﷺ کے قریب آتا، سیدنا ابوبکرؓ شمشیر بکف اس پر حملہ کرتے، لہٰذا وہ سب سے زیادہ شجاع ہیں۔

(دارقطنی فی الافراد،اصابہ)

5) ابو یحییٰ سے روایت ہے کہ میں شمار نہیں کرسکتا کہ میں نے کتنی مرتبہ سیدنا علیؓ کو منبر پر کہتے ہوئے سنا کہ اللہ نے اپنے نبیﷺ کی زبانی سیدنا ابوبکرؓ کا نام صدیق رکھا ہے۔

اس کی من وجہ تائید تفسیر قمی، میں بھی واقعہ غار کے ضمن میں موجود ہے۔ 

(تفسیر قمی صفحہ 157)

6)جب سیدنا علیؓ نے سیدنا ابوبکر صدیقؓ کی وفات کی خبر سنی تو اِنَّا لِلهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ ،  پڑھ کر یہ فرماتے ہوئے ان کے مکان پر تشریف لائے کہ الیوم انقطعت خلافة النبوة (آج خلافتِ نبوت کا خاتمہ ہوگیا)، پھر جہاں پر سیّدنا ابوبکر صدیقؓ کا جسدِ مطہر رکھا تھا وہاں دروازے پر کھڑے ہو کر معرفت و بلاغت کی اس قوت کے ساتھ جو سیدنا علیؓ کا حصہ تھی خطبہ ارشاد فرمایا جو سیدنا صدیقؓ کی باطنی و ظاہری خصوصیات اور ان کے فضائل پر ایک بہترین تبصرہ ہے، اور اس خطبہ سے وہ محبت و عزت ظاہر ہوتی ہے، جو سیدنا ابوبکر صدیقؓ کے لیے سیدنا علیؓ کے دل میں موجود تھی۔

صفحہ 1 از 4