صلح حدیبیہ، بیعت رضوان اور مقام سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ -…

صلح حدیبیہ، بیعت رضوان اور مقام سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ

  مولانا ابوبکر حنفی شیخوپوری

صفحہ 3 از 3
اسی مجلس میں عروہ نے صحابہ کرامؓ کا حضورﷺ سے ایسے عقیدت مندانہ تعلق کامشاہدہ کیا جس نے انھیں حد درجہ متاثر کیا،عروہ نے دیکھا کہ جب بھی آپﷺ کسی کام کا حکم دیتے ہیں تو ہر شخص کی خواہش ہوتی ہے کہ اس حکم کی تعمیل میرے حصے میں آئے،جب آپﷺ منہ سے تھوک یا بلغم نکالتے ہیں یا وضو کرتے ہوئے پانی استعمال کرتے ہیں تو اس کو زمین پر گرنے نہیں دیتے اور تبرک کے طور پر اپنے وجود پر مل لیتے ہیں،آپ کے وجود اقدس سے کوئی بال گر جائے تواس کو اٹھانے کے لیے لپکے چلے آتے ہیں۔ان تبرکات کے حصول کے لیے اس قدر کوشاں ہیں کہ باہمی نزاع پیدا ہونے کا ڈر محسوس ہونے لگتا ہے،مجلس میں جب آپﷺ بات کرتے ہیں تو سناٹا چھا جاتا ہے۔
صلح کی کوشش رنگ لے آئی
عروہ مجلس سے اٹھے اور واپس جا کر قریش کو کہا کہ مجھے قیصر ،کسری،نجاشی اور بہت سے سلاطین کے دربار میں جانے کا موقع ملا؛ لیکن کسی بادشاہ کے دربانوں کا اپنے بادشاہ سے ایسا بے لوث رشتہ اور پرخلوص تعلق نہیں دیکھا جیسا حضرت محمدﷺکے ساتھیوں کا آپ ﷺکے ساتھ دیکھا،وہ اپنے نبی کی حفاظت کے لیے کسی بھی حد تک جا سکتے ہیں؛ لہٰذا عافیت اسی میں ہے ان سے مصالحت کر لی جائے۔ آخرقریش یہ صورتحال دیکھ کر صلح پر آمادہ ہو گئے اور سہل بن عمرو کو صلح کے لیے بھیجا،شرائط صلح طے ہونے کے بعد آپﷺ نے حضرت علیؓ سے یہ تاریخی صلح نامہ تحریر کروایا۔
شرائط صلح
 مسلمانوں اور قریش کے درمیان درج ذیل باتوں پر اتفاق رائے ہوا:
  1. مسلمان اس سال بغیر عمرہ کے واپس چلے جائیں اور آئندہ سال آکر عمرہ ادا کریں؛ لیکن تین دن سے زیادہ قیام کی اجازت نہیں ہو گی اور کسی قسم کا اسلحہ ساتھ لانے کے مجاز بھی نہیں ہوں گے، سوائے تلواروں کے اور وہ بھی نیام کے اندر ہوں گی۔
  2. دس سال کے لیے جنگ بندی ہو گی، کوئی فریق دوسرے پر تلوار نہیں اٹھائے گا۔
  3. جو شخص مسلمانوں میں سے مدینہ سے مکہ آئے گااس کو واپس نہیں بھیجا جائے گا۔
  4. اگر قریش میں سے کوئی شخص مسلمان ہو کر مدینہ جائے گا تو مسلمان اس کو مکہ واپس بھیجنے کے پابند ہوں۔
  5. متحدہ قبائل کو اختیار ہو گا کہ جس کے معادہ اور صلح میں شریک ہونا چاہیں شریک ہو جائیں۔
حدیبیہ سے واپسی
صلح نامہ مکمل ہونے کے بعدنبی کریمﷺ نے مکہ واپسی کے لیے صحابہ کرامؓ کوجانور ذبح کرنے ،حلق کروانے اور احرام اتارنے کا حکم دیا تو ان کے لیے یہ کام کسی سنگ گراں کو ہٹانے کے مترادف تھا۔ بیت اللہ دیکھنے کی جستجو لے کرآنے والے ان عشاقان الٰہی پر بغیر عمرہ کے جانا اس قدر دشوار گذار مرحلہ تھا کہ نبی کریمﷺ نے تین بار جانوروں کو ذبح کرنے کا حکم دیا؛ لیکن ایک شخص بھی نہ اٹھا۔نبی کریمﷺ نے اپنی زوجہ حضرت ام سلمہؓ سے بطور شکایت اس کا ذکر کیا تو انھوں نے صحابہ کرامؓ کی طرف سے صفائی دیتے ہوئے کہا کہ وہ اس وقت سخت صدمے سے نڈھال ہیں،ان کی جانب سے یہ معاملہ طبعی اور فطری ہے ،اس کی وجہ سے آپ ان پر ناراض نہ ہوں ۔پھرآپﷺ کو اس قضیے کے حل کے لیے ایک تجویز پیش کی کہ آپ خود ان کے سامنے جانور ذبح کر کے سر منڈوائیں تو وہ بھی تعمیل حکم کے لیے تیار ہو جائیں گے؛چنانچہ نبی کریمﷺ نے ایسا ہی کیا تو سب صحابہ کرامؓ نے آپ کو دیکھ کر قربانی شروع کر دی ۔تقریباًدو ہفتے حدیبیہ میں قیام کے بعد نبی کریمﷺ واپس مدینہ روانہ ہوگئے۔
صلح حدیبیہ کے سیاسی اور مذہبی اثرات
صلح حدیبیہ کی اکثر شرائط مسلمانوں کے اجتماعی، مذہبی اور تبلیغی امور کے خلاف جاتی تھیں۔اس صلح نامے کا ایجنڈا بظاہر مسلمانوں کے مصالح اور مفاد عامہ کے بالکل برعکس تھا جس پر تمام صحابہ کرامؓ میں خاصی تشویش پائی جاتی تھی؛ بالخصوص وہ رقت آمیز منظر جب دیکھنے کو ملا کہ سہیل کے بیٹے ابوجندلؓ زنجیروں میں جکڑے ہوئے لائے گئے اور اس قدر گریہ زاری سے مدینہ جانے پر اصرار کیا کہ صحابہٴ کرامؓ کی ہچکیاں بندھ گئیں اور اس کا تحمل نہ کر سکے؛ لیکن معاہدہ کی وجہ سے نبی کریمﷺ نے انھیں تسلی دیتے ہوئے ساتھ لے جانے سے انکار کر دیا۔حضرت عمرؓسے ضبط نہ ہو سکا اور یہ کہہ بیٹھے ”یارسول اللہ!ہم یہ ذلت کیوں گوارا کریں؟“بعد میں حضرت عمرؓ اپنے ان الفاظ پر بہت شرمندہ ہوئے اور اس کے کفارے کے طور پر بہت سے غلام آزاد کیے۔
نبی کریم ﷺ کی اس سیاسی بصیرت کو اس وقت تو کوئی نہ سمجھ سکا؛ لیکن جنگ بندی کے باعث آنحضرتﷺ نے دعوت کا دائرہ وسیع کر دیا ،عوام سے نکل کرخواص تک اسلام کا پیغام پہنچایا، سلاطین کو دعوتی خطوط تحریر کیے ،صلح کی وجہ سے اپنا اسلام پوشیدہ رکھنے والوں کو بھی اظہار کا موقع ملا۔ نتیجہ یہ ہواکہ صلح حدیبیہ کے ٹھیک دوسال بعدآٹھ ہجری میں مکہ فتح ہوا،قبائل اسلام میں داخل ہوئے اور اسلام کو تمام ادیان عالم پر غلبہ نصیب ہوا،اس وقت صحابہٴ کرامؓ کو اس بات کا ادراک ہوا کہ نبیِ کریم ﷺ کس دوٗررس سوچ کے مالک ہیں اور آپﷺ کی نگاہ میں کیاسیاسی منظر نامہ تھا جس کی وجہ سے آپ ﷺ ان کڑی شرطوں کے باوجود صلح پر راضی ہوئے۔



صفحہ 3 از 3