صلح حدیبیہ، بیعت رضوان اور مقام سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ -…

صلح حدیبیہ، بیعت رضوان اور مقام سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ

  مولانا ابوبکر حنفی شیخوپوری

صفحہ 2 از 3
کہتے ہیں کہ محبت کی خوشبو ہزاروں میل کے فاصلے پر بھی محسوس ہوتی ہے۔محب اور محبوب کے درمیان ایک رمز ہوتی ہے جو زمانے کی رکاوٹوں کی عبور کرتی ہوئی دونوں کے دلوں کی تار ہلاتی ہے۔ایسا ہی کچھ منظر اس موقع پر سامنے آیا کہ جب قریش مکہ کی جانب سے حضرت عثمانؓ کو انفرادی طور پر عمرہ ادا کرنے کی اجازت دی گئی تو انھوں نے دوٹوک جواب دیا کہ ادھر میرے محبوب ﷺ حرم کے درودیوار دیکھنے کو ترستے رہیں اور ادھر میں آپﷺ کے بغیر اطمینان سے طواف کرتا پھروں، ایسا ممکن نہیں۔دوسری جانب حدیبیہ کے مقام پر بعض صحابہٴ کرامؓ نے کہہ دیا کہ حضرت عثمانؓ تو مزے سے طواف کر رہے ہوں گے اور ہم ادھر بیت اللہ کی ایک جھلک دیکھنے کو بیتاب ہیں تو نبی کریم ﷺ نے حضرت عثمانؓ پر بے پناہ اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے فرمایا کہ ”عثمانؓ ہرگز میرے بغیر طواف نہیں کر سکتا“۔محبت کی اسی کیفیت کو بیان کرتے ہوئے شاعر نے یوں کہا ۔
دونوں جانب سے اشارے ہو گئے
تم ہمارے ،ہم تمہارے ہو گئے
بہرحال حضرت عثمانؓ نبی کریمﷺ کے بغیر طواف کرنے پر قطعاً آمادہ نہ ہوئے اور قریش نے حضرت عثمانؓ کو روک لیا،ادھر حدیبیہ میں یہ خبر مشہور ہو گئی کہ حضرت عثمانؓ کو شہید کر دیا گیا ہے۔
بیعت رضوان
حضرت عثمانؓ کی شہادت کی خبر مسلمانوں پر آسمانی بجلی بن کر گری،نبی کریمﷺ صدمے سے نڈھال تھے،آپ ﷺنے طبل جنگ بجاتے ہوئے ارشاد فرمایا ”ہم عثمانؓ کا بدلہ لیے بغیر یہاں سے نہیں جائیں گے“۔اس وقت آپﷺ کیکر کے درخت کے سائے میں تشریف فرما تھے،آپ ﷺ نے اپنے ساتھ موجود چودہ سو صحابہ کرامؓ سے قصاص عثمانؓ پر بیعت لی،سب سے پہلے بیعت کرنے والے صحابی حضرت ابو سنانؓ تھے۔اس خبر سے صحابہ کرامؓ اس قدر غم وغصے کی کیفیت میں تھے کہ بعض نے کئی بار بیعت کر کے حرمت عثمانؓ کے لیے جان قربان کرنے کا عزم مصمم ظاہر کیا ؛چنانچہ حضرت سلمہ بن اکوعؓ نے تین مرتبہ بیعت کی۔شروع،درمیان اور آخر میں۔جب سب صحابہ کرامؓ بیعت کر چکے تو آپﷺ نے اپنے بائیں ہاتھ کو دائیں ہاتھ پر رکھا اور ارشاد فرمایا ”یہ بیعت عثمانؓ کی جانب سے ہے“۔یہ حضرت عثمانؓ کے لیے بڑے اعزاز کی بات تھی؛چنانچہ آپؓ اپنی مجالس میں اس بات کا تحدیث بالنعمة کے طور پرذکر فرماتے اور ارشاد فرماتے”میری جانب سے رسول اللہﷺ کا بایاں ہاتھ میرے دائیں ہاتھ سے کہیں بہتر تھا“۔بیعت کا یہ عمل اور اپنے ایک ساتھی کے ساتھ اس قدرجانثارانہ تعلق حق جلّ مجدُہ کو اس قدر پسند آیاکہ خود اس میں مداخلت کرتے ہوئے ارشاد فرمایا ”اللہ کا ہاتھ ان کے ہاتھ کے اوپر ہے “(الفتح)۔اس بیعت کو اہل سیر کی اصطلاح میں ”بیعت رضوان“ کہا جاتا ہے۔بیعت کرنے والے ان تمام صحابہ کرامؓ سے اللہ تعالی نے اپنے ابدی و ازلی کلام میں رضا مندی کا اعلان کیا؛چنانچہ ارشاد فرمایا”بلاشبہ اللہ تعالی ایمان والوں سے راضی ہو گیا جب وہ آپ کے ہاتھ پر درخت کے نیچے بیعت کر رہے تھے،جو(اخلاص) ان کے دلوں میں تھااللہ کو خوب معلوم تھا،پھر اللہ نے ان پر طمانیت کو اتارا“۔(الفتح)
مصالحت کی ابتدائی کاوش
تحقیق حال کے بعد جب معلوم ہوا کہ حضرت عثمانؓ کی شہادت کی خبر محض افواہ تھی اور حضرت عثمانؓ بخیروعافیت ہیں تو مسلمانوں میں خوشی کی لہر دوڑ گئی۔دوسری طرف مسلمانوں کی بیعت سے متعلق سن کر اہل مکہ مرعوب ہو گئے اوران کے ایمانی جذبے کو دیکھ کر صلح کی طرف مائل ہوئے۔ صلح کا قصہ یہ ہوا کہ قبیلہ بنوخزاعہ جو اس وقت تک مسلمان نہیں ہوا تھا؛ لیکن روز اول سے مسلمانوں کا حلیف اورخیرخواہ تھا اوراس کا سردار بدیل بن ورقاء جو انتہائی معتدل آدمی تھا،نے آپﷺ کو آکر اطلاع دی کہ قریش نے مکہ میں آپ کو داخل ہونے سے روکنے کے لیے حدیبیہ کے اطراف میں پانی کے چشموں پر بہت بڑا لشکر جمع کیا ہے اور ان کا یہاں پر طویل قیام کا ارادہ ہے۔نبی کریم ﷺ نے یہ سن کر ارشاد فرمایا ” ہم یہاں کسی سے لڑنے نہیں آئے ہیں؛ البتہ اگر قریش کی خواہش ہو تومیں ان سے صلح کی ایک مدت مقرر کر لیتا ہوں،اگر وہ اس پر آمادہ نہ ہوئے تو میں ہر حال میں ان سے لڑائی کروں گا“۔بدیل نے آکر قریش کو نبی کریمﷺ کے عزائم سے مطلع کیا اور صلح کی اس پیشکش کو سراہتے ہوئے انھیں اس پر آمادہ کرنا چاہا؛ لیکن انھوں نے بدیل کی بات کو زیادہ اہمیت نہ دی۔حضرت عروہ بن مسعودثقفیؓ (جو اس وقت مسلمان نہیں ہوئے تھے)نے بھی بدیل کی بات کی تائید کرتے ہوئے قریش کو صلح کے لیے تیار کرنے کی کوشش کی اور ان سے محبت بھرے لہجے میں کہا ”اگر تم مجھے اپنے باپ کے درجے میں مانتے ہو تو مجھے نبی کریمﷺ سے بات کرنے کی اجازت دے دو“۔عروہ کی طرف سے شدید اصرار اور اس قدرمنت ولجاجت دیکھ کر قریش نے بات چیت کی اجازت دے دی ۔
صحابہ کرامؓ کی غیرت ایمانی کی ایک جھلک
عُروہ بارگاہ رسالت میں حاضر ہوئے اور بات چیت شروع کی ،اثنائے گفتگو میں انھوں نے کہہ دیا کہ اگرلڑائی کی صورت میں قریش تم پر غالب آگئے توجتنے لوگ آپ کے ساتھ ہیں سب آپ کو چھوڑ کر بھاگ جائیں گے۔حضرت ابوبکر صدیقؓ جو آنحضرت ﷺکے پیچھے بیٹھے تھے یہ سن کر غیرت ایمانی سے طیش میں آگئے اور عروہ سے مخاطب ہوکر فرمانے لگے”کیا ہم آپﷺ کو چھوڑ کر بھاگ جائیں گے؟“۔مطلب یہ تھا کہ زندگی کی آخری سانس تک حضورﷺ کا ساتھ دیں گے۔گفتگو کے دوران عروہ بار بار آپﷺ کی داڑھی کو پکڑتے ،عروہ کے بھتیجے حضرت مغیرہ بن شعبہؓ اس مجلس میں موجود تھے ،چچا کایہ غیر مہذب رویہ ان سے دیکھا نہ گیا اور حضورﷺ کی محبت میں اس رشتہ داری کا لحاظ کیے بغیر عروہ سے کہنے لگے کہ ”اپنا ہاتھ رسول اللہﷺ کی داڑھی سے ہٹاوٴ ،ایک مشرک کو یہ زیب نہیں دیتا کہ وہ آپﷺ کی داڑھی کو ہاتھ لگائے“
صحابہ کرامؓ کا آنحضرت سے عقیدت مندانہ تعلق
صفحہ 2 از 3