صلح حدیبیہ، بیعت رضوان اور مقام سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ -…

صلح حدیبیہ، بیعت رضوان اور مقام سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ

  مولانا ابوبکر حنفی شیخوپوری

صفحہ 1 از 3

صلح حدیبیہ، بیعت رضوان اور مقام سیدنا عثمانؓ

صلح حدیبیہ سیرت النبی کا ایک درخشندہ باب ہے،اس کا شمار اسلام کے ان تاریخی معاہدات میں ہوتا ہے جنھوں نے اسلام کی تعمیرو ترقی اوراشاعت و فروغ میں خشت اول کا کردار ادا کیا ۔اس معاہدے کے تناظر میں آنحضرت ﷺ کی قائدانہ صلاحیت ،مدبرانہ حکمت ،شعوری سیاست اور امور سلطنت میں بالغ نظری کھل کرانسانیت کے سامنے آئی جس نے تمام سلاطین عالم کو ورطہ حیرت میں ڈال دیا اور وہ آنحضرت ﷺکے ایک کامیاب سیاسی لیڈر ہونے کا اعتراف و اقرار کیے بغیر نہ رہ سکے۔ عصر سابق اور عصر حاضر کے بہت سے غیر مسلم مفکرین کا یہ خیال ہے اگر اس موقع پر مشرکین مکہ کی جانب سے مسلمانوں کا راستہ صاف کر دیا جاتا،وہ اپنے پلان کے مطابق عمرہ کی ادائیگی کر کے مدینہ واپس چلے جاتے اور اس تاریخی مصالحت کی نوبت نہ آتی تو آج تاریخ مذاہب میں جو اسلام کو کلیدی حیثیت حاصل ہے وہ کبھی نہ ہوتی۔آئیے!سیرت نبویﷺکی روشنی میں اس واقعہ کے خدوخال، پس منظر،پیش منظر اور حالات و واقعات کا بنظر غائرجائزہ لیتے ہیں ۔
پس منظر
مسلمانوں کو مکہ جیسا مقدس شہر چھوڑے ہوئے چھ سال کا عرصہ گذر چکا تھا،مدینہ رہتے ہوئے بھی ان کے دل و دماغ میں بیت اللہ بستا تھا ،حرم کی پرنورفضاوٴں میں گزرے ہوئے لمحات کے دوران ”لبیک اللہم لبیک“ کی لگائی ہوئی روح پرور صدائیں ہر وقت ان پر عشق الٰہی کا سحر طاری کیے رکھتی تھیں۔ان پرانی یادوں کو تازہ کرنے اور کعبة اللہ کے شرف زیارت سے مشرف ہونے کا شوق ہر آن اُن کے قلوب میں مچلتا تھا۔دوسری طرف مکہ کے حالات اور مشرکین کا اسلام کو پھلتے پھولتے دیکھ کر مسلمانوں پر شدید غم و غصہ اس راہِ شوق میں سب سے بڑی رکاوٹ تھا۔علیم و خبیر ذات کی طرف سے غیبی نظام حرکت میں آیا اوراس نے مایوسیوں کے ان گھٹا ٹوپ اندھیروں میں امید کی کرن کو نمودار کر کے اس مبارک سفر کے لیے ایک سبب پیدا فرمادیا،ہوا یہ کہ آنحضرتﷺ نے خواب دیکھا کہ آپ ﷺ صحابہ کرامؓ کے ہمراہ امن کے ساتھ مکہ میں داخل ہوئے اورعمرہ کیاپھر بعض صحابہؓ نے سر کا حلق کروایا اور بعض نے سر منڈوایا۔نبی کا خواب چونکہ وحی کے درجے میں ہوتا ہے اس لیے یہ خواب گویا اللہ کی طرف سے حکم تھا کہ آپﷺ اپنے ساتھیوں کو لے کر مکہ جا ئیں اورعمرہ کی ادائیگی کریں۔یہ خواب سنتے ہی صحابہٴ کرامؓ کے دلوں میں محبت الٰہیہ کی چنگاری بھڑک اٹھی اور وہ خانہ خدا کی زیارت کے لیے بھرپور تیاری میں مصروف ہو گئے۔نبی کریم ﷺیکم ذی القعدہ ،۶ ہجری بروز پیر چودہ سو افراد کے قافلہ کے ساتھ مکہ کے لیے روانہ ہوئے،چونکہ اس سفر کا مقصد خالصةً عمرہ ادا کرنا تھا اور جنگ کاکوئی ارادہ نہیں تھا؛اس لیے ضروری ہتھیاروں کے علاوہ کوئی سامان جنگ ساتھ نہ لائے۔قربانی کے جانور بھی ساتھ تھے۔ذوالحلیفہ پہنچ کر عمرہ کا احرام باندھا اور جانوروں کے گلے میں قلادہ(نشانی)ڈالا۔
مقام حدیبیہ میں پڑاؤ 
مکہ معظمہ سے نو میل کے فاصلے پر ایک کنواں ہے جس کا نام حدیبیہ ہے ،اسی کنویں کے نام سے وہ گاوٴں منسوب ہے۔حضرت خالد بن ولیدؓ جو اس وقت تک مشرف باسلام نہیں ہوئے تھے، مسلمانوں کی آمد کا سن کر دوسو آدمیوں کی جماعت کے ساتھ روانہ ہوئے اور حدیبیہ کے مقام پر آپ ﷺ کے قافلے کو روک لیا۔معروضی صورتحال کے پیش نظر نبی کریمﷺ نے حضرت خراش بن امیہ خزاعیؓ کو ایک اونٹ پر سوار کر کے بطور قاصد اہل مکہ کی طرف یہ کہلا کر بھیجا کہ ہمارے اس سفر کا مقصد صرف بیت اللہ کی زیارت اور عمرہ کی ادائیگی ہے،ہم آپ سے نہ جنگ کرنے آئے ہیں اور نہ ہی کوئی اسلحہ ساتھ لائے ہیں،لہٰذا ہمارے لیے حرم کے دروازے کھول دیں اور ہم سے کوئی مزاحمت نہ کریں۔ اہل مکہ نے تمام تر سفارتی آداب کو بالائے طاق رکھتے ہوئے قاصد کے اونٹ کو قتل کر دیا اور پھر ان کے قتل کے در پے ہو گئے،حضرت خراشؓ ان سے بچ بچاو کر کے نکل آئے اور واپس آکر نبی کریمﷺ کو ساری صورتحال سے مطلع کیا۔مشرکین کی جانب سے مسلمانوں کے ساتھ اس شدید مزاحمتی رویے سے آپ ﷺ سمجھ گئے کہ اب ان کے ساتھ ٹھوس انداز میں بات کرنے اور ان کو پوری طرح قائل کرنے کے سوا کوئی چارہ نہیں ہے؛چنانچہ آپ ﷺ نے حضرت عمرؓ کو بطورسفیر اہل مکہ سے بات چیت کرنے اور امن وامان کی ضمانت دینے کے لیے جانے کو کہا۔حضرت عمرؓ نے یہ کہہ کر جانے سے معذرت کر لی کہ یہ مصالحت کا موقع ہے؛ جب کہ میرا تندو تیز مزاج احتیاط کے باوجود مزاحمت کی صورتحال پیدا کر سکتا ہے۔حضرت عمرؓ کی جانب سے یہ انکارمعاذ اللہ حکم نبوی کی نافرمانی کے زمرے میں نہیں آتا؛ بلکہ یہ منشاء نبوت کی تکمیل کے لیے تھا کہ کہیں اس موقع پر میرے منہ سے انجانے میں نکلا ہوا لفظ مصالحت کے عمل کو متاثر نہ کر دے جس سے نبی کریمﷺ کو تکلیف پہنچے۔
حضرت عثمانؓ کی بطور قاصد مکہ روانگی
اس کے بعد آپﷺ نے حضرت عثمانؓ کوقریش مکہ سے گفتگو کے لیے روانہ کیا اور ساتھ ہی مکہ میں موجود ضعفاء مسلمین جوہجرت نہیں کر سکے تھے اور مکہ میں مسلسل مشرکین کے مظالم کا شکار تھے کے نام پیغام بھیجا کہ وہ حوصلہ رکھیں اور پر امید رہیں کہ اللہ تعالیٰ عنقریب فتح نصیب فرمائے گا اور اپنے دین کو غالب فرمائے گا۔ حضرت عثمانؓ اپنے ایک عزیز ابان بن سعیدؓ کی پناہ میں مکہ داخل ہوئے اور سرداران قریش سے بات چیت کی۔انھوں نے عمرہ کی اجازت دینے سے صاف انکار کردیا؛ البتہ حضرت عثمانؓ کی شرافت کی وجہ سے انھیں تنہا طواف کرنے کی اجازت دے دی۔
یہ رمز ہیں کچھ عاشق و معشوق کے مابین
صفحہ 1 از 3