خیر البشر بعد الانبیاء بالتحقیق سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ…

خیر البشر بعد الانبیاء بالتحقیق سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ احادیث کی روشنی میں

  عبدالرحمٰن فاروقیؒ

صفحہ 3 از 3
مسلمان ہونے سے پہلے آپ رئیس قریش تھے اور دولتمند تاجر ریاست اور دولت کے ساتھ حسنِ اخلاق ہمدردی وُسعت معلومات دانشمندی اور معاملہ فہمی میں صاحبِ اِمتیاز تھے انہی صفات کے اثر سے قوم میں محبوب و معتمد تھے آپ زمانہ جاہلیت میں بھی ایک سلیم الطبع غمخوار دانشمند اور زندہ دِل انسان تھے جس انسان میں یہ صفات ہوں وہ بہترین ہمدم و رفیق بن سکتا ہے۔
شرفِ اسلام کے بعد سیدنا ابوبکرؓ کی زندگی اطاعت و استقامت کا مُرقع ہے غزوہ تبوک کے موقع پر جو کچھ گھر میں تھا وہ سب لا کر حاضر کر دیا۔ 
 مشرف بہ اسلام ہونے کے بعد آنحضرتﷺ کی رحلت تک پروانہ وار شمع رسالت پر قربان و نثار تھے تمام غزوات میں شمشیر بکف ہمرکاب رہے بدر میں جو شانِ شجاعت دکھائی اُس نے سیدنا علیؓ کی زبان مبارک سے آپؓ کو "اشجع النّاس" کا خطاب دلوایا۔

سیدنا ابوبکرؓ کے درجاتِ عالیہ

مسند اِمام احمد بن حنبلؒ ترمذی شریف اور مسند ابنِ حبان میں سیدنا ابو سعید خدریؓ سے روایت ہے کہ آنحضرتﷺ نے ارشاد فرمایا:
"ان اهل الدرجات العلىٰ ليرٰهم هو اسفل منهم كما ترون الكوكب الدرى فى افق السماء وان ابابكرؓ و عمرؓ ومنهم وانعما"
(مشكوٰة صفحہ 559)
 یقین جانو کہ درجاتِ عالیہ میں جو لوگ ہونگے اُن کے نیچے کے درجہ والے اسی طرح دیکھیں گے جیسا کہ تم ایک روشن ستارہ کو آسمان کے کنارے دیکھتے ہو اور یقیناً سیدنا ابوبکرؓ و سیدناعمرؓ اُنہیں میں سے ہیں اور سب سے بہتر ہیں۔

سیدنا صدیقِ اکبرؓ اور سیدنا فاروقِ اعظمؓ کے اجتماعی صفات

  1.  سیدنا ابو سعید خدریؓ کہتے ہیں رسُول پاکﷺ نے ارشاد فرمایا کہ اہلِ جنت علیّين والوں کو اس طرح دیکھیں گے جِس طرح تم لوگ چمکدار ستاروں کو آسمان کے کناروں پر دیکھتے ہو اور سیدنا ابوبکرؓ و سیدنا عمرؓ یقیناً علیّين والوں میں سے ہونگے بلکہ تمام علیّين والوں میں سے مرتبہ میں بڑھ کر ہونگے۔
  2.  سیدنا ابنِ عمرؓ کہتے ہیں ایک روز رسُول پاکﷺ سیدنا ابوبکرؓ و سیدنا عمرؓ کے ہاتھ اپنے دستِ مبارک میں لیے کاشانۂ نبوّت سے برآمد ہوئے اور مسجد میں تشریف لائے اُس وقت ایک صاحب حُضورﷺ کے دائیں طرف اور دوسرے بائیں طرف سرکار عالیﷺ نے فرمایا اسی طرح قیامت کے دن ہم قبروں سے اٹھائے جائیں گے۔
  3.   سیدنا عبداللہ ابنِ اخطبؓ کہتے ہیں حضور ﷺ نے سیدنا ابوبکرؓ و سیدنا عمرؓ کو دیکھ کر فرمایا یہ میرے گوش و چشم ہیں۔
  4.   ام المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہؓ فرماتی ہیں ایک بار چاندنی رات تھی اور حضورﷺ کا سر مُبارک میری گود میں تھا میں نے عرض کیا یارسول اللہﷺ کیا کسی کی نیکیاں آسمان کے ستاروں کے برابر ہیں؟ فرمایا ہاں سیدنا عمرؓ کی میں نے عرض کیا سیدنا ابوبکرؓ کی نیکیوں کی کیا کیفیت ہے؟ فرمایا سیدنا عمرؓ کی تمام نیکیاں سیدنا ابوبکرؓ کی ایک (رات کی) نیکی کے برابر ہے۔

صفحہ 3 از 3