خیر البشر بعد الانبیاء بالتحقیق سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ…

خیر البشر بعد الانبیاء بالتحقیق سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ احادیث کی روشنی میں

  عبدالرحمٰن فاروقیؒ

صفحہ 2 از 3
  1.  سیدنا ابوسعید خدریؓ کہتے ہیں حضور پاکﷺ نے ارشاد فرمایا سب سے زیادہ احسان مجھ پر سیدنا ابوبکرؓ کی خدمت اور مال کا ہے اگر میں اپنے رب کے علاوہ کسی کو جانی دوست بناتا تو سیدنا ابوبکرؓ کو بناتا۔
  2. سیدنا عبداللہ بن مسعودؓ سے مروی ہے حضورﷺ نے ارشاد فرمایا اگر میں کسی کو خاص دلی دوست بناتا تو سیدنا ابوبکرؓ کو بناتا مگر سیدنا ابوبکرؓ میرا بھائی اور ساتھی ہے اور خدا تعالیٰ نے تمہارے ساتھی (یعنی میری ذات) کو خاص دوست بنالیا ہے۔
  3. سیدہ عائشہ صدیقہؓ فرماتی ہیں مرض کی حالت میں مجھ سے رسولِ گرامیﷺ نے فرمایا اپنے بھائی کو اور اپنے والد یعنی سیدنا ابوبکرؓ کو بلاؤ تاکہ میں ایک تحریر لکھ دوں کیونکہ مجھے اندیشہ ہے کہیں کوئی خلافت کی آرزو کرنے والا آرزو نہ کرنے لگے اور کہیں کوئی کہنے والا چہ میگوئیاں نہ کرنے لگے (مگر خیر رہنے دو) خدا تعالیٰ اور مسلمان سوائے سیدنا ابوبکرؓ کے کسی کی خلافت کو نہ مانیں گے۔
  4.  سیدنا جبیر ابنِ مطعمؓ کہتے ہیں ایک عورت نے خدمتِ گرامیﷺ میں حاضر ہو کر کسی معاملہ کے متعلق کچھ گفتگو کی رسولِ اقدسﷺ نے اسکو حکم دیا کہ پھر دوبارہ میرے پاس آنا اُس نے عرض کیا یا رسول اللّٰہﷺ آگر میں پھر آؤں اور آپ نہ ملیں تو کیا کروں فرمایا اگر میں نہ ملوں تو سیدنا ابوبکرؓ کے پاس چلی جانا (نہ ملنے سے مراد اُس عورت کی حضور ﷺ کی وفات تھی)۔
  5.  سیدنا عمرو بن عاصؓ کہتے ہیں ذات السلاسل والے لشکر کا سپہ سالار مجھے حضورﷺ نے مقرر فرمایا۔میں(رخصت ہونے کے لئے) خدمتِ گرامی میں حاضر ہوا اور عرض کیا سب سے زیادہ محبوب آپ کے نزدیک کون شخص ہے؟ فرمایا سیدہ عائشہ صدیقہؓ میں نے عرض کیا مردوں میں سے فرمایا سیدہ عائشہؓ کا باپ میں نے عرض کیا اُن کے بعد فرمایا سیدنا عمرؓ پھر حضورﷺ نے (استفسار کے جواب میں) چند آدمیوں کو شمار کیا بالآخر میں خود ہی اِس اندیشہ سے چُپ ہوگیا کہ کہیں مجھ کو سب سے آخر میں نہ کردیں۔  
  6.  سیدنا عمرؓ نے فرمایا تھا کہ سیدنا ابوبکرؓ ہمارے سردار ہیں ہم سب سے افضل اور ہم سب سے ذیادہ رسُول اللّٰہ کو پیارے ہیں۔
  7.  سیدنا ابنِ عمرؓ کہتے ہیں حضور اقدسﷺ نے سیدنا ابوبکرؓ سے فرمایا تھا تم غار میں بھی میرے ساتھی تھے اور حوض پر بھی میرے ساتھی ہوگے۔
  8.  سیدہ عائشہ صدیقہؓ فرماتی ہیں حضورﷺ نے ارشاد فرمایا جس قوم میں سیدنا ابوبکرؓ موجود ہوں اُن کی امامت سیدنا ابوبکرؓ کے علاوہ کسی اور کو نہ کرنی چاہئے۔  
  9.  سیدنا عمرؓ کہتے ہیں ایک بار رسُول پاکﷺ نے ہم کو صدقہ دینے کا حُکم دیا اتفاق سے اُس حُکم کے وقت میرے پاس مال موجود تھا میں نے کہا اگر میں سیدنا ابوبکرؓ سے سبقت لیے جاسکا تو آج سبقت لے جاؤنگا چناچہ میں نِصف مال لےکر خدمتِ عالی میں حاضر ہوا رسُول پاکﷺ نے فرمایا کہ گھر والوں کے لئے کیا چھوڑا ؟ میں نے عرض کیا اتنا ہی اور سیدنا ابوبکرؓ اپنا کُل مال لےکر آئے تھے حضورﷺ نے اُن سے فرمایا سیدنا ابوبکرؓ تم نے اپنے گھر والوں کے لئے کیا چھوڑا؟ سیدنا ابوبکرؓ نے عرض کیا خُدا اور خُدا کا رسُول میں نے یہ سُن کر دِل میں کہا کہ اب میں کبھی سیدنا ابوبکرؓ سے آگے نہیں بڑھ سکتا۔
  10.  سیدہ عائشہ صدیقہؓ فرماتی ہیں ایک روز سیدنا ابوبکرؓ حضورﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے سرکارِ دو عالمﷺ نے فرمایا تم دوزخ سے خُدا کے آزاد کردہ ہو اُسی روز سیدنا ابوبکرؓ کا نام عتیق ہوگیا (عتیق اُسے کہتے ہیں جو رہائی پاچُکا ہو)۔
  11.  سیدنا ابنِ عمرؓ فرماتے ہیں رسُول پاکﷺ نے فرمایا سب سے پہلے میں قبر سے اُٹھایا جاؤں گا پھر سیدنا ابوبکرؓ پھر سیدنا عمرؓ پھر میں بقیع کے مدفونوں کی طرف جاؤں گا اور اُنکو اُٹھا کر میرے ساتھ کردیا جائےگا (وہاں سیدنا عثمانؓ مدفون ہیں)
  12.  سیدنا ابوہریرہؓ کہتے ہیں ایک بار رسُول پاکﷺ نے فرمایا میرے پاس جبرئیلؑ آئے تھے میرا ہاتھ پکڑ کر اُنہوں نے مجھے جنت کا وہ دروازہ دکھلایا جس سے میری اُمت جنت میں داخل ہوگی یہ سُن کر سیدنا ابوبکرؓ نے عرض کیا یا رسول اللّٰہﷺ میرا دِل چاہتا ہے کہ میں بھی آپﷺ کے ساتھ ہوتا تو میں بھی دیکھ سکتا فرمایا سیدنا ابوبکرؓ تم تو سب سے پہلے جنت میں داخل ہوگے۔
  13.  سیدنا عمرؓ کے سامنے سیدنا ابوبکر صدیقؓ کا ذِکر آیا آپ رونے لگے اور فرمایا میں اِس بات کو دِل سے پسند کرتا ہوں کہ میرے کُل اعمال سیدنا ابوبکرؓ کے ایک شبانہ روز کے اعمال کے برابر ہو جائیں رات سے مُراد میری وہ رات ہے جس میں سیدنا ابوبکرؓ حضورﷺ کے ہمرکابِ غارِ ثور کی طرف چلے تھے جب غار پر پہنچے تو سیدنا ابوبکرؓ نے عرض کیا خدا کی قسم آپ اندر نہ جائیں میں جاتا ہوں اگر اندر کچھ ہوگا تو آپﷺ بچ جائیں گے اور کچھ گزند ہونا ہے مجھے ہو جائے گا یہ کہہ کر اندر داخل ہوئے غار کو صاف کیا ایک طرف چند سوراخ نظر آئے اُن کو اپنا تہبند پھاڑ کر بند کیا پھر بھی دو سوراخ رہ گئے تو دونوں پاؤں سے انکے دہانے بند کر دیئے پھر رسُول پاکﷺ سے کہا کہ اب اندر تشریف لے آئیے حضّورﷺ اندر تشریف لے گئے اور سیدنا ابوبکر صدیقؓ کی گود میں سر مبارک رکھ کر سو گئے کہ سیدنا ابوبکرؓ کے پاؤں میں سوراخ کے اندر سے سانپ نے کاٹ لیا مگر حضّورﷺ کی بیداری کے خوف سے سیدنا ابوبکر صدیقؓ نے حرکت نہ کی جب آنسو رسول پاکﷺ کے چہرے پر ٹپکے آپﷺ نے بیدار ہو کر فرمایا سیدنا ابوبکرؓ کیا بات ہے؟ سیدنا ابوبکر صدیقؓ نے عرض کیا حضورﷺ پر میرے ماں باپ قربان ہوں مجھے سانپ نے کاٹ لیا ہے حضورﷺ نے اپنا لعابِ دہن لگا دیا سیدنا ابوبکرؓ کی تکلیف جاری رہی مدت کے بعد پھر اسی کا دورہ پڑا اور یہی اُنکی وفات کا سبب ہوا۔
اور دن سے مُراد میری وہ دن ہے کہ جس دن آنحضرتﷺ کی وفات ہوئی تو اہلِ عرب مرتد ہوگئے اور کہنے لگے ہم زکوٰۃ نہیں دینگے سیدنا ابوبکر صدیقؓ نے فرمایا کہ اگر اونٹ کا ایک زانو بند بھی یہ لوگ مجھے نہ دیں گے تو میں ان سے جہاد کروں گا میں نے کہا اے رسول اللہﷺ کے خلیفہ لوگوں سے نرمی اور اُلفت سے پیش آئیے فرمایا جاہلیت میں تو تُو بڑا سخت اور غصّہ ور تھا اب کیا اسلام میں بُزدل اور نامرد بنتا ہے؟ بات یہ ہے کہ وحی کا سلسلہ تو منقطع ہو گیا اب دين کامل ہو چکا اب کیا میری زندگی میں دین میں نقصان آ سکتا ہے؟
صفحہ 2 از 3