سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی نظر…

سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی نظر میں

  حضرت مولانا عبدالستار صاحب تونسوی نائب صدر شعبہ تبلیغ تنظیمِ اہلِ سنت پاکستان

صفحہ 2 از 2

 سیدنا علی المرتضیٰؓ سیدنا صدیقِ اکبرؓ کے ہاتھ پر بیعت کرنے میں کیوں تامل و تردد فرماتے اور ان کی خلافت کی تائید و تصدیق کیوں نہ فرماتے جبکہ اپنی افضل ترین عبادت نماز بھی ان کے پیچھے ادا کرتے تھے جیسا کہ شیعہ کی معتبر کتاب "مرأة العقول شرح الاصول والفروع" کے صفحہ 388 پر سیدنا علیؓ کے متعلق مرقوم ہے۔

حضر المسجد وصلی خلف ابی بکرؓ۔

سیدنا علیؓ مسجد میں حاضر ہوئے اور سیدنا ابوبکرؓ کے پیچھے نماز پڑھی۔

اور احتجاج طبرسی صفحہ 60 سطر دوسری پر ہے:

ثم قام وتھیأ للصلوة وحضر المسجد وصلی خلف ابی بکرؓ۔

پھر سیدنا علیؓ اٹھے اور نماز کی تیاری کر کے مسجد میں حاضر ہوئے اور سیدنا ابوبکرؓ کے پیچھے نماز پڑھی۔

بعینہ اسی مضمون کی روایت ضمیمہ مقبول ترجمہ صفحہ 415 میں ہے،اور"غزوات حیدری صفحہ 627 میں بھی منقول ہے۔

مخفی نہ رہے کہ سیدنا صدیقِ اکبرؓ کو خود جناب امام الانبیاء محمد مصطفیٰﷺ نے اپنی خلافت و نیابت یعنی امامت نماز کا شرف بخشا تھا جیساکہ شیعہ حضرات کی معتبر کتاب "شرح نہج البلاغہ درہ نجفیہ" کے صفحہ 225 پر مرقوم ہے

کان منہ خفة مرضه یصلی بالناس بنفسه فلما اشتد به المرض امر ابابکرؓ ان یصلی بالناس وان ابابکرؓ صلی بالناس بعد ذلک یومین۔

جناب رسول اللہﷺ اس وقت تک خود لوگوں کو نماز پڑھاتے رہے جب تک مرض خفیف رہا پھر جب مرض سخت ہوگیا تو سیدنا ابوبکر صدیقؓ کو حکم دیا کہ لوگوں کو نماز پڑھاتے رہیں اس کے بعد سیدنا ابوبکرؓ دو دن تک جناب رسول اللہﷺ کی زندگی میں تمام لوگوں کو نماز پڑھاتے رہے پھر حضورﷺ کی وفات ہوگئی۔

اور سیدنا ابوبکر صدیقؓ کی جو شان سیدنا علی المرتضیٰؓ نے بیان کی ہے وہ بھی قابلِ غور ہے شیعہ حضرات کی معتبر کتاب شرح نہج البلاغہ ابنِ میثم بحرانی جزو 31 صفحہ 486 پر سیدنا علی المرتضیٰؓ کا ایک نوازش نامہ منقول ہے جس میں سیدنا علی المرتضیٰؓ لکھتے ہیں۔

کان افضلہم فی الاسلام کما زعمت وانصحھم للہ ولرسوله الخلیفة الصدیقؓ وخلیفة الخلیفة الفاروقؓ ولعمری ان مکانھما فی الاسلام لعظیم وان المصاب بھما لجرح فی السلام شدید یرحمھما اللہ و جزاھما باحسن ما عملا۔

 خلیفہ رسول سیدنا صدیقِ اکبرؓ اسلام میں سب سے افضل اور اللہ اور اس کے رسولﷺ کے لیے سب سے زیادہ مخلص و خیر خواہ تھے اور اس خلیفہ کے خلیفہ سیدنا فاروقؓ بھی اسی طرح تھے جیسے کہ تو نے سمجھا میری عمر (زندگی) اس بات کی گواہ ہے کہ ان دونوں حضرات کا مرتبہ اسلام میں بڑا عظیم الشان ہے اور بیشک ان کی موت سے اسلام کو سخت صدمہ اور زخم پہنچا اللہ تعالیٰ ان دونوں پر رحم کرتا رہے اوران کے احسن و بہترین اعمال کی ان کو جزا دے۔

 سبحان اللہ! سیدنا علی المرتضیؓ نے کس طرح سیدنا ابوبکر صدیقؓ کو الخلیفة الصدیق یعنی خلیفہ رسولﷺ اور صدیقیت کے ممتاز لقب سے یاد کیا ہے اور سیدنا صدیقِ اکبرؓ کی افضیلت اور اسلام کے مخلص و خیر خواہ ہونے کا اظہار و اقرار فرمایا ہے اور اپنی زندگی کی شہادت دے کر فرمایا کہ ان کا مرتبہ اسلام میں نہایت ارفع و اعلیٰ ہےاور ان کے حق میں کیسی عالیشان دعا فرما کر اپنی قلبی محبت اور دلی شفقت کا اظہار فرمایا۔

مخفی نہ رہے کہ سیدنا علی المرتضیٰؓ سیدنا ابوبکر صدیقؓ کو صدیقیت کے لقب سے کیوں یاد نہ کرتے جبکہ خود حضور سرور کائناتﷺ ان کو صدیقیت کا عالیشان لقب دے گئے تھے جیسا کہ شیعہ کی معتبر کتاب تفسیر قمی صفحہ157 پر سیدنا جعفر صادقؒ سے حضورﷺ کا ارشاد منقول ہے کہ غار ثور کے اندر حضورﷺ نے سیدنا ابوبکرؓ کو فرمایا انت الصدیقؓ تو صدیق ہے اور اسی لئے تو باقی آئمہ بھی سیدنا ابوبکرؓ کو صدیقیت کے ممتاز لقب سے یاد فرمایا کرتے تھے جیسا کہ شیعہ کی کتاب کشف الغمہ صفحہ 220 پر ہے کہ سیدنا محمد باقرؒ سے مسئلہ پوچھا گیا کہ تلواروں کا حلیہ (زیور) بنانا جائز ہے تو انہوں نے فرمایا۔

لا باس بہ قد حلی ابو بکر ن الصدیقؓ سیفہ بالفضہ

 کوئی حرج نہیں کیونکہ سیدنا ابوبکرؓ نے اپنی تلوار کا چاندی سے حلیہ بنایا تھا۔

سبحان اللہ! سیدنا محمد باقرؒ نے سیدنا صدیقِ اکبرؓ کے عمل کو سند و حجت بنا کر ان کو صدیقیت کے لقب سے یاد فرمایا۔

 نیز شیعہ کی معتبر کتاب احقاق الحق صفحہ7 پر ہے سیدنا جعفر صادقؒ نے بھی سیدنا ابوبکرؓ کو صدیقیت کے لقب سے یاد فرمایا۔

ولدنی الصدیق مرتین۔

میں سیدنا ابو بکر صدیقؓ کی اولاد میں دو طرح داخل ہوں۔ 

نیز اسی صفحہ پر ہے۔

ابوبکر ن الصدیقؓ جدلی۔

سیدنا ابوبکر صدیقؓ میرے نانا ہیں۔

غور کیجئے کہ حضرات ائمہ کرام ان کو صدیق فرماتے رہتے تھے اور ان سے اپنی قلبی محبت و شفقت کا اظہار بھی کرتے تھے اور اسی لئے سیدنا علی المرتضیؓ اور سیدنا حسنینؓ نےاپنے عزیز بیٹوں کے نام بھی سیدنا ابوبکرؓ و سیدنا عمرؓ رکھے دیکھو شیعہ کی کتاب تاریخ الائمہ صفحہ 43 فرزندانِ سیدنا علی المرتضیؓ حسن حسین محسن عباس محمد ابوبکر عمر عثمان وغیرہ اٹھارہ فرزند مذکور ہیں۔ 

جلاء العیون فارسی صفحہ 193 پر لکھتے ہیں فرزند حضرت امیر المؤمنین اور ابوبکرؓ میگفتند۔

سیدنا علی المرتضیٰؓ کے فرزند جن کو سیدنا ابوبکرؓ کہتے تھے۔

 تاریخ الائمہ صفحہ 63 فرزندان سیدنا حسنؓ قاسم عبداللہ حسن مثنیٰ زید عبدالرحمٰن ابوبکر عمر اسماعیل وغیرھم۔

 نیز جلاء العیون صفحہ193پر ہے۔ابوبکر فرزند امام حسنؓ بمعرکہ قتال سیدنا حسنؓ کا فرزند ابوبکرؒ کربلا کی لڑائی میں شریک ہوا۔

 تاریخ الائمہ صفحہ 83 فرزندانِ سیدنا حسینؓ عابد، علی اکبر، علی اصغر، زید ابراہیم محمد حمزہ ابوبکر جعفر عمر وغیرھم۔

 تو سیدنا علی المرتضیٰؓ اور سیدنا حسنینؓ کو سیدنا ابوبکرؓ و سیدنا عمرؓ سے ایسی عقیدت و محبت تھی کہ اپنے بچوں کے نام ان کے ناموں پر رکھ کر ان کی یاد تازہ کی۔

اللہ تعالیٰ ہم تمام مسلمانوں کو بھی ان ائمہ ہدی کے نقش قدم پر چلنے کی توفیق بخشے اور آپس میں سیدنا صدیقؓ و سیدنا علیؓ کی طرح اخوت و محبت عطا کرے۔ آمین


صفحہ 2 از 2