صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کا بلند مقام - دفاعِ…

صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کا بلند مقام

  پروفیسر نقیہ کاظمی

صفحہ 1 از 4

صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کا بلند مقام

اسلام محض چند اصول و نظریات اور علوم و افکار کا مجموعہ نہیں بلکہ وہ اپنے جلو میں ایک نظامِ عمل لے کر چلتا ہے، وہ جہاں زندگی کے ہرشعبے میں اصول و قواعد پیش کرتا ہے وہاں ایک ایک جزئیہ کی عملی تشکیل بھی کرتا ہے اس لیے یہ ضروری تھا کہ شریعت محمدیہ علی صاحبہا الف الف صلوٰۃ وسلام کی علمی و عملی دونوں پہلوئوں سے حفاظت کی جائے اور قیامت تک ایک ایسی جماعت کا سلسلہ قائم رہے جو شریعتِ مطہرہ کے علم و عمل کی حامل اور امین ہو۔ حق تعالیٰ نے دینِ محمدی کی دونوں طرح حفاظت فرمائی، علمی بھی اور عملی بھی۔

حفاظت کے ذرائع میں صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی جماعت سرِ فہرست ہے، ان حضرات نے براہِ راست صاحبِ وحیﷺ سے دین کو سمجھا، دین پر عمل کیا اور اپنے بعد آنے والی نسل تک دین کو من و عن پہنچایا، انہوں نے آپ کے زیرِ تربیت رہ کر اخلاق و اعمال کو ٹھیک ٹھیک منشائے خداوندی کے مطابق درست کیا، سیرت و کردار کی پاکیزگی حاصل کی، تمام باطل نظریات سے کنارہ کش ہوکر عقائد حقہ اختیار کیے رضائے الہیٰ کے لیے اپنا سب کچھ رسول اللہﷺ کے قدموں پر نچھاور کر دیا، ان کے کسی طرزِ عمل میں ذرا خامی نظر آئی تو فوراً حق جل مجدہ نے اس کی اصلاح فرمائی، الغرض حضراتِ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی جماعت اس پوری کائنات میں وہ خوش قسمت جماعت ہے جن کی تعلیم و تربیت اور تصفیہ و تزکیہ کے لیے سرور کائنات محمد رسول اللہﷺ کو معلم و مزکی اور استاد و اتالیق مقرر کیا گیا۔ اس انعامِ خداوندی پر وہ جتنا شکر کریں کم ہے، جتنا فخر کریں بجا ہے۔

لَقَدۡ مَنَّ اللّٰهُ عَلَى الۡمُؤۡمِنِيۡنَ اِذۡ بَعَثَ فِيۡهِمۡ رَسُوۡلًا مِّنۡ اَنۡفُسِهِمۡ يَتۡلُوۡا عَلَيۡهِمۡ اٰيٰتِهٖ وَيُزَكِّيۡهِمۡ وَيُعَلِّمُهُمُ الۡكِتٰبَ وَ الۡحِكۡمَةَ وَاِنۡ كَانُوۡا مِنۡ قَبۡلُ لَفِىۡ ضَلٰلٍ مُّبِيۡنٍ۞

(سورۃ آلِ عمران: آیت، 164)

ترجمہ: بخدا بہت بڑا احسان فرمایا اللہ نے مؤمنین پر کہ بھیجا ان میں ایک عظیم الشان رسول ان ہی میں سے وہ پڑھتا ہے ان کے سامنے اس کی آیتیں اور پاک کرتا ہے، ان کو اور سکھاتا ہے ان کو کتاب اور گہری دانائی، بلاشبہ وہ اس سے پہلے صریح گمراہی میں تھے۔ 

آنحضرتﷺ کی علمی و عملی میراث اور آسمانی امانت چونکہ ان حضرات کے سپرد کی جا رہی تھی اس لیے ضروری تھا یہ حضرات آئندہ نسلوں کے لیے قابلِ اعتماد ہوں چنانچہ قرآن و حدیث میں جابجا ان کے فضائل مناقب بیان کیے گئے چنانچہ:

1: وحی خداوندی نے ان کے تعدیل فرمائی، ان کا تزکیہ کیا، ان کے اخلاق وللہیت کی شہادت دی اور انہیں یہ رتبہ بلند ملا کہ ان کو رسالت محمدیہ علی صاحبہا الف الف صلوٰۃ وسلام کے عادل گواہوں کی حیثیت سے ساری دنیا کے سامنے پیش کیا۔

مُحَمَّدٌ رَّسُوۡلُ اللّٰهِ‌ وَالَّذِيۡنَ مَعَهٗۤ اَشِدَّآءُ عَلَى الۡكُفَّارِ رُحَمَآءُ بَيۡنَهُمۡ ‌تَرٰٮهُمۡ رُكَّعًا سُجَّدًا يَّبۡتَغُوۡنَ فَضۡلًا مِّنَ اللّٰهِ وَرِضۡوَانًا‌ سِيۡمَاهُمۡ فِىۡ وُجُوۡهِهِمۡ مِّنۡ اَثَرِ السُّجُوۡدِ‌ ذٰلِكَ مَثَلُهُمۡ فِى التَّوۡرٰٮةِ ۛوَمَثَلُهُمۡ فِى الۡاِنۡجِيۡلِ كَزَرۡعٍ اَخۡرَجَ شَطْئَـهٗ فَاٰزَرَهٗ فَاسۡتَغۡلَظَ فَاسۡتَوٰى عَلٰى سُوۡقِهٖ يُعۡجِبُ الزُّرَّاعَ لِيَـغِيۡظَ بِهِمُ الۡكُفَّارَ‌ وَعَدَ اللّٰهُ الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ مِنۡهُمۡ مَّغۡفِرَةً وَّاَجۡرًا عَظِيۡمًا۞

(سورۃ الفتح: آیت، 26)

ترجمہ: محمدﷺ اللہ تعالیٰ کے سچے رسول ہیں اور جو ایماندار آپ کے ساتھ ہیں وہ کافروں پر سخت اور آپس میں شفیق ہیں، تم ان کو دیکھو گے رکوع، سجدے میں، وہ چاہتے ہیں صرف اللہ کا فضل اور اس کی رضامندی۔ ان کی علامت ہے ان کے چہروں میں سجدے کا نشان۔

گویا یہاں محمد رسول اللہﷺ رسول ہیں ایک دعویٰ ہے اور اس کے ثبوت میں حضراتِ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی سیرت و کردار کو پیش کیا گیا ہے کہ جسے آنحضرتﷺ کی صداقت میں شک وشبہ ہو، اسے آپﷺ کے ساتھیوں کی پاکیزہ زندگی کا ایک نظر مطالعہ کرنے کے بعد خود اپنے ضمیر سے یہ فیصلہ لینا چاہیے کہ جس کے رفقاء اتنے بلند سیرت اور پاکباز ہوں وہ خود صدق وراستی کے کتنے اونچے مقام پر فائز ہوں گے کیا نظر تھی جس نے مُردوں کو مسیحا کر دیا۔

2: حضراتِ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے ایمان کو معیارِ حق قرار دیتے ہوئے نہ صرف لوگوں کو اس کا نمونہ پیش کرنے کی دعوت دی گئی بلکہ ان حضرات کے بارے میںلب کشائی کرنے والوں پر نفاق و سفاہت کی دائمی مہر ثبت کردی گئی۔

وَاِذَا قِيۡلَ لَهُمۡ اٰمِنُوۡا كَمَاۤ اٰمَنَ النَّاسُ قَالُوۡاۤ اَنُؤۡمِنُ كَمَاۤ اٰمَنَ السُّفَهَآءُ‌ اَلَاۤ اِنَّهُمۡ هُمُ السُّفَهَآءُ وَلٰـكِنۡ لَّا يَعۡلَمُوۡنَ۞

(سورۃ البقرة: آیت، 13)

ترجمہ: اور جب ان منافقوں سے کہا جائے تم بھی ایسا ہی ایمان لاؤ جیسا دوسرے لوگ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین ایمان لائے ہیں تو جواب میں کہتے ہیں کیا ہم ان بے وقوفوں جیسا ایمان لائیں؟ سن رکھو! یہ خود ہی بے قوف ہیں مگر نہیں جانتے۔

3: حضراتِ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو بار بار رضی اللہ عنہم ورضوا عنہ اللہ ان سے راضی ہوا وہ اللہ سے راضی ہوئے کی بشارت دی گئی اور امت کے سامنے اسے اتنی شدت و کثرت سے دہرایا گیا کہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کا یہ لقب امت کا تکیہ کلام بن گیا کسی نبی کا اسم گرامی آپﷺ کے بغیر نہیں لے سکتے اور کسی صحابی رسولﷺ کا نام نامی رضی اللہ عنہ کے بغیر مسلمان کی زبان پر جاری نہیں ہوسکتا۔

ظاہر ہے کہ اللہ تعالیٰ صرف ظاہر کو دیکھ کر راضی نہیں ہوا، نہ صرف ان کے موجودہ کارناموں کو دیکھ کر ان سے رضامندی کا اظہار کردیا بلکہ اللہ تعالیٰ ان کے ظاہر وباطن اور حال و مستقبل کو دیکھ کر ان سے راضی ہوا ہے، یہ گویا اس بات کی ضمانت ہے کہ آخر دم تک ان سے رضائے الہیٰ کے خلاف کچھ صادر نہیں ہوگا۔

صفحہ 1 از 4