سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ، سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے…

سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ، سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے عقیدہ میں

  علامہ ڈاکٹر خالد محمود رحمہ اللہ

صفحہ 5 از 5

نوٹ: یہ حدیث بھی سیدنا ابوبکر صدیقؓ کے ان کے افضل ہونے پر دلالت کر رہی ہے۔ نیز اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ سیدنا علیؓ نے بھی اپنے فرزند ارجمند سیدنا حسنؓ کو نامزد نہیں کیا تھا اگرچہ لوگوں میں اس کے خلاف مشہور ہے۔

حدیث14: وروىٰ أبو حجيفة و مُحمّد بِنْ عَلِیّ وَعَبْدُ خَيْرٍ وَسُوَيدُ بِنْ غَفْلَۃَ وَاَبُوْ حُكيمَةَ وَغَيْرُهُمْ وَقَدْ قِيلَ إِنَّهُمُ ارْبَعَةَ رَجُلًا إِنَّ عَلِيًّا عَلَيْهِ السَّلَامُ قَالَ فِي خُطْبَتِهِ خَيْرُ هَذِهِ الْأُمَّةِ بَعْدَ نَبِیّهَا أَبُو بَكْرٍ وَعُمَر

(شافی سید مرتضیٰ علم الہدیٰ مطبوعہ تہران کے صفحہ 171 پر مرقوم ہے)

ترجمہ: ابو حجیفہ اور محمد بن علی اور عبد خیر اور سوید بن غفلہ اور ابو حکیمہ اور ان کے علاؤہ اور بھی بہت سے راوی روایت کرتے ہیں، کہا گیا ہے کہ وہ چودہ عدد راوی ہیں۔ کہ سیدنا علیؓ نے جمعہ کے خطبے میں ارشاد فرمایا اس امت میں نبی کریمﷺ کے بعد سب سے افضل ابوبکر صدیقؓ پھر عمر فاروقؓ ہیں۔

نوٹ: یہ حدیث اسی طرح صفحہ 428 پر بھی دیکھی جاسکتی ہے۔

حدیث15: خدا کے رسولﷺ نے ارشاد فرمایا :

أول دِينِكُمْ نُبُوَّةً وَرَحْمَةٌ وَمُلْكٌ وَرَحْمَةٌ ثُمَّ مُلْكٌ وَجَبَرُوْتٌ۔

 ترجمہ: تمہارے دین کا پہلا زمانہ نبوت اور خدا کی رحمت کا زمانہ ہے اس کے بعد بادشاہت اور خدا کی رحمت کا زمانہ ہوگا پھر اس کے بعد بادشاہت اور زبردستی کا زمانہ ہو گا۔

نوٹ: اس حدیث میں آنحضورﷺ نے اپنے مقدس زمانے کے بعد آنے والے زمانوں کے بارے پیشین گوئی فرمائی جو حرف بحرف پوری اتری۔ فرمایا میرا زمانہ تو نبوت اور رحمت کا زمانہ ہے۔ جب میں دنیا سے رخصت ہوجاؤں گا تو مسلمانوں کو بادشاہت کے ساتھ خدا کی رحمت شامل حال ہوگی۔ جیسا کہ ایک دوسری حدیث میں اس زمانہ کی حد بندی کر کے فرمایا: الْخِلَافَةُ بَعْدِی ثَلٰثُوْنَ سَنَةً میری خلافت میرے بعد تیس برس تک ہوگی

حديث الخلافة في امتى ثلٰثون سنة کو امام احمد اور ترمذی(جامع ترمذی )نے سیدنا سفینہؓ سے روایت کیا ہے۔ حضورﷺ نے فرمایا:ثم ملك بعد ذٰلك (اس کے بعد بادشاہت ہو جائے گی) اس میں راوی سعید بن جمہان پر محدثین کو کلام ہے، مگر حدیث حسن کے درجہ سے نہیں گرتی اور ابنِ حبان نے تو اسے صحیح قرار دیا ہے۔

(فتح الباری جلد 3 صفحہ 183اسے امام نسائی نے بھی روایت کیا ہے،عون المعبود جلد 4 صفحہ 343)

سیدنا امیر معاویہؓ کی خلافت ان تیس سال کے بعد شروع ہوئی، لیکن ان کی حکومت ان تیس سال کے اندر سے شروع ہوئی اور ظاہر ہے کہ ان کا اندازِ حکومت ایک سا رہا ہے۔ خلیفہ بننے کے بعد عملاً اس میں کوئی تبدیلی نہیں فرمائی۔ حضورﷺ نے ثم ملك بعد ذلك میں ثم کی تراخی سے جس بادشاہت کی خبر دی ہے۔ وہ تیسرے درجہ پر ہے جو تیس سال کے بعد کسی وقت شروع ہوئی۔ اسکی ابتداء تیس سال کے اندر سے نہیں۔ یہ عبوری دورِ خلافت عادلہ کا دور تھا اور یہ بھی رحمت ہے۔ زبر دستی کی حکومت اسکے بعد قائم ہوئی ہے۔

(بنوالزرقاء(بنو مروان)کی حکومت ملوکیت میں داخل ہے۔خلافت اسے صرف لغوی معنیٰ میں کہا جاتا ہے)


صفحہ 5 از 5