سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ، سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے…

سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ، سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے عقیدہ میں

  علامہ ڈاکٹر خالد محمود رحمہ اللہ

صفحہ 4 از 5

قاضی نور اللہ شوستری بڑے محقق اور سخت متعصب گزرے ہیں۔ وہ اپنی مندرجہ بالا کتاب میں اقرار کرتے ہیں کہ یہ حدیث ایسی ہے جس کو آنحضورﷺ ہمیشہ بیان فرمایا کرتے تھے۔ اس حدیث کے صحیح اور مستند ہو جانے کے بعد اس کے معنیٰ اور مقصود میں کلام کرنا چاہیئے۔ سو راقم الحروف کے نزدیک اس حدیث میں جس چیز سے سیدنا ابوبکر صدیقؓ کے دل کو بھرا ہوا بتلایا گیا ہے وہ معرفتِ الٰہی اور عشقِ رسولﷺ ہے۔ جیسا کہ علامہ ڈاکٹر اقبال مرحوم نے کہا ہے ہے

پروانے کو ہے شمع تو بلبل کو پھول بس 

 صدیقؓ کے لئے ہے خدا کا رسولﷺ بس 

مطلب یہ ہے کہ سیدنا ابوبکرؓ نماز و روزہ کی وجہ سے تم لوگوں پر سبقت نہیں لے گئے بلکہ وہ اس عشق اور معرفت کی وجہ سے تم پر سبقت لے گئے ہیں جس سے ان کا دل لبریز ہے۔ اس حدیث میں سبقت سے مراد وہ عزت ہے جو سیدنا صدیق اکبرؓ کو خدا کے رسولﷺ کے یہاں تھی۔ آنحضورﷺ نے تمام صحابہؓ پر واضح کر دیا کہ میرے یہاں سیدنا ابوبکرؓ کی عزت اس معرفتِ الٰہی کی وجہ سے ہے جس سے اس کا دل بھر پور ہے۔ قلب صدیقؓ کا کوئی گوشہ ایسا نہیں جہاں غیر اللہ کے لئے کچھ گنجائش ہو۔ حافظ شیرازی نے کیا خوب کہا ہے:

 خانۂ خالی نما تا منزل جاناں شود

 کیں ہوسنا کاں دل و جاں جائے دیگر مے کنند 

بعض علماء نے اس حدیث کی تشریح کرتے ہوئے لکھا ہے کہ حب ریاست یعنی سردار بننے کی محبت سے سیدنا ابوبکرؓ کا دل بھرا ہوا تھا ۔ مگر راقم الحروف کہتا ہے کہ جس وقت اور جن حالات میں سیدنا ابوبکرؓ نے مال و جان خدا کی راہ میں قربان کئے ہیں اور آباؤ اجداد کے اموال اور جائداد اور وطن عزیز سے اپنے آپ کو علیحدہ کیا ہے اس وقت تک تو سرداری کا تصور بھی کسی کے ذہن میں نہیں آسکتا تھا۔ سیدنا ابوبکرؓ کا دل اس چیز سے کیسے بھر گیا ہوا تھا؟

نیز حبّ ریاست کوئی ایسی چیز نہیں ہے جس کی وجہ سے کوئی آدمی خدا کے پیغمبرﷺ کے یہاں معزز اور مکرم ہو جائے اگر رسول اللہﷺ کو علم ہوجاتا کہ سیدنا ابوبکرؓ میرے ساتھ دنیاوی سرداری کے واسطے لگا ہوا ہے تو اسی وقت علیحدہ کر دیتے کیا اہلِ علم کو یہ بات معلوم نہیں ہے کہ ازواجِ مطہراتؓ نے آنحضورﷺ سے کسی دنیاوی چیز کی طلب کی تھی۔ فوراً آپﷺ نے علیحدگی اختیار کرلی تھی۔ پورا مہینہ ازواجِ مطہراتؓ سے کلام نہ فرمایا۔ سورۃ احزاب میں خدا تعالیٰ نے پورا رکوع نازل فرمایا۔ جس کی ابتداء یوں ہے:

یٰۤاَیُّهَا النَّبِیُّ قُلْ لِّاَزْوَاجِكَ اِنْ كُنْتُنَّ تُرِدْنَ الْحَیٰوةَ الدُّنْیَا وَ زِیْنَتَهَا فَتَعَالَیْنَ اُمَتِّعْكُنَّ وَ اُسَرِّحْكُنَّ سَرَاحًا جَمِیْلًاالقرآن 

ترجمہ: اے نبی ! اپنی بیویوں سے کہو کہ : اگر تم دنیوی زندگی اور اس کی زینت چاہتی ہو تو آؤ، میں تمہیں کچھ تحفے دے کر خوبصورتی کے ساتھ رخصت کردوں۔

(سورۃ الاحزأب: آیت، 28)

دین اسلام کے اندر طلاق اضطراری حالات میں جائز قرار دی گئی ہے۔ معلوم ہوا کہ آنحضورﷺ کے سامنے ذکر دنیا ہی اضطرار کا باعث ہوگیا اور طلاق دینے پر آمادہ ہوگئے۔ شریعتِ محمدیﷺ میں طلاق کے موقعوں پر جوڑا کپڑوں کا دینا ضروری ہوتا ہے۔ اسی کو خدا تعالیٰ کے پیغمبرﷺ نے خوبصورت روانگی سے تعبیر کیا۔ مقامِ غور ہے کہ جو پیغمبرﷺ ذکر دنیا سے اس قدر نفرت رکھتا ہے وہ کسی محبت ریاست اور سرداری کے امیدوار کو رفیق زندگی بلکہ رفیقِ دارین کیسے بنا سکتا ہے۔

حدیث11: سیدنا جعفر صادقؒ سے مروی ہے:

آپ نے سیدنا ابوبکر صدیقؓ اور سیدنا سلمان فارسیؓ اور سیدنا ابوذر غفاریؓ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا مَنْ أَزْهَدٌ مِنْ هُؤُلاء(فروع الکافی جلد دوم کتاب المعیشۃ صفحہ 4 پر ایک طویل حدیث ہے)یعنی مذکور بالا تینوں بزرگوں سے زیادہ تارکِ دنیا کون ہے؟ حقیقت یہ ہے کہ سیدنا جعفر صادقؒ نے جو سیدنا ابوبکر صدیقؓ کے زہد اور تارکِ دنیا ہونے پر مہر تصدیق ثبت کر دی۔ تو حدیث 10 کی تشریح میں جو معنی راقم الحروف نے بیان کئے ہیں ان کی حقانیت بھی واضح ہو گئی۔

حدیث12: قَالَ علیؓ لَمَّا قُبِضَ النَّبِيُّﷺ نَظَرْنَا فِي اَمْرِنَا فَوَجَدْنَا النَّبِیَّﷺ قَدْ قَدَمَ اَبَابَکَر فِی الصّلوٰۃ فَرَضَیْنَا لِدُنْیَانَا مَنْ رَضِيَ رَسُولُ اللہﷺ لِدِينِنَا فَقَدَمْنَا أَبَابَكْر

(دیکھو طبقات ابنِ سعد مطبوعہ بیروت جلد سوم صفحہ 183)

ترجمہ: سیدنا علیؓ فرماتے ہیں کہ جب رسول اللہﷺ کی روح مبارک قبض کرلی گئی تو ہم نے حکومت کے بارے میں سوچا پس آپﷺ نے جو سیدنا ابوبکر صدیقؓ کو نماز کے لئے آگے کیا تھا وہ یہیں اس باب میں راہ نما دستیاب ہوگیا۔ اور خدا کے رسولﷺ نے جس شخص کو ہمارے دین کا پیشواء بنایا تھا ہم نے اس کو اپنی دنیا کا پیشواء بنالیا اور سیدنا ابوبکر صدیقؓ کو امام اور سربراہ بنالیا۔

سیدنا علیؓ کی اس حدیث شریف میں غور کرنے سے معلوم ہے ہوتا ہے کہ آپ کے نزدیک مرضِ وفات نبیﷺ میں امامت سیدنا ابوبکرؓ با ارشاد پیغمبرﷺ تھی اور خلافت سیدنا ابوبکر صدیقؓ کی زبردست دلیل تھی۔ اور یہ بھی معلوم ہو رہا ہے کہ سیدنا علیؓ اس دلیل کے دریافت کرنے میں تنہاء نہیں ہیں بلکہ تمام بنو ہاشم اس چیز میں آپ کے ساتھ متفق ہیں۔ یہاں سے یہ بھی واضح ہوگیا کہ بیعت سیدنا ابوبکرؓ سے تخلف کے قصے صحیح نہیں ہیں۔ نہ خود سیدنا علیؓ نے بیعت 

ابوبکرؓ میں پس و پیش کی اور نہ ہی باقی بنو ہاشم نے لیت و لعل سے کام لیا۔

حدیث13: عَنْ عَلي بن أبي طالب عَلَيْهِ السَّلَامُ إِنَّهُ قِيلَ لَهُ الَا تُوصِى؟ قاَلَ مَا اَوْصیٰ رَسُولُ اللّٰه صَلَّى اللّٰه علیه وسلم فَاُوْصِیْ ولكن إنْ اَرَادَ اللّٰه خَيْرًا فَسَيَجْمَعُهُمْ عَلَىٰ خَيْرِهِمْ كَمَا جَمَعَهُمُ بَعْدَ نَبِيهِم علی خَیْرِھِمْ

(دیکھو شافی شریف مرتضٰی علم الہدیٰ مطبوعہ تہران صفحہ 171)

ترجمہ: سیدنا علیؓ سے عرض کیا گیا کیا آپ اپنا خلیفہ نامزد فرماتے؟ آپ نے جواب دیا کہ خدا کے رسولﷺ نے نامزد نہیں کیا تو میں کیسے نامزد کروں۔ لیکن اگر خدا تعالیٰ مسلمانوں کے حق میں بھلائی کا ارادہ کریگا تو ان کو اپنے میں سے بہترین آدمی پر متفق بنادے گا جیسا کہ نبی کریمﷺ کے بعد تمام مسلمانوں میں سے بہترین آدمی پر انہیں اجتماع عطاء کر دیا تھا۔

صفحہ 4 از 5