سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ، سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے…

سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ، سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے عقیدہ میں

  علامہ ڈاکٹر خالد محمود رحمہ اللہ

صفحہ 3 از 5

6. حدیث: کسی شخص نے سیدنا باقرؒ سے پوچھا: جَعَلَنِي اللّٰهُ فِدَاكَ أَرَمَيْتُ أَبَا بَكْرٍ وَعُمَرَ هَلْ ظَلَمَا كُم مِّنْ حَقِكُمُ شَيْئًا أَوْ قَالَ ذَهَبًا مِنْ حَقِكُمْ شَيْئًا فَقَالَ لَا وَالَّذِي أَنْزَلَ الْفُرْقَانَ عَلَى عَبْدِهِ لِيَكُونَ لِلْعٰلَمِينَ نَذِيرًا مَا ظُلِمُنَا مِنْ حَقّنَا مِثْقَالَ حَبَّةٍ مِنْ خَرْدَلٍ جُعِلْتُ فِدَاكَ أَنَا تَوَلَّاهُمَا قَالَ نَعَمُ وَيُحَكَ تَوَلَّا هُمَا فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ وَمَا أَصَابَكَ فَفِي عُنْقِى، ثُم قال فعل اللّٰه بِالْمُغِيرَةِ وَبُنَانِ فَإِنَّهُمَا كَذَبَا عَلَيْنَا أَهْل الْبَيْتِ

(دیکھو حدیدی نہج البلاغہ جلد دوم صفحہ 296)

ترجمہ:خدا مجھے آپ پر قربان کرے۔ ابوبکر و عمر کے بارے بتلائیے کیا انہوں نے آپ لوگوں کے حقوق میں سے کوئی چیز چھین لی ہے؟ سیدنا باقرؒ نے جواباً ارشاد فرمایا کہ اس کی قسم جس نے اپنے بندے پر قرآن اتارا تاکہ تمام جن و انس کے لئے ڈرانے والا ہو۔ ہمارے حقوق میں سے راںٔی کے دانہ کے برابر بھی کوئی چیز نہیں لی گئی۔ پوچھنے والے نے عرض کیا میں ان دونوں سے دوستی رکھوں؟ سیدنا باقرؒ نے فرمایا ہاں اے میرے پیارے ان دونوں سے دنیا و آخرت میں دوستی رکھ۔ اور اگر اس کی وجہ سے تجھ پر کوئی مصیبت آئے تو وہ میری گردن پر۔ مراد یہ ہے کہ میں دنیا و آخرت میں ذمہ دار ہوں۔ اس کے بعد سیدنا باقرؒ نے فرمایا خدا تعالیٰ مغیرہ اور بنان کو ہلاک کرے کیونکہ ان دونوں نے ہم اہلِ بیتؓ پر جھوٹ باندھے ہیں۔

نوٹ: سیدنا باقرؒ کی اس حدیث میں سیدنا ابوبکر صدیقؓ کی پاک دامنی کس وضاحت سے بیان کی گئی ہے۔ سوال کرنے والا وہ شخص ہے جو سیدنا ابوبکر صدیقؓ سے حسنِ ظن نہیں رکھتا۔ اس کے دل میں ان کی کوئی عزت نہیں ہے ۔ اس سوء ظن کی وجہ وہ خود بیان کرتا ہے کہ سیدنا ابوبکرؓ نے آپ کے حقوق غصب کر لئے تھے۔ سیدنا باقرؒ نے قرآن اتارنے والے کی قسم کھا کر جواب دیا کہ یہ بات غلط ہے۔ سیدنا ابوبکرؓ نے ہمارے حقوق میں سے کوئی ادنیٰ حق بھی غصب نہیں کیا۔ خدا کی قسم ہی کافی تھی مگر آپ نے قرآن کے نزول کا ذکر اس لئے فرمایا کہ یہ سچائی میں ضرب المثل ہے اور اس طریق سے آپ سائل کے دل سے بغض صدیقی کو دور کرنا چاہتے تھے۔ خدا کو ہی معلوم ہے کہ اس سائل کے دل سے بلا دور ہوئی یا نہ مگر حقیقت ہے کہ سیدنا باقرؒ نے سائل کے دل کی صفائی میں کوئی کسر باقی نہ چھوڑی۔ بھلا اس سے زیادہ کیا ہوسکتا تھا کہ جو گناہ ہوگا وہ میری گردن پر ہوگا۔ آخر میں سیدنا باقرؒ نے وہ راز کھول دیا جو سائل کے علم میں نہ تھا۔ فرمایا کہ اس قسم کی روایات مغیرہ اور بنان کے ذریعہ سے پھیل رہی ہیں۔ حالانکہ یہ دونوں ہم پر جھوٹ باندھتے ہیں۔

حدیث7: ایک اعرابی نے سیدنا ابوبکر صدیقؓ سے عرض کیا:

اَلَسْتَ امرتَنِي أَنْ لَا أَتَامَرَ عَلَىٰ اثْنَيْنِ قَالَ بَلَىٰ قَالَ فما بالك فقال ابوبكر لم اجدها احدا غیری احق منى قال ثم رفع ابوجعفر الباقرَ يَدَيْهِ وَخَفَضَهُمَا فَقَالَ صَدَقَ صَدَقَ۔

(دیکھو حدیدی شرح نہج البلاغہ جلد اول جزو ششم صفحہ 291)

ترجمہ: کیا تو نے مجھ سے کہا نہیں تھا کہ دو آدمیوں پر بھی حاکم نہ ہوں؟ سیدنا ابوبکر صدیقؓ نے جواب دیا کہ ہاں میں نے اسی طرح کہا۔ پس اعرابی نے کہا کہ پھر تو کیوں حاکم بن بیٹھا؟ سیدنا ابوبکر صدیقؓ نے جواب دیا کہ ہاں حکومت اس لئے قبول کی کہ میرے بغیر کوئی شخص اس کے لائق نہ تھا۔ راوی کہتا ہے کہ جب محمد باقر اس موقعہ پر پہنچے تو اپنے دونوں ہاتھ آسمان کی طرف بلند کئے اور فرمایا کہ ابوبکر نے سچ کہا ابوبکر نے سچ کہا۔

نوٹ: سیدنا محمد باقر اس روایت کے راوی ہیں۔ جب سیدنا ابوبکرصدیقؓ کے جواب پر پہنچے ہیں تو اس کی تصدیق کے لئے دونوں ہاتھ آسمان کی طرف بلند کر دیئے ہیں گویا خدا تعالیٰ کو سیدنا ابوبکر صدیقؓ کی صداقت پر گواہ بنا رہے ہیں۔ پس سیدنا ابوبکر صدیقؓ نے جو فرمایا کہ پیغمرﷺ کی خلافت کے لیے کوئی شخص مجھے زیادہ لائق نہ تھا۔ سیدنا محمد باقر نے اس بات کی سچائی پر خدا کو گواہ بنایا اور افضلیت صدیقؓ پر مہر تصدیق ثبت کر دی۔

حدیث8: سیدنا علیؓ نے ابوسفیان سے خطاب کیا: أمْسِكْ عَلَيْكَ ، فَإِنَّا رَںٔيْنَا أَبَابَكْرِ لَهَا أَهْلاً۔

(ملاحظہ کیجیئے حدیدی شرح نہج البلاغہ جلد اول جزو ششم صفحہ 291)

ترجمہ: اے ابوسفیان اس بات سے باز رہ اس لئے کہ ہم نے ابوبکر کو خلافت کے لائق جانا ہے۔

نوٹ: ابوسفیان صاحب سیدنا علیؓ کو مشورہ دے رہے تھے کہ آپ خلافت کے لئے کھڑے ہو جائیں میں آپ کی ہر ممکن طریق سے امداد کروں گا۔ اس کے جواب میں فرمایا کہ خاموش ہو جاؤ۔ میں اس مشورہ کو قبول نہیں کرتا کیونکہ ہم نے سیدنا ابوبکر صدیقؓ کو خلافت کے لائق جان کر اس کے ہاتھ پر بیعت کی کی ہے۔

حدیث9: سیدنا علیؓ نے فرمایا:

 لَو لَا اَنَّا رَیْنَا اَبَابَکْرِ لَھَا اَھْلاً لَمَا تركناهُ۔

(ملاحظہ کیجیئے حدیدی شرح نہج البلاغہ جلد اول جزو دوم صفحہ 74)

ترجمہ: اگر ہم سیدنا ابوبکرؓ کو خلافت کے لائق نہ جانتے تو اسے اس مقام پر ہرگز نہ چھوڑتے۔

 نوٹ: سیدنا علیؓ کی بہادری اور شجاعت کا تقاضا یہی ہے جو آپ کے اس ارشاد سے ظاہر ہو رہا ہے۔ اکراہ اور اضطرار اور مجبوری سب کے سب آپ کی شان کے مناسب نہیں ہیں۔ دعا ہے کہ خدا تعالیٰ مدعیان محبت کو معرفت عطا کرے آمین یا رب العالمین۔

حدیث10: حضور اکرمﷺ اپنے صحابہ کرامؓ کے مجمع میں ہمیشہ فرمایا کرتے۔ اثناء عشریہ کے ہاں یہ حدیث اسی طرح مروی ہے۔

مَاسَبَقَكُمُ ابُوبَكْرٍ بِصَوْمٍ وَلَا صَلَوٰةٍ وَلَكِن بِشَيْ وَقَرَ فِي صَدْرِہ۔

(تاریخ کی مشہور و معروف کتاب مجالس المؤمنین مطبوعہ تہران صفحہ 88 سے مطالعہ کریں)

 ترجمہ: تم لوگوں سے ابوبکر صدیق نے جو ترقی کی ہے تو وہ نماز و روزہ کی وجہ سے نہیں کی لیکن وہ تو ایک ایسی چیز کی وجہ سے ہے جس سے اس کا دل بھرا پڑا ہے۔

صفحہ 3 از 5