سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ، سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے…

سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ، سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے عقیدہ میں

  علامہ ڈاکٹر خالد محمود رحمہ اللہ

صفحہ 2 از 5
  1. تمام مسلمانوں نے سیدنا ابوبکر صدیقؓ کو خلیفہ منتخب کیا۔ آپ پر اجماع مکمل ہوا تھا۔
  2. سیدنا ابوبکر صدیقؓ صالح تھے۔ صلاحیت دو قسم کی ہے۔ ایک خود نیکو کار ہونا دوسرے خلافت کے لائق ہونا۔ یہ صفت دونوں قسموں کو شامل ہے۔
  3. قرآن و حدیث پر آپ نے عمل کیا۔ اور عمل جب ہی ہوسکتا ہے کہ علم ہو۔ پس اس فقرہ میں سیدنا علیؓ نے سیدنا ابوبکر صدیقؓ کے قرآن وحدیث کے عالم اور عامل ہونے کا اقرار فرمایا ہے۔
  4. صدیقی طرزِ حکومت نہایت اچھی تھی۔ پس جو لوگ اس پر اعتراض کرتے ہیں وہ سیدنا علیؓ کےخلاف کرتے ہیں۔ سیدنا علیؓ اس حکومت کے حق میں تھے۔
  5. صدیق اکبرؓ نے سنتِ رسولﷺ سے ذرہ بھر تجاوز نہ کیا۔ پس جو لوگ کہتے ہیں کہ سیدنا عمرؓ کی وفات کے بعد سیدنا علیؓ نے سیرت شیخینؓ پر عمل پیرا ہونے سے انکار کر دیا تھا بالکل غلط ہے کیونکہ جب سیدنا علیؓ اقرار کر رہے ہیں کہ حضراتِ شیخینؓ نے سنت رسولﷺ سے ذرہ بھر تجاوز نہ کیا تھا تو پھر سیرت شیخینؓ اور سنت رسولﷺ ایک ہی چیز ہوگئی اور ایک کے انکار کو دوسری کا انکار لازم ہوگیا۔ اس صورت میں اگر سیدنا علیؓ سیرت شیخینؓ کا انکار کرتے ہیں تو سنتِ رسولﷺ کا انکار بلا توقف لازم آتا ہے۔ اور یہ وہ چیز ہے جس کا تصور بھی سیدنا علیؓ کے عقیدت مند نہیں کر سکتے۔

حدیث3: سیدنا علیؓ کے خطبے کا ایک اقتباس پیش خدمت ہے:

 ثمَّ اسْتَخْلَفَ النَّاسُ أَبَا بَكْرِ ثُمَّ اسْتَخْلَفَ أَبُوبَكْرٍ عمر وَ اَح٘سَنَا السّيرَةَ وَعَدَ لاَ فِی الْاُمّةِ۔

(دیکھو ناسخ التواریخ جلد سوم از کتاب دوم صفحہ241)

ترجمہ: پھر تمام لوگوں نے سیدنا ابوبکرؓ کو خلیفہ بنایا اسکے بعد سیدنا ابوبکرؓ نے سیدنا عمرؓ کو خلیفہ بنایا۔ ان دونوں نے طرزِ حکومت کو نہایت اچھا بنایا اور امت میں انصاف اور عدالت کو قائم کیا۔

نوٹ: سیدنا علیؓ نے اس خطبے میں دو باتوں کا اقرار کیا۔ ایک تو سیدنا ابوبکر صدیقؓ کے طرزِ حکومت کی اچھائی کا اور دوسرا نکا امت میں عدالت قائم کرنے کا اگر کوئی شخص ان دونوں باتوں میں غور کرے تو مقامِ سیدنا ابوبکر صدیقؓ کی حقیقت سے واقف ہوسکتا ہے۔

حديث4: وَقَالَ عَلىٌ وَالزُّبَيْرُ مَا غَضِبْنَا إِلَّا فِي الْمَشْوَرَةِ وَإِنَّا لَنَرَىٰ أبا بكر حَقَّ النَّاسِ بِهَا إِنَّهُ لَصَاحِبُ الْغَارِ وَثَانِيَ اثْنَيْنِ وَإِنَّا لَنعْرِفُ لَهُ سِنَهُ وَلَقَدْ أَمَرَهُ رَسُولُ اللّٰه صلى اللّٰه عليه وسلم بالصلوٰة وَهُوَ حَىٌ

(دیکھو حدیدی شرح نہج البلاغہ جلد اول جزو ششم 293)

ترجمہ: سیدنا علیؓ اور سیدنا زبیرؓ نے کہا۔ ہماری شکر رنجی محض مشورہ کی وجہ سے ہے اور ہم یقیناً جانتے ہیں کہ سیدنا ابوبکرؓ سب سے زیادہ خلافت کے حق دار ہیں اس لئے کہ وہ صاحبِ غار اور ثانی اثنین ہیں۔ اور یقیناً وہ عمر میں بھی بڑے ہیں۔ اور خدا کے رسولﷺ نے اپنی زندگی میں ان کو نماز پڑھانے کا حکم دیا تھا۔

نوٹ: اس حدیث سے اس شکر رنجی کی وجہ واضح ہوگئی۔ جو بعض روایات میں آئی ہے اور جس کو بعض لوگ بڑے طمطراق سے عوام میں بیان کرتے رہتے ہیں اور دعوے کرتے ہیں کہ اس ناراضگی کی وجہ اپنا استحقاق خلافت ہے۔ الحمد للّٰہ کہ خود سیدنا علیؓ نے واضح کر دیا کہ ہماری شکر رنجی اس واسطے نہیں کہ ہم خلافت کے مستحق ہیں اور سیدنا ابوبکرؓ خلافت کے اہل نہیں ہیں بلکہ اس کی وجہ صرف یہ ہے کہ ہمارے مشورے کے بغیر انتخاب خلیفہ کیوں ہوا ہے؟ انتخاب خلیفہ کے وقت ہم بھی موجود ہوتے اور سب سے پہلے بیعت کرنے والے ہم ہوتے۔ اس چیز کے فوت ہو جانے کا غم تھا۔ جو سیدنا علیؓ اور سیدنا زبیرؓ کے ملال خاطر اور شکر رنجی کا باعث تھا۔ اسی چیز کو واضح کرنے کے لئے ارشاد فرمایا کہ ہم خلافت کا حق دار سیدنا ابوبکرؓ کو جانتے ہیں۔ اور دو عدد گواہ بھی پیش کر دیئے۔

 پہلا گواہ: اس صفت کو بنایا جو آیت غار میں خدا تعالیٰ نے ثانی اثنین کی صورت میں نازل فرمائی تھی۔ 

دوسرا گواہ:اس امامت نماز کو بنایا جو خدا کے رسولﷺ کے حکم سے آپ کی زندگی میں عمل میں آئی تھی۔ 

حدیث5: سیدنا علیؓ خدا تعالیٰ کے دربار میں اپنے عقائد حقہ پیش کر کے دعا مانگ رہے ہیں:

 اللَّهُمَّ إِنِي اُشْهِدُكَ وَكَفَىٰ بِكَ شَهِيدًا فَا شُهَدلِیْ أَنَّكَ رَبِّي وَأَنْ مُحَمَّد صلى اللّٰه عليه وسلم رَسُولُكَ نَبِيَّ وَالْأَوْصِيَاءُ مِنْ بَعْدِهِ اَںِٔمَّتِي۔

(دیکھو صحیفہ علویہ مطبوعہ نجف اشرف صفحہ 37)

 ترجمہ: خدایا میں تجھے گواہ بناتا ہوں اور تیری گواہی کافی ہوتی ہے۔ پس تو اس بات پر گواہ ہو جا کہ تو میرا رب ہے اور اس بات پر بھی گواہ ہو جا کہ محمد جو کہ تیرا رسول ہے وہ میرا پیغمبر ہے اور اس بات پر بھی گواہ ہو جا کہ آپ کے بعد جو جانشین ہوئے ہیں وہ میرے امام ہیں۔

نوٹ:  اس حدیث میں جہاں سیدنا علیؓ نے خدا کے رب ہونے اور حضورﷺ کے پیغمبر ہونے کا قرار کیا ہے وہاں آپﷺ کے جانشینوں کو اپنا امام تسلیم کیا ہے۔ اور ظاہر ہے کہ ان جانشینوں میں پہلا نمبر سیدنا صدیقِ اکبرؓ، ابوبکر بن ابی قحافہؓ کا ہے۔ پس ان کو بھی امام تسلیم کر لیا گیا۔ میرے خیال میں سیدنا علیؓ نے سیدنا ابوبکر صدیقؓ کی تعریف کی انتہاء کر دی ہے انہیں وصی نبی اور امام خلق تسلیم کر لیا۔ 

سوال: بعض لوگ اس استدلال کے جواب میں کہتے ہیں کہ اس دعا میں جانشینوں سے مراد وہ گیارہ امام ہیں جو سیدنا علیؓ کی نسل سے ہوئے ہیں۔

جواب1: وہ گیارہ امام چونکہ سیدنا علیؓ کے بعد ہوئے ہیں اس لئے من بعدہٖ کی جگہ مِن بَعْدِی ہونا چاہیے تھا۔ ضمیر غائب محاورہ کے خلاف ہے۔ پس ضمیر غائب کا وجود اس جواب کو بے کار کر رہا ہے۔

 جواب2: اس دعا میں لفظ اَںِٔمَّۃَ کی اضافت یائے متکلم کی طرف اعلان کر رہی ہے کہ وه جانشین گیارہ امام نہیں ہو سکتے۔ کیونکہ سیدنا علیؓ ان کے امام ہیں اور وہ مقتدی ہیں۔ کوئی عقلمند آدمی یوں نہیں کہہ سکتا کہ سیدنا علیؓ کے گیارہ بیٹے آپ کے امام ہوئے ہیں اور آپ ان کے مقتدی تھے۔

صفحہ 2 از 5