سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ، سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے…

سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ، سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے عقیدہ میں

  علامہ ڈاکٹر خالد محمود رحمہ اللہ

صفحہ 1 از 5

سیدنا ابوبکر صدیقؓ ، سیدنا علیؓ کے عقیدہ میں

حدیث1: سیدنا علیؓ اپنے ایک مکتوب میں لکھتے ہیں:

 وَكَانَ أَفْضَلَهُمْ فِي الْإِسْلَامِ كَمَا زَعَمْتَ وَانْصَحَهُمُ لِلّٰهِ وَلِرَسُولِهِ الخَلِيفَةُ الصِّدِّيقُ وَخَلِيفَةُ الْخَلِيفَةِ الْفَارُوقُ، وَلَعَمُرِي إِنَّ مَكَانَهُمَا فِي الْإِسْلَامِ لَعَظِيم وَإِنَّ الْمُصَابَ بِهِمَا لِجُرْحٌ فِي الْإِسْلَامِ شَدِيْدٌ يَرْحَمُهُمَا اللّٰهُ وَجَزَاهُمَا بِأَحْسَنِ مَا عَمِلا۔

(دیکھو شرح نہج البلاغہ از ابنِ میثم بحرانی صفحہ 486 سطر 6 مطبوعہ تہران)

ترجمہ: اے معاویہؓ جیسا کہ تو نے کہا واقعی اسلام کے اندر آنحضورﷺ کا خلیفہ صدیقؓ اور اس کا خلیفہ فاروقؓ سب سے افضل تھے اور سب سے زیادہ خدا اور رسولﷺ کے خیرخواہ تھے اور اپنی زندگی کی قسم کھاکر کہتا ہوں کہ ان دونوں کا درجہ اسلام میں بہت بڑا درجہ ہے، اور بلا تحقیق ان دونوں پر مصاںٔب آئیں تو اسلام میں زخم کاری آتا ہے۔ خدا ان دونوں پر رحمت کرے اور انہیں انکے نیک کاموں کا بدلہ دے۔ 

 نوٹ: اس مکتوب شریف میں سیدنا علیؓ نے جن باتوں کا اقرار فرمایا ہے زمانہ حال کے مدعیان تو لائے سیدنا علیؓ ان کے ماننے سے قاصر ہیں۔ پانچ باتیں اس مکتوب شریف کا طرۂ امتیاز ہیں-

  1. سیدنا ابوبکر صدیقؓ آنحضورﷺ کے خلیفہ برحق کے تھے اور سیدنا عمر فاروقؓ ان کے خلیفہ برحق تھے۔
  2. سیدنا ابوبکر صدیقؓ تمام مسلمانوں سے افضل تھے اور ان کے بعد سیدنا عمرؓ سب سے افضل تھے۔ 
  3. سیدنا ابوبکر صدیقؓ خدا اور رسولﷺ کے سب سے زیادہ خیر خواہ تھے اور اسی طرح سیدنا عمر فاروقؓ بھی تھے۔
  4. دین اسلام کے اندر سیدنا ابوبکر صدیقؓ کا درجہ بہت بلند تھا اور ان کے بعد سیدنا عمر فاروقؓ اس مقام پر تھے۔
  5. دین اسلام اور سیدنا ابوبکر صدیقؓ میں کامل اتحاد تھا۔ یہاں تک کہ ایک کا نقصان دوسرے کا نقصان تھا۔

آپ نے مندرجہ بالا پانچ باتوں کا اقرار کرنے کے بعد دعائے رحمت کا آپ کو ہدیہ بھیجا۔ پس انصاف اور دیانتداری کا تقاضا یہ ہے کہ ہم جو کہ سیدنا علیؓ کے نام لیوا اور عقیدت مند ہیں۔ سیدنا ابوبکر صدیقؓ کے حق میں مندرجہ مکتوب کی پانچ حقیقتوں کا کھلے دل سے اقرار کریں اور سیدنا ابوبکر صدیقؓ پر شب و روز شکریہ کے طور پر ہدیہ رحمت بھیجا کریں۔ مگر کیا کیا جائے اور کیا لکھا جائے اور ابنائے زمانہ کی شکایت کس کے سامنے رکھی جائے کہ جس ہستی کے ذکر کے ساتھ سیدنا علیؓ ہدیۂ رحمت بھیجتے تھے آج کل کے عاشق صادق اس ہستی پر رحمت کی ضد استعمال کرتے ہیں اور اس کام کو بہشت میں داخل ہونے کا ذریعہ تصور کرتے ہیں۔ 

ببیں تفاوت ره از کجاست تا بکجا

سوال: بعض لوگ اس موقع پر لفظ كَمَا زَعَمْتَ کی آڑ میں یہ کہتے ہیں کہ سیدنا علیؓ کے عقائد اس طرح پر نہ تھے۔ آپ نے تو امیرِ معاویہؓ کے زعم کو بیان فرمایا ہے۔

جواب1: اس میں کوئی شبہ نہیں ہے کہ آپ کا یہ مکتوب سیدنا امیر معاویہؓ کے ایک مکتوب کا جواب ہے جو مندرجہ بالا صفحہ سے پہلے صفحہ پر مرقوم ہے۔ لیکن سیدنا علیؓ کے مکتوب شریف میں غور کرنے سے واضح جاتا ہے کہ آپ سیدنا امیر معاویہؓ کے مکتوب کی بعض چیزوں کی تصدیق کر رہے ہیں اور بعض چیزوں کی تردید فرما رہے ہیں۔ دیکھو سیدنا امیر معاویہؓ نے اپنے مکتوب میں حسد کا ذکر کیا ہے مگر سیدنا علیؓ نے جواب میں فرمایا کہ میں نے حسد نہیں کیا۔ نیز امیر معاویہؓ نے بیعت سے تخلف کا ذکر کیا ہے مگر سیدنا علیؓ نے اس کی بھی تردید کی ہے۔ حضراتِ شیخینؓ کی افضلیت قابل تردید نہ تھی اس لیے تصدیق کر دی ہے۔ بلکہ جوابی مکتوب میں جو لفظ كَمَا زَعَمْتَ تحریر فرمایا ہے تو اس سے غرض یہ ہے کہ اے معاویہؓ شیخینؓ کی افضلیت کا جو یقین مجھے حاصل ہے وہ تجھے حاصل نہیں ہے۔ تیرے پاس تو گمان ہی گمان ہے اور تیرا علم محض ظن ہے۔ ان کی افضلیت کا یقین ہمارے پاس ہے۔ اسی واسطے میں ان کے طریق اور روش پر مضبوطی سے قائم ہوں اور تم ان کے طریق پر عمل پیرا نہیں ہو۔ 

جواب2: سیدنا امیر معاویہؓ کے مکتوب میں سیدنا ابوبکرؓ اور سیدنا عمرؓ کے لئے صدیق اور فاروق دونوں القاب موجود نہیں ہیں۔ سیدنا علیؓ نے ان القاب کا اضافہ کیا ہے۔ یہ اضافہ اس بات کی واضح دلیل ہے کہ سیدنا علیؓ افضلیت کے عقیدہ میں امیر معاویہؓ سے بہت آگے ہیں۔ اور اگر ناظرین سیدنا علیؓ کے جملہ قسمیہ اور اس کے دونوں جوابات قسم کو غور سے دیکھیں گے تو انہیں اس بات کا حق الیقین ہوجائے گا کہ افضلیت کا عقیدہ سیدنا علیؓ کا خاص عقیدہ مکتوب الیہ کی ترجمانی یا الزام کے قبیل سے نہیں کیونکہ سیدنا امیر معاویہؓ کے مکتوب میں جملہ قسمیہ اور اس کے دونوں جوابات سرے سے موجود ہی نہیں ہیں۔

حدیث2: سیدنا علیؓ کے ایک اور مکتوب کا اقتباس ملاحظہ ہو:

ثُمَّ إِنَّ الْمُسْلِمِينَ مِنْ بَعْدِهِ اسْتَخْلَفُوا اَمِيرَيْنِ مِنْهُمْ صَالِحَيْنِ فَعَمِلَا بِالْكِتَٰبِ وَالسُّنَّةِ وَاحْسَنَا السِيْرَةَ وَلَمْ يَعُدُ والسُّنَةَ ثُمَّ تُوفّيَا رَحَمِهُمَا اللهُ۔

(شرح حدیدی،نہج البلاغہ جلد اوّل جزو ششم صفحہ 295)

ترجمہ: پھر آنحضورﷺ کے بعد تمام مسلمانوں نے یکے بعد دیگرے دو بزرگوں کو خلیفہ مقرر کیا جو نہایت نیک کردار تھے۔ پس ان دونوں نے قرآن اور سنت رسولﷺ پر عمل کیا اور طرزِ حکومت کو خوبصورت بنایا اور طریقۂ رسولﷺ سے ذرہ بھر تجاوز نہ کیا۔ اس کے بعد فوت ہوئے۔ خدا تعالیٰ ان دونوں پر اپنی رحمت نازل کرے۔

نوٹ: سیدنا علیؓ نے اپنے اس مکتوب شریف میں بھی پانچ باتوں کا اعتراف کیا ہے۔

صفحہ 1 از 5