آخر حق کس کے پاس؟؟؟ داستانِ ہدایت حضرت مولانا عرفان حیدر…

آخر حق کس کے پاس؟؟؟ داستانِ ہدایت حضرت مولانا عرفان حیدر عابدی

  مولانا اشتیاق احمد ، مدرس دارالعلوم دیوبند

صفحہ 4 از 5

 *میں نے اپنے بیٹے فضل عباس  سے کہا بیٹا! میں سنی ہو چکا ہوں میں حضرت صدیقؓ کے دروازے پر چلا گیا ہوں میرا ساتھ دو گے یا نہیں اس نے کہا ابا جان! تیرا دماغ خراب تو نہیں ہوگیا تم اپنے بابے کے دروازے کو چھوڑ کر ابوبکر کے دروازے پر چلے گئے ہو،میں نے کہا بیٹا صرف میں نہیں گیا اس دروازے پر تو میرا بابا حضرت علیؓ بھی گیا تھا،دوستو میرا بیٹا بھی میرے خلاف ہو گیا میں نے اپنی بیوی کو جب کہا اس نے جواب دیا کہ تم نے اپنی نسل کو بد نام کر دیا خاندان پر داغ لگا دیا کہ تم سنی ہو چکے ہو* ،نسل سے آج تک کوئی سنی نہیں ہوا،میری بیوی میرے خلاف ہوگئی ۔

♦️*سنی ہونے کا اعلان* ♦️

دوستوں! علماء سے میرا تعلق نہیں تھا حضرت تونسوی صاحب حج پر گئے ہوئے تھے ادھر قریب ہی ایک مدرسہ میں ایک مولوی صاحب کے پاس علامہ تونسوی صاحب آیا کرتے تھے تو میں نے اس مولوی صاحب سے رابطہ کیا کہ  یہ میرا تعارف ہے اور میں سنی ہونے کا اعلان کرتا ہوں وہ مجھے جامعہ اشرفیہ لاہور لے گیا *،شیخ الحدیث حضرت مولانا مالک کاندھلوی کے پاس لے آیا* وہاں میں نے 9اگست 1984ء میں پریس کانفرنس کی اور میں نے سنی ہونے کا اعلان کیا تو یہ خبر نوائے وقت میں چھپی امید ہے کہ تم نے پڑھی ہوگی پھر 12 اگست کو دوبارہ پریس کانفرنس کی اور سنی ہونے کا اعلان کر دیا۔

♦️*اغواء* ♦️

21 اگست کو شیعوں نے مجھے اغوا کر لیا آپ کو علم نہیں اس بات کا *مجھ سے پوچھو کہ اسلام کی کیا قدر ہے۔* 

 *مجھ سے پوچھو سنی مسلک قبول کرنے کی کیا قدر ہے* ۔

 *مجھ سے پوچھو صدیق اکبرؓ کے احترام کرنے کی کیا قدر ہے* ۔

 *مجھ سے پوچھو عمر فاروقؓ کی محبت کی کیا قدر ہے۔* 

 *مجھ سے پوچھو عثمان غنیؓ کی قدر کرنے سے کیا ملتا ہے۔*

*مجھ سے پوچھو اماں عائشہؓ کے دوپٹے کی حفاظت کرنے سے کیا ملتا ہے۔* 

میرے دوستوں مجھے اغوا کرکے اسی مدرسہ المنتظر میں لایا گیا جہاں میں نے تعلیم حاصل کی،وہاں مجھے لٹکا دیا گیا میرے بائیں طرف تشدد کیا گیا مجھے ہوش نہ رہا میں خانہ خدا میں کھڑا ہوں مجھے پاخانہ پیشاب کا پتہ تک نہ تھا میرے اوپر پلاسٹک کے ہنٹر کے ساتھ تشدد کیا،اور مجھے کہا گیا *عابدی! کیسٹ بھر دے تحریر لکھ دے ہم چھوڑ دیں گے۔میں نے کہا مر سکتا ہوں۔۔۔کٹ سکتا ہوں،صحابہؓ کا دامن نہیں چھوڑسکتا ٹکڑے ٹکڑے ہو سکتا ہوں مگر امی عائشہ کے دوپٹہ کی پاکستان کے چپہ چپہ میں وکالت کروں گا،چپہ  چپہ پر بتاؤں گا کہ عائشہ صدیقہؓ کا گستاخ پاکستان میں نہیں رہ سکتا،شیعہ کافر ہے کل بھی کہا تھا آج بھی کہتا ہوں شیعہ کافر ہے،بلکہ شیعہ مرتد ہے کافروں سے بدتر ہے۔* 

♦️ *المنتظر سے منتقلی* ♦️

میرے دوستو علامہ احسان الہی ظہیر مرحوم میرے دوست تھے میرے ساتھ ان کے تعلقات تھے شیعہ ہونے کی حالت میں ان کے لٹریچر کا مطالعہ کرتا تھا،جس وقت میرا گمان بھی نہیں تھا سنی ہونے کا تو انہوں نے پریس کانفرنس کی اور اعلان کیا کہ اگر عرفان عابدی کو تین دن کے اندر واپس نہ کیا تو جامعہ المنتظر کو آگ لگا دوں گا تو آج کل آئی جی مرزاجہانگیر ہے،اس نے غلام حسین نجفی کو فون کیا اگر تمہارے پاس عرفان عابدی ہے اس کو راتوں رات نکالو ہم نے کل جامعہ المنتظر کی تفتیش کرنی ہے تو راتوں رات مجھے بند کار میں لے کر سرگودھا بلاک نمبر7 کے امام باڑہ میں پہنچا دیا ہاں مجھے رات میں تو بلاک نمبر7 میں رکھا جاتا دن کو ایک مرتد ملا محمد حسین ڈھنکو اور غلام جعفر نجفی جو شیعوں کا مجتہد ہے اس کی کوٹھی پر رکھا جاتا تھا۔

♦️ *تشدد کی حد کردی* ♦️

پھر وہاں سے مجھے آئی ایس او کے اوباش لڑکوں کے حوالے کردیا اللہ کی قسم میں قرآن کو گواہ کر کے کہتا ہوں کہ پہاڑیوں پر مجھے کھڑا کر دیتے اور میرے کپڑے اتار دیتے اور ایک شلوار کے سوا جوتے بھی اتار دیتے ننگے بدن پہاڑی پر کھڑا کر دیتے اور مجھ پر تشدد اتنا کرتے کہ میں کہتا تھا اب ایک اور ماریں گے میں مر جاؤں گا۔

♦️*میری کیسی جرات* ♦️

وہ کہتے تھےعابدی! ہم تیرے بھائی ہیں ہم تیرے دوست ہیں کہ تم معافی مانگ لوتو بہتر ہے،اپنے بابے جیسا کسی کا بابا نہیں ہوتا میں نے کہا اتنا بتاؤ میرا بابا علی ہے میں مانتا ہوں مگر جب حضرت علیؓ نے اپنا ہاتھ صدیق اکبرؓ کے ہاتھ میں دے دیا تو میری کیسی جرات کہ میں صدیقؓ کو نا مانوں۔

دوستو پھر وہاں سے مجھے ڈھڈیال جامعہ جعفریہ میں حامد علی موسوی کے پاس لایا گیا وہاں میرا ویزا ایران جانے کے لیے تیار ہو چکا تھا کہ اسے ایران بھیج دو خمینی کی فوج میں مر جائے گا اور اس خاندان کی توہین ختم ہو جائے گی۔رات کے بارہ بجے میری امی جان میرے پاس آئے کہا بیٹا! آج رات آخری رات ہے معافی مانگ لو تمہیں معافی مل سکتی ہے کل تم ہم سے جدا ہو جاؤ گے اور ہم تم سے جدا ہو جائیں گے۔

میں نے کہا اماں جان !کیسے جدا ہوں گے؟انہوں نے کہا شیعہ ہوجا سدا ہمارے ساتھ رہے گا،اگر سنی رہا تو کل خمینی کی فوج میں ہوگا،میں نے کہا امی جان! میری آج بھی آواز ایک ہے کل بھی آواز ایک تھی میں مرسکتا ہوں ٹکڑے ٹکڑے ہو سکتا ہوں دوبارہ شیعہ نہیں ہو سکتا۔

♦️*مجھے آزاد کر* ♦️

صفحہ 4 از 5