آخر حق کس کے پاس؟؟؟ داستانِ ہدایت حضرت مولانا عرفان حیدر…

آخر حق کس کے پاس؟؟؟ داستانِ ہدایت حضرت مولانا عرفان حیدر عابدی

  مولانا اشتیاق احمد ، مدرس دارالعلوم دیوبند

صفحہ 2 از 5

میں نے کراچی میں انجمن سپاہ عباس بنائی تھی،اور پشاور میں انجمن سجادیہ بنائی تھی جس کا صدر آج سید بلال حسین بخاری ہے اور آج بھی وہاں موجود ہے۔ابھی ربیع الاول میں وہاں تقریر کرنے گیا تھا انجمن سجادیہ کا صدر ملا اور مجھے کہنے لگا کیا کہ عابدی صاحب وہ وقت تھا کہ آپ ہمیں اکٹھا کر رہے تھے کہ انجمن سجادیہ بنائی جائے،اور آج تم کہتے ہو کہ سپاہ صحابہؓ بنائی جائے۔

دوستوں! میں نے کہا " *وہ دور صدیق کی گستاخی کا تھا* "،وہ دور صحابہؓ کی گستاخی میں تھا،وہ دور اماں عائشہؓ کی توہین میں تھا،وہ دور نبیﷺ کی توہین میں تھا، *اور یہ دور صدیقؓ کی غلامی کا ہے، صحابہؓ کی محبت کا ہے* 

♦️ *عشرہ محرم* ♦️

کراچی شہر میں سیٹھ حبیب کے امام باڑہ میں جس پر سونے کا پانی لگا ہوا ہے میں اس کے پاس محرم کے دس دن مجالس پڑھتا تھا،مجھے دس دن کے وہ ساٹھ ستر ہزار دیتا تھا،اور میرے پاس  اس کا تحریر نامہ اب بھی سرگودھا میں موجود ہے اس میں تحریر ہے کہ ہرسال عشرہ محرم میں آپ کی فیس میں2000ترقی ہوگی۔

25000 شاہ نجف والے دیتے تھے،اور امام جعفر صادق سوسائٹی والے تین ہزار دیتے تھے یہ کتنا بنا؟حساب خود کر لیجئے۔

♦️ *ایمان لینے آیا ہوں* ♦️

مگر آپ سنیوں میں 500 کی بھی امید نہیں، نہیں۔۔۔ نہیں۔۔۔

 *میرے بھائی!* خدا کی قسم! پیسہ کی ضرورت ہوتی ادھر رہتا۔۔۔دولت کی ضرورت ہوتی۔۔۔  ادھر رہتا،متعہ کی ضرورت ہوتی۔۔۔۔ادھر رہتا، *اِدھر ایمان کی ضرورت ہے۔۔۔۔۔ اِدھر آخرت کی ضرورت ہے۔۔۔۔اِدھر نجات کی ضرورت ہے۔* 

 *رب کعبہ کی قسم!* اُدھر پیسہ تھا صدیقؓ کی گستاخی تھی۔۔۔۔سنیو! تم میں  پیسے نہیں مگر صدیقؓ کا ادب ہے۔۔۔اُدھر عمر فاروقؓ کی توہین تھی،اِدھر عمر فاروقؓ کی عزت ہے،۔۔۔۔اُدھر عثمان غنیؓ کی بے حیائی تھی،اِدھر عثمان غنیؓ کی حیا ہے۔۔۔۔اُدھر علی المرتضیؓ کو بزدل تقیہ باز کہا جاتا تھا،اِدھر علی المرتضیؓ کو حیدر کرار کہا جاتا ہے،اسداللہ شیر خدا کہا جاتا ہے۔۔۔۔اُدھر حضرت معاویہؓ کو گالیاں دی جاتی تھیں،اِدھر حضرت معاویہؓ کاتب الوحی کہا جاتا ہے۔۔۔۔۔اُدھر حضرت عائشہؓ کے دوپٹے کی توہین ہوتی تھی،اِدھر حضرت عائشہؓ کو حرم رسول ﷺکہا جاتا ہے اس کے دوپٹے کی حفاظت کی جاتی ہے۔

♦️ *نکاحِ متعہ* ♦️

میرے دوستوں!۔۔۔۔شیعہ کی ایک کتاب ہے اگر کوئی شیعہ ذہن کا مالک یا خمینی کا ایجنٹ ہو میں اس کو چیلنج کرتا ہوں میرا حوالہ غلط ثابت کر دے میرا پورے پاکستان کے شیعوں سے چیلنج ہے *بحار الانوار میں علامہ مجلسی نے لکھا ہے کہ حضرت عائشہ صدیقہؓ کے ساتھ محمد عربیﷺ کا نکاح نہیں ہوا تھا نکاح متعہ تھا(استغفر اللہ)* ۔

♦️ *کراچی میں پابندی اور بھکر میں منتقلی* ♦️

1983ء میں سیٹھ حبیب کے پاس کراچی میں میں نے یہ حوالہ مجلس پڑھتے ہوئے پیش کیا تو *مولانا سلیم اللہ خان صاحب،مولانا اسفند یار صاحب،مولانا عبدالمجید ندیم صاحب،مولانا عبدالشکور دین پوری نے* میرے خلاف تحریک چلائی تو مجھ پر کراچی میں پابندی لگ گئی،اور پھر میں کراچی سے بھکر منتقل ہو گیا اور وہاں مجلس پڑھنے لگا۔

♦️ *آج جشن ہوگا* ♦️

میرے دوستوں! یکم محرم گزر گیا دو محرم کو جب میں سٹیج پر پہنچا تو میری اسٹیج سیکرٹری ثمر نقوی نے کہا: عرفان عابدی صاحب! آج مجلس نہیں ہوگی آج جشن  ہوگا میں نے کہا۔۔۔۔۔ *اتنا تو بتاؤ آج جشن کس کا مناتے ہو آج تو عزاداری  ہے۔۔۔۔غم ہے۔۔۔افسوس ہے۔۔۔آج تو امام حسینؓ کا ماتم ہے۔*

اس نے کہا۔۔۔۔ عابدی صاحب تمہیں علم نہیں؟

میں نے کہا ۔۔۔۔ علم تو مجھے ہے ذرا تم ہی بتادو۔

اس نے کہا۔۔۔۔۔ہمارے بھکرمیں یہ جشن منایا جاتا ہے کہ جس نے محمد عربیﷺ کا جنازہ چھوڑا تھا۔۔۔۔حضرت فاطمؓہ کو خالی واپس کیا تھا۔۔۔۔جس نے حضرت محسن کو شہید کیا تھا۔۔۔۔اس تاریخ کو چونکہ اس کا قتل ہے اس لیے ہم اس کا جشن مناتے ہیں۔

میں نے کہا۔۔۔وہ کون ہے؟ اس کا نام کیا ہے؟

کہنے لگا ۔۔۔وہ عمرؓ ہے۔

میں نے کہا ۔۔۔اتنا بتاؤ کہ تمہاری *کتابوں میں لکھا ہے کہ سیدنا حضرت حسینؓ کا نکاح شہر بانو  سے سیدنا فاروق اعظمؓ نے کروایا تھا،اگر نکاح کرانے والا بے ایمان ہے تو نکاح نہیں ہوا تو آج کی شیعہ سید حلال زادہ نہیں*۔

♦️ *شیعہ کا قرآن* ♦️

 *سنیو! میں اس قرآن پر ہاتھ رکھ کر کہتا ہوں یہ قرآن تو ہے سنیوں والا!* شیعوں والا قرآن تو پکڑا گیا ہے وہ تو حکومت کے پاس ہے اب بھی ضیاءالحق نہ جانے تو اس کی مرضی،( *نوٹ:-*ایرانی حکومت نے اس موجودہ قرآن میں ردوبدل کرکے کمی بیشی کر کے ایک قرآن شائع کیا پھر اس کو پاکستان بھی بھیجا مگر حکومت کو پتہ چل گیا تو حکومت نے اس کے نسخے اپنے قبضے میں لے لیے گئے اس کی طرف اشارہ ہے۔)

♦️*مجسمہ جلا دیا* ♦️

میرے دوستو! میں ان کو منع کرتا رہا مگر انہوں نے سیدنا فاروق اعظمؓ جس کے لیے کسی مفتی کے ہاتھ نہیں اٹھے،کسی مسجد کے ہاتھ نہیں اٹھے،کسی مرشد کے ہاتھ نہیں اٹھے،بلکہ جس کے لیے محمد عربیﷺ کے ہاتھ اٹھے تھے،اس سیدنا فاروق اعظمؓ کا مجسمہ میرے سامنے لا کر اس کو آگ لگا دی اس کو جلا دیا۔

♦️ *اسٹیج چھوڑ دیا* ♦️

میرے دوستو میں نے کہا کہ میرا عقیدہ کہتا ہے میرا مذہب کہتا ہے، میری فقہ کہتی ہے،ایرانی انقلاب کہتا ہے،خمینی کہتا ہے،آیت اللہ مطھری کہتا ہے،آیت اللہ ابوالحسن کہتا ہے یہ سب کہتے ہیں مگر میرا دل نہیں کہتا محمد کے ساتھ سونے والوں کے آج تم مجسمے جلاؤ حضرت علیؓ کے نکاح کے گواہوں کے تم مجسمے جلاؤ،آج تو عزاداری ہے،ماتم ہی غم ہے، افسوس ہے،جشن کیسا اس وقت میں نے اسٹیج چھوڑ دیا۔

♦️*علامہ عبدالستار تونسوی کی خدمت میں * ♦️

صفحہ 2 از 5