شیعہ کی من گھڑت عید مباہلہ کی حقیقت - ردِ رافضیت | دفاع…

شیعہ کی من گھڑت عید مباہلہ کی حقیقت

  محقق کبیر مولانا نافع رحمہ اللہ

صفحہ 2 از 3

جیسا کہ صاحبزادیوں کے حالات میں بیان کیا گیا اس بنا پر ان صاحبزادیوں کا واقعہ ہذا میں شامل نہ ہونا ایک ظاہر بات ہے لہذا اس موقع پر صرف ایک حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہ زندہ تھیں اور انہیں ساتھ لے لیا گیا نیز یہ چیز بھی قابل لحاظ ہے کہ خواتین میں سے صرف حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کا روایت میں ذکر کیا جانا اور مردوں میں سے صرف حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ کا ذکر کیا جانا اور اسی طرح حضرات حسنین کریمین رضی اللہ عنہ کے ذکر کیے جانے سے اس وقت میں شامل باقی خواتین اور دیگر حضرات کی نفی لازم نہیں آتی دوسرے لفظوں میں روایت مذکورہ میں ان حضرات کا ذکر کیا جانا دیگر حضرات کی نفی کو مستلزم نہیں ہے اور عدم ذکر الشی سے عدم وجود الشی لازم نہیں آتا۔

چنانچہ اس موقع کی دیگر روایات میں سے ایک روایت یہ

  وأخْرَجَ ابْنُ عَساكِرَ عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ عَنْ أبِيهِ ﴿تَعالَوْا نَدْعُ أبْناءَنا﴾ الآيَةَ قالَ فَجاءَ بِأبِي بَكْرٍ ووَلَدِهِ وبِعُمَرَ ووَلَدِهِ وبِعُثْمانَ ووَلَدِهِ وبِعَلِيٍّ ووَلَدِهِ.
تاريخ مدينة دمشق وذكر فضلها وتسمية من حلها من الأماثل، أبي القاسم علي بن الحسن إبن هبة الله بن عبد الله الشافعي ( متوفای571)، دار النشر: دار الفكر - بيروت - 1995، تحقيق: محب الدين أبي سعيد عمر بن غرامة العمري، ج39، ص177

مطلب یہ کہ ہم امام جعفر صادق رحمہ اللہ اپنے والد گرامی امام محمد باقر رحمہ اللہ سے ذکر کرتے ہیں

"نبیﷺ ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کو ان کی اولاد سمیت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کو ان کی اولاد سمیت اور عثمان غنی رضی اللہ عنہ کو ان کی اولاد سمیت اور علی المرتضیٰ رضی اللہ ان کی اولاد سمیت موقع مباہلہ پر بلا کر ساتھ لائے"

نوٹ: یہ مستند روایت نہیں ہے۔

 نیز علماء کرام نے یہ ایک اور روایت حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے نقل کی ہے کہ

عن عمر رضی اللہ عنہ قال رسولﷺ لولا عنتھم یا رسول اللہ بیدمن کنت تاخذ قال صلی علیہ آخذبیدعلی فاطمة والحسن والحسین وعائشة وحفصِة

تفسیر در منثور ج6 ص40

سیرة الحلبیہ ج3 ص240

تفسیر روح المعانی ج3 ص190

تفسیر شوکانی ج 1ص348

اس روایت کا مفہوم یہ ہے کہ ایک دفعہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے نبی محمدﷺ کی خدمت میں عرض کیا کہ رسول ﷺ نے نجران والوں کے ساتھ مباہلہ کرتے اور بد دعا فرماتے تو آپ کن کن لوگوں کا ہاتھ پکڑ کر مباہلہ کی بد دعا فرماتے تو جناب رسولﷺ نے فرمایا کہ

"میں علی فاطمہ حسن حسین عائشہ اور حفصہ رضی اللہ عنہم اجمعین کا ہاتھ پکڑ کر مباہلہ کرتا"

مندرجات بالا کی روشنی میں یہ واضح ہوا کہ

١۔ حضرت علی کے علاوہ حضرت ابوبکر حضرت عمر اور حضرت عثمان رضی اللہ عنہم اجمعین تینوں حضرات کو بھی اس موقع پر مع ان کی اولاد کے بلا لیا گیا تھا اور مباہلہ کی تیاری میں یہ تمام حضرات مدعو تھے اگر مباہلہ کا عملی اقدام ہوتا تو حضرت علی اور ان کی اولاد کے ساتھ ساتھ یہ تینوں حضرات بھی مع اولاد کے شامل ہوتے

٢۔ ۔اسی طرح خواتین میں سے حضرت فاطمہ کے علاوہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا اور حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا کو بھی اس موقع پر شامل کیا جانا منظور خاطر تھا اور اگر مباہلہ کا عملی اقدام ہوتا تو حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا اور حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا کو بھی ساتھ لیا جاتا معلوم ہوا کہ واقعہ مباہلہ میں شیعہ حضرات نے جو ایک عدد روایات کو سامنے رکھ کر تخصصات قائم کیے وہ بالکل بے جا ہیں اور اس سے رسولﷺ کی صرف ایک صاحبزادی ہونے یا صرف ایک داماد ہونے کا جو اس دن میں ذکر کیا ہے وہ کسی پہلو سے درست نہیں ہے اس کو غلو عقیدت کا ہی نتیجہ کہا جا سکتا ہے، اور کی تحریف ہے بس

خلافت علی بلا فصل پر شیعہ کا استدلال

اس دور کے شیعہ حضرات نے واقعہ مباہلہ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صرف ایک حقیقی صاحبزادی ہونے پر استدلال کیا ہے اور ہم نے اس استدلال کی خفت اور کمزوری گزشتہ سطور میں واضح طور پر بیان کر دی ہے اور شیعہ کے سابقہ علماء اس واقعہ سے حضرت علی رضی اللہ عنہ کی خلافت بلافصل پر استدلال کرتے رہے ہیں حالانکہ وہ بھی اپنی جگہ بے جا اور غیر موضوع استدلال ہے اور کچھ وقعت نہیں رکھتا وجہ یہ ہے کہ

١۔ ۔آیت مباہلہ میں تو مسئلہ خلافت کا ذکر تک موجود نہیں اور روایات مباہلہ میں بھی مسئلہ خلافت کے متعلق کلام نہیں پایا گیا وہاں اس کا فقدان ہے نیز یہ بات بھی ہے کہ آیت مباہلہ یا آیت مباہلہ سے خود حضرت علی رضی اللہ عنہ نے اپنی خلافت بلا فصل پر استدلال کیا ہے اور نہ ہی کبھی اس کا دعویٰ کیا ہے، 

البتہ یہ بات کہی جا سکتی ہے کہ رسول ﷺ نے مباہلہ کی تیاری میں حضرت علی رضی اللہ عنہ ان کے صاحبزادوں اور حضرت فاطمہ الزہرا رضی اللہ عنہا کو مدعو کرنے کی عزت بخشی اور یہ اعزاز اپنی جگہ فضیلت کی چیز ہے جس کے ہم قائل ہیں اور ساتھ ہی ساتھ دیگر روایات کی رو سے جن کا ذکر اوپر گزر چکا ہے حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا اصحاب ثلاثہ حضرت عائشہ صدیقہ اور حضرت حفصہ امہات المومنین رضی اللہ عنہما بھی شرف دعوت سے مشرف ہوئے تھے لہذا ان تمام حضرات کا احترام اور شرف بھی لائک لحاظ اور قابل قدر ہے

٢۔ ۔اگر آیت مباہلہ کے لفظ انفسنا سے بقول شیعہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کی ذات مراد لی جائے اور نفس رسولﷺ کا قرار دیا جائے اور رسول اللہ کی جمیل صفات نبوت میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کے لئے مساوات تسلیم کی جائے تو حضرت علی رضی اللہ عنہ نبوت رسالت ختم نبوت اور بعثت الی کافة الخلق وغیرہ صفات سے متصف تسلیم کرنا پڑے گا اور یہ بالکل باطل اور خلاف واقعہ ہے

بصورت دیگر حضرت علی رضی اللہ عنہ کی رسول اللہﷺ کی بعض صفات میں مساوات تسلیم کی جائے کوئی مفید ہی نہیں اور نہ ہی اس سے اصل مقصد کا اثبات ہو سکتا ہے

اسی طرح اگر بالفرض آیت مباہلہ کو حضرت علی رضی اللہ عنہ کی خلافت و امامت کی دلیل قرار دیا جائے تو یہ لازم آئے گا کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات مبارکہ میں ہی رسول ﷺ کے خلیفہ اور یہ بھی صحیح نہیں اور واقعات کے خلاف ہے پس آیت مذکورہ میں لفظ "انفسنا" سے اہل قرابت ہم نسب ہم ملت اور اپنی جماعت کے افراد مراد ہیں

صفحہ 2 از 3