خلفائے ثلاثہ رضی اللہ عنہم کے دور خلافت میں شرعی اور ملکی…

خلفائے ثلاثہ رضی اللہ عنہم کے دور خلافت میں شرعی اور ملکی مسائل میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ ان کے خاص مشیر تھے

  علامہ مولانا عبد الرحیم بھٹو

صفحہ 3 از 3

⁴-سیدنا عمر فاروقؓ نے جب غزوۂ روم میں خود جانے کے لئے، سیدنا علیؓ سے مشورہ لیا تو انہوں نے سیدنا عمرؓ کو روکا۔ اور فرمایا کہ آپ خود نہ جائیں، کیونکہ آپ مسلمانوں کے مرجع اور قوت ہیں۔ آپ کے جانے بعد خدانخواستہ اگر آپ کو کچھ ہوگیا تو مسلمانوں کی قوت منتشر ہو جائے گی اور ان کے لئے کوئی مرجع نہ ہوگا، جہاں وہ پناہ لے سکیں اور جہاں سے وہ مزید کمک حاصل کرسکیں۔ اس لئے آپ کے جانے سے قومی، ملکی اور جانی نقصان ہوگا۔کسی دوسرے تجربہ کار کو بھیج دیں۔ آپ مدینہ طیبہ میں رہ کر ان کی کمان کریں۔سیدنا عمرؓ نے اسی مشورہ پر عمل کیا۔ سیدنا علیؓ نے جب سیدنا فاروقِ اعظمؓ کو تین باتوں کی نصیحت کی تو انہوں نے ان تینوں باتوں کو بخوشی قبول کیا اور ان پر عمل کیا۔

⁶-سیدناعمرؓ فاتحِ ایران و روم ہیں۔ اس لئے شیعوں کو چاہیئے کہ ان کے ساتھ بغض اور دشمنی کے بجائے محبت، عزت و احترام کا معاملہ کریں اور ان کو ہمیشہ دعائے خیر سے یاد کرتے رہیں۔ کیونکہ جس ملک (ایران) میں یہ رہتے ہیں، وہ امیر المؤمنین سیدنا  عمر فاروقؓ کا مفتوحہ ملک ہے۔

⁷-نہج البلاغہ کے خطبہ میں سیدنا علیؓ نے سیدنا عمرؓ کو رِدْ أٌلِلنَّاسِ (یعنی لوگوں کے وہی وصف ہے جو حضرت موسیٰ علیہ السلام اپنی دعا میں، اپنے بھائی حضرت ہارون علیہ السلام کے لئے اللہ پاک سے طلب کر رہے ہیں۔ فَاَرْسِلْهُ مَعِيَ رِدْاً يُّصَدِّقُنِيْۤ(سورۃ القصص) یعنی ہارون علیہ السلام کو میرا مددگار بناکر بھیج جو میری تصدیق کرے اور کعبۃ اللہ کے بارے میں ارشادِ ربانی ہے کہ مَثَابَةً لِّلنَّاسِ (یعنی لوگوں کے لئے مرجع) عجیب بات تو یہ ہے کہ یہ دونوں الفاظ رِدْاً اور مَثَابَةً قرآن کریم میں صرف ایک ایک مرتبہ آئے ہیں۔ کسی دوسرے کے لئے قرآن میں ان کا استعمال نہیں آیا۔ سیدنا علیؓ نے یہ دونوں الفاظ سیدنا عمر فاروقؓ کے لئے ہی استعمال کیے ہیں۔ اس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ سیدنا علی المرتضیٰؓ، سیّدنا عمر فاروقؓ کو بہت اعلیٰ مرتبہ پر فائز سمجھتے تھے اور ان کی دل و جان سے عزت کرتے تھے۔ ان سے والہانہ محبت و عقیدت رکھتے تھے ان کی شان میں بہترین کلمات کے ساتھ تعریف بھی کرتے تھے اور اچھے سے اچھا مشورہ دے کر سیدنا فاروق اعظمؓ کو خوش بھی کرتے تھے۔ اِسی طرح سیدنا ابوبکرؓ و عثمانؓ کے ساتھ بھی سیدنا علیؓ تہہ دل سے خوش رہتے تھے۔ اب یہ حقیقت کھل کر سامنے آگئی کہ خلفائے ثلاثہؓ اور سیدنا علی المرتضیٰؓ کے درمیان ایسی کوئی چیز حائل نہیں جو ایک دوسرے سے جدا کرے۔ بلکہ یہ حضرات ایک دوسرے پر جان نچھاور کرتے تھے اور قرآنی آیت رُحَمَآءُ بَيْنَهُمْ کے حقیقی مصداق تھے۔


صفحہ 3 از 3