خلفائے ثلاثہ رضی اللہ عنہم کے دور خلافت میں شرعی اور ملکی…

خلفائے ثلاثہ رضی اللہ عنہم کے دور خلافت میں شرعی اور ملکی مسائل میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ ان کے خاص مشیر تھے

  علامہ مولانا عبد الرحیم بھٹو

صفحہ 2 از 3

(فروع کافی جلد، 7 صفحہ 214 کتاب الحدود مطبوعہ ایران عکس صفحہ 173)

(شیعہ مکتبہ شاملہ: الكافي الكليني (7/ 302))

حضرت جعفر صادقؒ فرماتے ہیں کہ حضرت عمرؓ کے دورِ خلافت میں، دو مردوں نے آپس میں بدفعلی کی۔ ان میں سے ایک تو بھاگ گیا اور دوسرا پکڑا گیا، جسے حضرت عمرؓ کے سامنے پیش کیا گیا۔ حضرت عمرؓ نے اس کی سزا کے متعلق صحابہ کرامؓ سے مشورہ کیا۔ ہر ایک نے مختلف رائے دی۔ جب حضرت علیؓ سے مشورہ طلب کیا گیا تو انہوں نے فرمایا:

ایسے شخص کی گردن اڑائی جائے۔ چنانچہ اسی پر عمل کیا گیا۔ جب اس کی لاش اٹھانے لگے تو حضرت علیؓ نے فرمایا کہ ٹھہرو! ابھی اس کی سزا کچھ باقی ہے۔ دریافت کیا گیا کہ وہ کیا ہے؟ انہوں نے فرمایا کہ لکڑیاں جمع کی جائیں۔ جب لکڑیاں جمع ہوگئیں تو آپ نے اس کی لاش لکڑیوں میں رکھوا کر اس کو جلوا دیا۔

¹- فروع کافی جلد7 صفحہ 199 کتاب الحدود۔ مطبوعہ ایران

²-الاستبصار جلد4 صفحہ 219 کتاب الحدود مطبوعہ ایران

ومن كلام له عليه السلام وقد شاوره عمر بن الخطاب في الخروج إلى غزو الروم إنك متى تسر إلى هذا العدو بنفسك فتلقهم بشخصك فتنكب لا تكن للمسلمين كانفة دون أقصى بلادهم ليس بعدك مرجع يرجعون إليه ٍفابعث إليهم رجلا محربا ، واحفز معه أهل البلاء والنصيحة فإن أظهر الله فذاك ما تحب ، وإن تكن الاخرى كنت ردءا للناس ومثابة للمسلمين 

 جب فاروقِ اعظم نے غزوہ روم میں خود جانے کے لئے مشورہ کیا تو سیدنا علیؓ نے فرمایا کہ: اگر آپ ان کی طرف گئے۔ ان کے ساتھ جنگ ہوئی اور آپ کو چکھ ہوگیا (زخمی یا شہید ہوگئے) تو پھر مسلمانوں کے لئے ملک کے آخری شہروں تک کوئی پناہ کی جگہ نہیں ہے جس کی طرف مسلمان رجوع کریں۔ اس لئے آپ دشمن کی طرف کسی (دوسرے) تجربہ کار شخص کو بھیج دیں اور اس کے ساتھ ایسا لشکر روانہ کریں، جو جنگ کی سختیاں برداشت کرسکے اور اپنے امیر کی نصیحت قبول کرے۔ اگر اللہ تعالیٰ نے فتح دی تو آپ کی یہی آرزو پوری ہوگی۔ لیکن اگر کامیابی نہ ہوئی تو آپ مسلمانوں کی قوت اور مرجع کے اعتبار سے موجود ہوں گے۔

(نہج البلاغہ جلد1 صفحہ 272، طبع مصر عکس صفحہ 144)

حضرت جعفر صادقؒ سے روایت ہے کہ حضرت عثمانؓ کے پاس قبیلہ قیس کا ایک شخص جو کہ غلام تھا، اپنے مالک کے ساتھ آیا اور کہا کہ اے امیر المؤمنین! اس نے میری آنکھ پر چوٹ ماری، جس کی وجہ سے اس کا پانی نکل گیا اور میری نظر ختم ہوگئی۔ حضرت عثمانؓ نے اس سے کہا کہ میں تجھ دیت دلواتا ہوں۔ لیکن اس نے انکار کیا اور کہا کہ میں قصاص لوُں گا۔ حضرت عثمانؓ نے ان کو حضرت علیؓ کی خدمت میں بھیج دیا۔ حضرت علیؓ نے جب ان کی بات سنی تو فرمایا: آپ دیت لے لیں۔ اس نے انکار کیا تو پھر فرمایا کہ آپ دگنی دیت لے سکتے ہیں؟ لیکن وہ نہ مانا اور کہا کہ مجھے صرف قصاص چاہئے حضرت علیؓ نے ایک شیشہ اور سوتی کپڑا طلب فرمایا اور کپڑے کو پانی میں بھگو کر اس (مالک) کی آنکھ کے ارد گرد لپیٹا اور اسے دھوپ میں کھڑا کرکے، اس کو حکم دیا کہ سورج کی طرف دیکھے اور پھر شیشہ اس کے سامنے کیا۔ جس روشنی اور تپش سے اس کی آنکھ کا پانی جل گیا اور نظر ختم ہوگئی۔

(فروع کافی جلد7 صفحہ 319 کتاب الدیات مطبوعہ ایران)

ایران کی فتح کے بعد دوسرے خلیفہ (حضرت عمرؓ) کے زمانے میں دس بزرگ صحابیوں پر ایک کمیشن تشکیل دیا گیا۔ جس میں حضرت علیؓ بھی شامل تھے۔ اس کمیشن کے بعض ارکان کی رائے یہ تھی کہ زمینوں کو سپاہیوں کے درمیان تقسیم کردیا جائے۔ لیکن حضرت علیؓ کی رائے یہ تھی کہ سپاہیوں کے درمیان زمین کی تقسیم کو روکا جائے اور ان کو مسلمانوں کے معاشرہ کے لئے ذریعہ آمدنی کے طور پر رکھا جائے، چنانچہ حضرت علیؓ کی رائے کو قبول کیا گیا۔

(آئین سعادت جلد دوم صفحہ 42،43 ، مطبوعہ ایران دیکھیں عکس صفحہ 428)

 خلیفہ دوم کے زمانے میں سن15 ہجری میں پے درپے فتوحات کے نتیجے میں ساسانی بادشاہوں کے خزانے مسلمانوں کے قبضے میں آگئے۔ خلیفہ وقت مسلمانوں کے ساتھ مشورہ کے لئے بیٹھ گئے۔ تو حضرت علی بن ابی طالب علیہ السلام نے فرمایا: ہر سال وہ تمام مال و متاع جو تمہارے سامنے جمع ہوں انہیں تقسیم کر دو اور اُس میں سے کچھ نہ بچاؤ۔

(آئین سعادت حصہ دوم صفحہ، 46 مطبوعہ ایران عکس صفحہ430)

 مقامِ غور

قارئین کرام! شیعہ فرقہ کی بنیاد ہی صحابہ کرامؓ کی دشمنی اور نفرت پر مبنی ہے۔ یہ لوگ رات دن کوششیں کرتے رہتے ہیں کہ عوام الناس کو صحابہ کرامؓ کے خلاف ایسی بے بنیاد باتیں بتائیں کہ وہ صحابہؓ سے بیزار اور متنفر ہوجائیں۔ یہ سمجھتے ہیں کہ جب لوگ صحابہ کرامؓ سے بیزار ہو جائیں گے، تو پھر ہماری کامیابی ہے اور ہمارے شیعہ مذہب کو جلد ہی قبول کرلیا جائے گا۔ اس مقصد کے لئے یہ لوگ جھوٹے قصے، غلط اور بے بنیاد باتیں اور موضوع روایات لوگوں کو سناتے رہتے ہیں۔ صحابہ کرامؓ کی شان میں بیہودہ بکواس کرتے ہیں اور اس طرح عوام الناس کو گمراہ کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ ان کی غلط باتوں کو ایسے لوگ قبول کرتے ہیں جو بالکل عقل سے کورے اور علم سے بے بہرہ ہوتے ہیں۔

 شیعوں کا عام طور پر کہنا ہے کہ صحابہؓ، اہل بیتؓ کے ساتھ بغض اور حسد رکھتے تھے، اس لے ان کا ایک دوسرے کا ساتھ سلام و کلام ہی نہیں تھا۔ خاص طور پر سیدنا ابوبکرؓ، عمرؓ و عثمانؓ اور سیدہ عائشہ صدیقہؓ تو سیدنا علیؓ اور ان کے اولاد کے سخت دشمن تھے۔ یہ سب باتیں بالکل بے بنیاد اور جھوٹی ہیں۔ کوئی بھی ذی شعور آدمی ایسی باتیں ہرگز قبول نہیں کرسکتا۔ آپ اس باب کی روایات کو انصاف کی نظر سے پڑھیں اور پھر ان میں غور و فکر کریں تو آپ کو یہ حقیقت معلوم ہو جائے گی کہ سیدنا علیؓ اور خلفائے ثلاثہؓ کے درمیان کیسے اچھے تعلقات تھے۔

¹- سیدنا علیؓ المرتضیٰ شرعی اور ملکی مسائل کے حل کرنے میں خلفائے ثلاثہؓ کے چوبیس سال تک مشیر خاص رہے۔

²-خلفائے ثلاثہؓ سیدنا علیؓ کے فیصلے کو عزت کی نظر سے دیکھتے تھے اور اس پر عمل کرتے تھے۔

³-سیدناابوبکر صدیقؓ نے غزوۂ روم کے بابت سیدنا علیؓ سے مشورہ لیا اور مشورہ پر اتفاق کرنے کے بعد نہایت خوش ہوکر فرمایا:

بَشَّرْتَ بِخَیْرٍ اے علیؓ! آپ نے اچھی بشارت دی۔

صفحہ 2 از 3