خلیفہ ثالث سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ اور ان کی اولاد…

خلیفہ ثالث سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ اور ان کی اولاد کی نبی اکرمﷺ اور اہل بیت رضی اللہ عنہم کے ساتھ قرابتیں اور رشتہ داریاں

  علامہ مولانا عبد الرحیم بھٹو

صفحہ 5 از 5

(مکتبہ شیعہ شامل: مسالك الأفهام الشهيد الثاني (8/ 407)

شیعوں کا معتبر عالم ابو الفرج اصفہانی (المتوفی 356ھ) لکھتا ہے:

وأمه فاطمة بنت الحسين كان عبدالله بن عمرو (بن عثمان) تزوجها بعد وفاة الحسن بن الحسن بن علي بن أبي طالب.

(محمد بن عبداللہ بن عمرو بن عثمان کی) والدہ فاطمہ بنتِ حسینؓ ہیں۔ حضرت عبداللہ بن عمرو بن عثمانؓ نے، حضرت حسن مثنیٰ بن حسن بن علی بن ابی طالب کی وفات کے بعد ان کے ساتھ شادی کی تھی۔

(مقاتل الطالبین صفحہ 138، ذکر محمد بن عبداللہ بن عمر و بن عثمان۔ دیکھیں عکس صفحہ 327)

(شیعہ مکتبہ شاملہ: مقاتل الطالبيين (51/1)

شیعوں کا مؤرخ شہیر مرزا محمد تقی سپہر (المتوفی 1297ھ) لکھتا ہے:

فاطمہ دختر امام حسین علیہ السلام بعد از فوت حسن مثنیٰ بحبالۂ نکاح عبداللہ بن عمرو بن عثمان بن عفان در آمد۔

حسن مثنیٰ کی وفات کے بعد فاطمہ بنتِ حسین عبداللہ بن عمرو بن عثمان بن عفان کے نکاح میں آئیں۔

¹- ناسخ التواریخ جلد2صفحہ 333، زندگانی امام حسن مطبوعہ ایران۔ عکس صفحہ 251

²-منتخب التواریخ صفحہ 245، در ذکر سید الشہداء تالیف محمد ہاشم خراسانی مطبوعہ ایران عکس صفحہ 305

چوتھا رشتہ

سیدنا عثمان غنیؓ کے پوتے مروان بن ابان نے سیدنا حسنؓ کی پوتی سے شادی کی

وَکَانَتِ اُمُّ الْقَاسِمِ بِنْتُ الْحَسَنِ بْنِ الْحَسَنِ عِنْدَ مَرْوَانَ بْنِ اَبانِ بْن عُثْماَنَ بْنِ عَفَّانَ فَوَلَدَتْ لَہٗ مُحَمَّدَ بْنَ مَرْوَانَ۔

حضرت حسن مثنیٰ بن امام حسنؓ کی بیٹی ام القاسم مروان بن ابان بن عثمان بن عفانؓ کے نکاح میں تھیں اور ان سے محمد بن مروان پیدا ہوئے۔

(کتاب نسب قریش جلد، 2 صفحہ 53، تذکرہ ام کلثوم بحوالہ جعفریہ جلد 2 صفحہ 208)

پانچواں رشتہ

سیدنا عثمان غنیؓ کے بیٹے ابان کی شادی اُمِ کُلثوم بنت عبداللہ بن جعفر بن ابی طالب کے ساتھ ہوئی

وَکَانَتْ عِنْدَہٗ اُمُّ کُلْثُومِ بِنْتُ عَبْدِ اللہِ بْنِ جَعْفَرٍ۔

اور (ابان بن عثمانؓ کے) نکاح میں اُمِ کُلثوم بنت عبداللہ بن جعفرؓ تھیں۔

(المعارف لابن قتیبہ صفحہ 210، دارلمعارف مصر، بحوالہ تحفہ جعفریہ جلد2 صفحہ 211)

چھٹا رشتہ

 سیدنا حسنؓ اور سیدنا حسینؓ سیدنا عثمان غنیؓ کے داماد تھے۔

شیعوں کا محدث ابن شہر آشوب (المتوفی 588ھ) لکھتا ہے:

 فذكره الحسين علیہ السلام خطبة الحسن عائشة وفعله

حضرت حسینؓ نے عائشہ بنت عثمان کا رشتہ حضرت حسنؓ کے لئے مانگا تو وہ رشتہ ہوگیا۔

(مناقب آل ابی طالب جلد4صفحہ 39، مطبوعہ قم ایران)

ثم انہ کان الحسين تزوج بعائشة بنت عثمان 

پھر (حضرت امام حسنؓ کی وفات کے بعد) حضرت سیدنا حسینؓ نے، حضرت عثمانؓ کی صاحبزادی عائشہؒ سے شادی کی۔

(مناقب آل ابی طالب جلد4صفحہ40، مطبوعہ قم ایران)

خلاصہ کلام

اس باب سے مندرجہ ذیل باتیں ثابت ہوتی ہیں:

¹-سیدنا عثمان غنیؓ حضورﷺ کے داماد تھے۔ ان کے نکاح میں نبی کریمﷺ کی دو بیٹیاں تھیں۔

²-شیعوں کی کتابوں سے ثابت ہے کہ سیدنا عثمانؓ کا لقب ذُوالنُورین ہے۔

³-سیدنا عثمانؓ واحد شخص ہیں، جن کے نکاح میں رسول اللہﷺ کی دو بیٹیاں یکے بعد دیگرے آئیں۔ یہ سعادت سیدنا عثمانؓ کو ہی ملی۔ آپ کے سوا کوئی بھی دنیا میں ایسا شخص نہیں گذرا جس کو یہ سعادت نصیب ہوئی ہو۔

⁴-سیدناعثمانؓ کا سلسلہ نسب رسول اللہﷺ اور سیدنا علیؓ کے ساتھ تیسری پشت میں عبد مناف پر ملتا ہے۔

⁵-سیدنا عثمانؓ کے پوتے عبداللہ بن عمرو بن عثمانؓ،سیدنا حسینؓ کے داماد ہیں۔

⁶-سیدنا عثمانؓ کے بیٹے سیّدنا عبداللہؓ نے سیدنا حسینؓ کی بیٹی سیدہ سکینہ سے شادی کی۔

⁷-سیدنا عثمان غنیؓ کے بیٹے سیدنا ابان نے اُمِ کُلثوم کلثوم بنت عبداللہ بن جعفر طیارؓ بن ابی طالب (یعنی سیدنا جعفر طیارؓ کی پوتی اور سیدنا علیؓ کے بھتیجے کی بیٹی،کے ساتھ نکاح کیا۔

⁸-سیدنا عثمان غنیؓ کے پوتے مروان بن ابان بن عثمان بن عفان نے سیدنا حسنؓ کی پوتی اُمِ القاسم سے شادی کی، جن سے محمد بن مروان بن ابان پیدا ہوئے۔

⁹-سیدناحسنؓ اور سیدنا حسینؓ سیدنا عثمانؓ کے داماد ہیں۔ اس سے ثابت ہو اکہ سیدنا عثمانؓ اور ان کی اولاد کے ساتھ اہلِ بیت کا رشتہ ہے اور یہ رشتے میں ایک دوسرے کے بالکل قریب ہیں اور ان کے باہمی قرابت کے بہترین تعلقات تھے۔ یہ سب باتیں ہم نے کتب شیعہ سے بدلائل ثابت کی ہیں۔ اس کے بعد انکار کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ اب بھی اگر کوئی نہیں مانے تو وہ صرف ضد اور عناد کی وجہ سے انکار کرتا ہے۔ حقیقت سے اس کا کوئی تعلق نہیں۔


صفحہ 5 از 5