خلیفہ ثالث سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ اور ان کی اولاد…

خلیفہ ثالث سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ اور ان کی اولاد کی نبی اکرمﷺ اور اہل بیت رضی اللہ عنہم کے ساتھ قرابتیں اور رشتہ داریاں

  علامہ مولانا عبد الرحیم بھٹو

صفحہ 4 از 5

بیشک حضرت عثمانؓ نے حبشہ کی طرف ہجرت کی تھی، ان کے ساتھ حضرت رقیہؓ بھی تھیں اور رقیہؓ کی وفات کے بعد حضرت ام کلثومؓ سے بھی حضرت عثمانؓ نے نکاح کیا اور ان ہی کے نکاح میں ام کلثومؓ کی وفات ہوئی۔

¹- الانوار النعمانیہ جلد1 صفحہ 367، نور فی مولود النبیؐ طبع تبریزی ایران عکس صفحہ 240

²-اعلام الوریٰ صفحہ 140، ذکر ازواج النبی واولادہ مطبوعہ ایران عکس صفحہ227

(شیعہ مکتبہ شاملہ: اعلام الورى بأعلام الهدى (1/ 218)

(بحار الأنوار - العلامة المجلسي (22/ 202، بترقيم الشاملة آليا)

سیدنا عثمان غنیؓ کو ذُو النّورین کیوں کہتے ہیں؟

کُتبِ شیعہ سے وضاحت

شارح نہج البلاغہ ابن ابی الحدید شیعی (المتوفی 656ھ) رقمطراز ہے:

قال شيخنا أبو عثمان و لما ماتت الابنتان تحت عثمان قال النبي ص لأصحابه ما تنتظرون بعثمان أ لا أبو أيم أ لا أخو أيم زوجته ابنتين و لو أن عندي ثالثة لفعلت قال و لذلك سمي ذا النورين

ہمارے شیخ ابو عثمان فرماتے ہیں کہ جب حضرت عثمانؓ کے نکاح میں یکے بعد دیگرے آنے والی دونوں صاحبزادیوں کا انتقال ہوگیا تو حضرت رسول اللہﷺ نے صحابہ کرامؓ سے ارشاد فرمایا: ”کیا تم عثمان کو رنڈوا سمجھتے ہو؟ میں نے اپنی دو (2) بیٹیاں اس کے نکاح میں دیں۔ اگر میری تیسری بیٹی ہوتی، تو میں وہ بھی عثمانؓ کے نکاح میں دے دیتا“ راوی کہتا ہے کہ اِسی لئے حضرت عثمانؓ کو ذوالنورین کہا جاتا ہے۔

(ابن ابی الحدید شرح نہج البلاغہ جلد2 صفحہ 460، المفاضلۃ بین بنی عبدالشمس و بنو ہاشم)

(شیعہ مکتبہ شاملہ: شرح نهج البلاغة - ابن ابي الحديد (/ 2)

شیعوں کی مؤرخ شہیر مرزا محمد تقی سپہر (المتوفی 1297ھ) رقمطراز ہے:

رقیہ با عثمان بحبشہ ہجرت کرد وچوں درمدینہ آمدہ و داع جہان گفت عثمان بعد از او ام کلثوم را عقد بست و از این روئے عثمان را ذوالنورین گفتند 

حضرت رقیہؓ نے حضرت عثمانؓ کے ساتھ حبشہ کی طرف ہجرت کی اور جب وہ مدینہ منورہ پہنچیں تو انتقال کرگئیں۔ اس کے بعد حضرت عثمانؓ نے اُمِ کُلثومؓ کے ساتھ نکاح کیا۔ یہی وجہ ہے کہ حضرت عثمانؓ کو ذوالنورین کہتے ہیں۔

(ناسخ التوریخ جلد3 صفحہ 338، آمدن در سرائے محمد صلی اللہ علیہ وسلم مطبوعہ ایران۔

شیعوں کا رکن الاسلام شیخ محمد ہاشم خراسانی مشہدی (المتوفی 1352ھ) لکھتا ہے:

واما مخدرہ مکرمہ ام کلثوم اسم شریفش آمنہ بود و بعد از رقیہ بعثمان تزویج شد، لہٰذا عثمان را”ذوالنورین“ می گویند۔

اور یہ پردہ نشین مکرمہ اُمِ کلثومؓ جن کا اسمِ مبارک آمنہؓ تھا، رقیہ کی وفات کے بعد حضرت عثمانؓ کے نکاح میں آئیں۔ یہی وجہ ہے کہ ان کو ذوالنورین کہا جاتا ہے۔

(منتخب التواریخ صفحہ 29، حالات ازواج و اولاد پیغمبر مطبوعہ ایران)

سیدنا عثمانؓ کا نسبی تعلق نبی اکرم ﷺاور سیدنا علیؓ سے تیسری پشت میں عبد مناف سے ملتا ہے۔

حضورﷺ کا سلسلۂ نسب:

 محمدﷺ بن عبداللہ بن عبدالمطلب بن ہاشم

بن عبد مناف الخ

سیدنا علیؓ کا سلسلۂ نسب:

 علی بن ابی طالب بن عبد المطلب بن ہاشم بن عبد مناف الخ

سیدنا عثمان بن عفانؓ کا سلسلۂ نسب:

عثمان بن عفان بن ابی العاص بن امیّہ بن عبدالشمس بن عبد مناف نسب اور بارسول خدای در عبد مناف پیوستہ شود۔

عثمان بن عفان بن ابی العاص بن امیہ بن عبد الشمس بن عبد مناف ان کا نسب رسول اللہﷺ کے ساتھ عبد مناف سے ملتا ہے۔

¹-فیض الاسلام شرح نہج البلاغہ صفحہ 528، مطبوعہ ایران عکس صفحہ 157

²-ناسخ التواریخ جلد3، صفحہ 88، مطبوعہ ایران۔

دوسرا رشتہ

سیدنا عثمان غنیؓ کے بیٹے عبداللہ بن عثمان بن عفانؓ نے سیدنا حسینؓ کی بیٹی سکینہ سے شادی کی

شیعوں کا رُکنُ الاسلام شیخ محمد ہاشم خراسانی مشہدی (المتوفی 1352ھ) لکھتا ہے:

 واز اغانی ابو الفرج نقل شد کہ شوہر اول سکینہ جناب عبداللہ بن الحسن المجتبیٰ (ع) بود قال فقتل عنہا ولم یلد لہٗ و بعد از آنکہ آن بزرگوار روزِ عاشورا شہید شد، مصعب بن زبیر بن عوام آن مخدرہ را تزویج نمود و در حبیب الیسر است کہ بعد از مصعب زوجۂ عبداللہ بن عثمان بن عفان شد۔

کتاب الاغانی سے نقل کیا گیا ہے کہ سکینہ کے پہلے شوہر حضرت عبداللہ بن حسن مجتبیٰ (ع) تھے۔ اس کے بعد لکھتا ہے کہ پس وہ شہید ہوگئے۔ بی بی سکینہ سے اُن کی کوئی اولاد نہیں ہوئی۔ جب وہ بزرگ عاشورا کے دن شہید ہوئے تو مصعب بن زبیر بن عوام نے اس بی بی سے شادی کرلی۔ کتاب حبیب الیسر میں لکھا ہے کہ مصعب کے بعد یہ بی بی حضرت عبداللہ بن عثمان بن عفان کے نکاح میں آئیں۔

(منتخب التواریخ صفحہ 246، باب پنجم در ذکر اولاد سید الشہدآء دیکھیں عکس صفحہ 306)

تیسرا رشتہ

سیدنا عثمان غنیؓ کے پوتے عبداللہ بن عمر و بن عثمانؓ نے سیدنا حسینؓ کی بیٹی سیدہ فاطمہؓ سے شادی کی

ابن ابی الحدید شیعی (المتوفی 656ھ) شرح نہج البلاغہ جلد15صفحہ 195 مناکحات بنی ہاشم و بنی عبدالشمس مطبوعہ بیروت میں لکھتا ہے:

تزوج عبد الله بن عمرو بن عثمان فاطمة بنت الحسين بن علي بن أبي طالب

عبد اللہ بن عمرو بن عثمانؓ نے حضرت حسین بن علی بن ابی طالب کی صاحبزادی سیدہظ فاطمہ بنتِ حسینؓ سے شادی کی۔

(شیعہ مکتبہ شاملہ: شرح نهج البلاغة - ابن ابي الحديد 1)

شیعوں کا شہید ثانی زین الدین (المتوفی 977ھ) شرح شرائع الاسلام میں بعض نکاحوں کا ذکر کرتے ہوئے لکھتا ہے:

زوج النبي صلى الله عليه وآله وسلم ابنته عثمان، وزوج ابنته زينب بأبي العاص بن الربيع (3)، وليسا من بني هاشم. وكذلك زوج على عليه السلام ابنته ام كلثوم من عمر (4)، وتزوج عبد الله بن عمرو بن عثمان فاطمة بنت الحسين عليه السلام (5)، وتزوج مصعب بن الزبير أختها سكينة (6)، وكلهم من غير بني هاشم

نبی اکرم ﷺ نے اپنی بیٹی کا نکاح حضرت عثمانؓ سے کیا۔ اور ابو العاص بن الربیعؓ کو اپنی صاحبزادی زینب نکاح میں دی یہ دونوں بنوہاشم میں سے نہیں تھے۔ اور اسی طرح حضرت علیؓ نے اپنی صاحبزادی ام کلثوم کا نکاح حضرت عمرؓ سے کیا اور عبداللہ بن عمرو بن عثمانؓ نے حضرت فاطمہ بنت حسین سے شادی کی اور مصعب بن زبیرؓ نے اس کی بہن سکینہ بنتِ حسینؓ سے شادی کی۔ یہ سب بنوہاشم میں سے نہیں تھے۔

(مسالک الافہام فی شرح شرائع الاسلام صفحہ 398 ، فی الواحق العقد۔ ایران عکس صفحہ 340)

صفحہ 4 از 5