خلیفہ ثالث سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ اور ان کی اولاد…

خلیفہ ثالث سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ اور ان کی اولاد کی نبی اکرمﷺ اور اہل بیت رضی اللہ عنہم کے ساتھ قرابتیں اور رشتہ داریاں

  علامہ مولانا عبد الرحیم بھٹو

صفحہ 3 از 5

وہ کہتا ہے کہ مجھ سے مسعد بن صدقہ نے بیان کیا کہ حضرت جعفر صادقؒ اپنے والد محمد باقر سے روایت کرتے ہیں کہ حضورﷺ کی زوجہ مطہرہ خدیجہؓ سے قاسم، طاہر، ام کلثوم، رقیہ، فاطمہ اور زینبؓ پیدا ہوئے۔ فاطمہ کی شادی حضرت علیؓ کے ساتھ ہوئی اور زینبؓ کا نکاح حضرت ابوالعاص سے ہوا اور ام کلثومؓ کا نکاح حضرت عثمان بن عفانؓ سے ہوا۔ رخصتی سے پہلے ان کا انتقال ہوگیا تو پھر رسول اللہﷺ نے رقیہؓ کا نکاح (بھی) حضرت عثمانؓ کے ساتھ کردیا۔

(قرب الاسناد صفحہ 6،7مطبوعہ ایران ملاحظہ فرمائیں عکس صفحہ 197

شیعوں کا شیخ عبداللہ مامقانی ماہر فن ااسمآء الرجال (المتوفی 1351ھ) نے بحوالہ قرب الاسناد، اِسی سند کے ساتھ یہی روایت اپنی کتاب تنقیح المقال جلد3 صفحہ 73، منْ فَصْلِ النسآء میں بطور دلیل پیش کیا ہے۔

شیعوں کے ثقۃ المحدیثین ناصر الملۃ والدین شیخ عباس قمی (المتوفی 1359ھ) نے قرب الاسناد کے حوالہ سے یہی روایت منتہی الآمال جلد1 صفحہ108، فصل ہشتم دربیان احوال اولاد آنحضرت، مطبوعہ ایران میں بھی بطور دلیل پیش کی ہے۔ دیکھیں عکس صفحہ355

شیعوں کے بزرگ محدث باقر مجلسی (المتوفی 1111ھ) نے یہی روایت حیات القلوب جلد2، صفحہ588باب پنجاہ ویکم مطبوعہ ایران اور بحار الانوار جلد22 صفحہ 151 باب عدد اولادہ علیہ السلام مطبوعہ بیروت میں بھی بطور دلیل بیان کی ہے۔ ملاحظہ فرمائیں عکس حیات القلوب صفحہ 310 اور عکس بحار الانوار صفحہ 211

یہ ایسی مظبوط اور صحیح روایت ہے، جس کے تمام راوی شیعہ اور ان کے نزدیک ثقہ ہیں بوجہ طوالت ان روایات پر بحث نہیں کرتے:

شیعوں کا رئیس المحدثین صدوق قمی (المتوفی 371ھ) روایت کرتا ہے:

عن أبي عبد الله عليه السلام قال : ولد لرسول الله صلى الله عليه وآله من خديجة القاسم والطاهر وهو عبد الله ، وأم كلثوم ، ورقية ، وزينب ، وفاطمة . وتزوج علي ابن أبي طالب عليه السلام فاطمة عليها السلام ، وتزوج أبوالعاص بن الربيع وهو رجل من بني امية زينب ، وتزوج عثمان بن عفان ام كلثوم فماتت ولم يدخل بها ، فلما ساروا إلى بدر زوجه رسول الله صلى الله عليه وآله رقية . وولد لرسول الله صلى الله عليه وآله إبراهيم من مارية القبطية

حضرت جعفر صادقؒ سے روایت ہے کہ حضرت خدیجہؓ سے رسول اللہﷺ سے (دو بیٹے)قاسم اور طاہر جسے عبداللہ بھی کہتے ہیں اور چار بیٹیاں ام کلثومؓ، رقیہؓ، زینبؓ اور فاطمہؓ پیدا ہوئیں۔ ان میں سے فاطمہؓ کا نکاح حضرت علیؓ سے ہوا اور زینبؓ کا نکاح حضرت ابوالعاصؓ بن ربیع سے ہوا جو کہ بنو امیّہ میں سے ہے اور حضرت ام کلثومؓ کا نکاح حضرت عثمانؓ سے ہوا۔ رخصتی سے پہلے ان کا انتقال ہوا تو رسول اللہ ﷺ بدر کے موقعہ پر حضرت رقیہؓ کا نکاح حضرت عثمانؓ کے ساتھ کردیا اور حضرت ماریہ قبطیہؓ سے رسول اللہﷺ کے صاحبزادے حضرت ابراہیمؓ پیدا ہوئے۔

دیکھیں خصال شیخ صدوق جلد1 صفحہ 167، حدیث 67 ”کاَنَ لِرَسُوْلِ اللہِ سَبْعَۃ اَوْلاَدٍ“ عکس صفحہ 206

(مکتبہ شیعہ شاملہ: الخصال 1/ 418)

شیعوں کا شہید ثالث قاضی نور اللہ شوستری ( المتوفی 1019ھ) لکھتا ہے:

اگر نبی دختر بہ عثمان داد، ولی دختر بعمر فرستاد

اگر نبی اکرمﷺ نے اپنی صاحبزادی حضرت عثمانؓ کو دی ہے تو حضرت علیؓ نے اپنی صاحبزادی حضرت عمرؓ کو دی ہے۔

(مجالس المؤمنین جلد1 صفحہ 204، مطبوعہ ایران۔ دیکھیں عکس صفحہ352)

شیعوں کے شیخ الطائفہ ابوجعفر طوسی (المتوفی 460ھ اور شیخ حر العاملی (المتوفی 1104ھ) لکھتے ہیں:

قد زوج رسول الله صلى الله عليه وآله أبا العاص ابن الربيع وعثمان بن عفان، وتزوج عايشة وحفصة وغيرهما۔

تحقیق رسول اللہﷺ نے عثمان بن عفانؓ اور ابوالعاص

¹-رجال کشی صفحہ 142، تذکرہ رزارہ بن اعین مطبوعہ نجف دیکھیں عکس 274

²-وسائل الشیعہ جلد2صفحہ433، مطبوعہ بیروت لبنان

(مکتبہ شیعہ شاملہ: رجال الكشي 1)

شیعوں کا مؤرخ شہیر مرزا محمد تقی سپہر (المتوفی 1297ھ) لکھتا ہے:

عثمان را در روزگار جاہلیت و اسلام ہشت زن بحبالہ نکاح در آمد، ازیں جملہ دو تن دخترانِ رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم بودند، یکی رقیہ و آں دیگر ام کلثوم۔

زمانہ جاہلیت اور اسلام میں حضرت عثمانؓ کے نکاح میں آٹھ (8) عورتیں آئیں ہیں۔ ان میں سے دو خواتین رسول اللہﷺ کی دو صاحبزادیاں تھیں۔ ایک رقیہؓ اور دوسری ام کلثومؓ۔

(ملاحظہ فرمائیں ناسخ التواریخ، جلد3 صفحہ 268، ذکر ازواج و اولاد عثمانؓ طبع ایران عکس صفحہ 259)

شیعوں کی معتبر و مستند کتاب، نہج البلاغہ میں ہے کہ حضرت علی المرتضیٰؓ نے حضرت عثمانؓ سے فرمایا:

اَنْتَ اَقْرَبُ اِلیٰ رَسُولِ اللھِ صَلّی اللھ علیہ وسلم وَشِیْجَۃَ رَحِمٍ مِنْہُمَا وَقَدْ نَلْتَ مِنْ صِھْرِھ مَالَمْ یَنَالَا۔

(عثمان!) آپ رشتہ میں رسول اللہﷺ سے ان دونوں (ابوبکرؓ و عمرؓ) سے زیادہ قریب ہیں تمہیں رسول اللہﷺسے دامادی کا شرف حاصل ہے، جو کہ ان دونوں کو حاصل نہیں۔

(نہج البلاغہ جلد1 صفحہ 322، مطبوعہ مصر دیکھیں عکس 145

مفسر القرآن ابو علی الفضل بن حسن طبرسی شیعہ (المتوفی 548ھ) اور باقر مجلسی (المتوفی1111ھ) لکھتے ہیں:

فخرج إليها سرا أحد عشر رجلا و أربع نسوة و هم عثمان بن عفان و امرأته رقية بنت رسول الله

حبشہ کی طرف چھپ کر ہجرت کرکے جانے والے گیارہ مرد اور چار عورتیں تھیں، جن میں حضرت عثمان بن عفانؓ اور ان کی بیوی رقیہ بنت رسول اللہﷺ بھی تھیں۔

¹-تفسیر مجمع البیان جلد3صفحہ 233، مطبوعہ قم ایران دیکھیں عکس صفحہ 348

²-بحار الانوار جلد18صفحہ 412، تاریخ بنینا علیہ السلام بیروت

(شیعہ مکتبہ شاملہ: تفسير مجمع البيان - الطبرسي (3/ 359، بترقيم الشاملة آليا)

(شیعہ مکتبہ شاملہ: بحار الأنوار - العلامة المجلسي (18/ 412، بترقيم الشاملة آليا)

شیعوں کے محدث سید نعمت اللہ الجزائری (المتوفی 1112ھ) اور ابوعلی الفضل بن حسن طبرسی (المتوفی 548ھ) لکھتے ہیں:

وقد كان عثمان هاجر إلى الحبشة ومعه رقيّة. وأمّا اُم كلثوم فتزوّجها أيضاً عثمان بعد اُختها رقيّة وتوفيّت عنده.

صفحہ 3 از 5